Tafseer-e-Baghwi - Saad : 57
هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ
ھٰذَا ۙ : یہ فَلْيَذُوْقُوْهُ : پس اس کو چکھو تم حَمِيْمٌ : کھولتا ہوا پانی وَّغَسَّاقٌ : اور پیپ
یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (ہے) اب اس کے مزے چکھیں
57، ھذا، یہ عذاب ہے۔ ، فلیذوقوہ حمیم وغساق، یہ گرم کھولتا ہواپانی اور پیپ ہے۔ لہٰذا تم اسی سے مزہ چکھو۔ نعیم گرم پانی کو کہاجاتا ہے جس کو آخری حدتک گرم کیا ہو۔ حمزہ ، کسائی اور حفص نے کہا (غساق) تشدید کے معنی میں ہے اور دوسرے قراء نے بغیر تشدید کے پڑھا ہے۔ جن حضرات نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہو تو وہ اس کو اسم فعال کے وزن پر لیتے ہیں جیسے خباز اور طباخ ہے اور جنہوں نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے کہ اس صورت میں فعال کا اسم ہوگا جیسے عذاب ، غساق کے معنی میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، ایسی برفیلی سخت ٹھنڈک جو اس طرح دوزخیوں کو جلادے گی جس طرح آگ اپنی گرمی سے جلائے گی۔ مقاتل اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے کہ جس کی ٹھنڈک انتہاکوپہنچ جائے۔ بعض نے کہا کہ یہ ترکی زبان کا لفظ ہے اور ترکی زبان میں غساق انتہائی بدبودارچیز کو کہتے ہیں ۔ قتادہ نے کہا کہ غساق کا معنی ہے صباب یعنی سیال، یہاں مراد پیپ اور کچا خون جو دوز خیوں کی کھال اور گوشت اور زانیوں کی شرمگاہوں سے بہے گا۔
Top