Ruh-ul-Quran - Saad : 57
هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ
ھٰذَا ۙ : یہ فَلْيَذُوْقُوْهُ : پس اس کو چکھو تم حَمِيْمٌ : کھولتا ہوا پانی وَّغَسَّاقٌ : اور پیپ
یہ ہے (اصل آرام گاہ، لیکن اب) وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو
ھٰذَا لا فَلْیَذُوْقُوْہُ حَمِیْمٌ وَّغَسَّاقٌ۔ وَّاٰخَرُمِنْ شَکْلِہٖ اَزْوَاجٌ۔ (صٓ: 57، 58) یہ ہے (اصل آرام گاہ، لیکن اب) وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو۔ اور اسی قبیل کی دوسری چیزوں کا۔ ) معلوم ہوتا ہے کہ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے پہلے ابتدائی مہمانی کے طور پر ان چیزوں کے چکھنے کا حکم دیا جائے گا، یعنی انھیں سیر ہو کر کھانا جہنم کے اندر ملے گا، لیکن ابھی نُزُلیعنی اولین مہمانی کے طور پر حمیم اور غساق کا مزہ چکھو۔ جس طرح گھر میں آنے والے مہمان کو ابتدائی مہمانی کے طور پر کوئی ٹھنڈا یا گرم مشروب اور ان کے لوازمات میں سے کچھ کھانے کو دیا جاتا ہے، لیکن اصل کھانا کھانے کے وقت پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تعریض کے انداز میں ان کی مہمانی کی جارہی ہے کہ جہنم میں تمہارے ساتھ کیا گزرتی ہے، یہ تو وہاں جا کر اندازہ ہوجائے گا، لیکن اس کا کچھ اندازہ ابھی سے کرلو، کہ تمہیں چکھنے یعنی کھانے اور پینے کو حمیم اور غساق دیا گیا ہے۔ حمیم ایسے کھولتے ہوئے پانی کو کہتے ہیں جس سے انتڑیاں جل اٹھتی ہیں اور غساق اگرچہ اہل لغت کے نزدیک انتہائی سرد چیز اور انتہائی بدبودار چیز پر بھی بولا جاتا ہے، لیکن اس کا معروف معنی پیپ، لہو یا کچ لہو ہے جو زخمی جسم سے بہتا ہے۔ اندازہ کیجیے کہ ان کی اولین مہمانی ہی کس قدر تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوگی۔ مزید فرمایا کہ ان دو چیزوں کا نام تو ضروری تعارف کے لیے دیا گیا ہے۔ اسی قبیل کی دوسری مختلف النوع نفرت انگیز چیزیں بھی ہوں گی جو ذکر کے لائق نہیں۔ لیکن انھیں ان سے بھی واسطہ پڑے گا۔
Top