Ruh-ul-Quran - Saad : 77
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ
قَالَ : اس نے فرمایا فَاخْرُجْ : پس نکل جا مِنْهَا : یہاں سے فَاِنَّكَ : کیونکہ تو رَجِيْمٌ : راندہ درگاہ
حکم ہوا : تو یہاں سے نکل جا، بیشک تو مردود ہے
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّـکَ رَجِیْمٌ۔ وَّاِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْٓ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ (صٓ: 77، 78) (حکم ہوا، تو یہاں سے نکل جا، بیشک تو مردود ہے۔ اور بیشک تیرے اوپر جزاء کے دن تک میری لعنت ہے۔ ) رجیم کا معنی مردود، پھینکا ہوا اور دھتکارا ہوا کیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے سورة الاعراف میں اسی مفہوم کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ فَاخْرُجْ اِنَّـک مِنَ الصَّاغِرِیْنَ ” پس نکل جا، تو ذلیل ہستیوں میں سے ہے۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس کے مردود ہونے میں ذلیل ہونا بھی شامل ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ملے جو ابلیس کو برا نہ کہتا ہو اور اس سے نفرت نہ کرتا ہو۔ سوال یہ ہے کہ ابلیس کو کہاں سے نکلنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بعض اہل علم نے بات کو لپیٹتے ہوئے کہا کہ جس جگہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اور جہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کے آگے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا اور جہاں ابلیس نے حکم سے سرتابی کی، وہی جگہ مراد ہے۔ لیکن اکثر آئمہ تفسیر اس سے جنت مراد لیتے ہیں کہ اس سے پہلے یہ فرشتوں کے ساتھ جنت ہی میں رہتا تھا، پھر وہاں سے اسے نکال دیا گیا۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ یوم الجزاء تک تجھ پر میری لعنت ہوگی، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یوم الجزاء کے بعد اس پر لعنت نہ ہوگی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوم الجزاء تک تو اس پر لعنت اس حکم عدولی کی وجہ سے ہوگی جو اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرکے کی ہے اور اس کے بعد وہ اپنے ان کرتوتوں کی سزا بھگتے گا جو تخلیقِ آدم کے وقت سے لے کر قیامت تک اس سے سرزد ہوں گے۔
Top