Ruh-ul-Quran - Saad : 76
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
اس نے جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو آپ نے مٹی سے پیدا کیا
قَالَ اَنَا خَیْرٌمِّنْہُ ط خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ۔ (صٓ: 76) (اس نے جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو آپ نے مٹی سے پیدا کیا۔ ) ابلیس کی فکری کجی ابلیس نے جواب دیا کہ میرے سجدہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں اس سے بہتر اور برتر ہوں۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے، اور آگ مٹی سے افضل ہے۔ کیونکہ آگ کی سرشت میں بلندی کی طرف اٹھنا اور پرواز کرنا ہے۔ اور مٹی کی فطرت میں پستی کی طرف گرنا ہے۔ تو بلندی پستی کے سامنے کیسے جھک سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ ابلیس نے اپنی برتری کی بنیاد صفات پر نہیں بلکہ صرف نسب اور خاندان پر رکھی ہے۔ حالانکہ برتری صفات سے ملتی ہے، نسب اور خاندان سے نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے اگر اپنی قدرت سے مٹی کے ایک لوندے سے اپنا ایک شاہکار تیار کردیا تو اس کا اس لیے انکار کردیا جائے کہ وہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ غلط بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اور یہی وہ منطق ہے جو اشرافِ قریش نبی کریم ﷺ اور آپ کے غریب ساتھیوں کے مقابلے میں پیش کرتے تھے کہ اگر نبوت کے لیے کسی کو منتخب کرنا ہی تھا تو ہم میں سے کسی کو منتخب کیا جاتا۔ محمد ﷺ جیسا بےمایہ آدمی کس طرح اس کا سزاوار ہوسکتا ہے۔ اور اب اگر وہ یہ دعویٰ کررہا ہے تو ہم اسے کیسے تسلیم کرسکتے ہیں۔
Top