Mafhoom-ul-Quran - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں، خدائے واحد اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں۔
رسول اللہ ﷺ جو بھی کہتے ہیں وحی کے مطابق کہتے ہیں تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ آچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو از خود غیب کی باتوں کا علم نہیں رکھتے بلکہ اللہ وحدہ لا شریک کی نازل کردہ وحی کے مطابق گفتگو کرتے تھے۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے سب کچھ جانتا ہے اسی لیے لوگوں کو اس ہولناک دن یعنی قیامت سے ڈرانے کا حکم آپ کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ غفور رحیم ہے اس لیے آنے والے مشکل وقت کی سختی سے بچنے کی تیاری کے لیے بار بار کہا گیا ہے۔ اسی لیے تو سیدنا محمد ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہ ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں “۔
Top