Urwatul-Wusqaa - Saad : 52
وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ
وَعِنْدَهُمْ : اور ان کے پاس قٰصِرٰتُ : نیچے رکھنے والیاں الطَّرْفِ : نگاہ اَتْرَابٌ : ہم عمر
اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی (باحیا) ہم سن بیویاں ہوں گی
ان کے پاس نیچی نگاہوں والی ہم سن بیویاں ہوں گی 52۔ دنیوی زندگی میں مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر کامل انسان نہیں کہلا سکتے خواہ دنیا کی راحت و سامان کتنا اور کیسا ہو اور پھر جو مرد اور عورت شرعی لحاظ سے ایک دوسرے کے شریک زندگی ہونے کا عہد کرتے ہیں اس عہد کی پابندی لازم و ضروری ہوجاتی ہے اگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی خیانت کرے گا تو وہ مستوجب سزا ہوگا اور دونوں ہی کا سکون بھی اس سے برباد ہوگا اس لیے ایک نیک خصال عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کی فرمانبردار اور اس کے دل کو موہ لینے والی ہو اور اس کی ساری نسوانی عادات و خصائل اپنے خاوند کے لیے مختص ہوجائیں اور اس طرح مرد کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی ناز و ادا کا احترام کرتے ہوئے اس کے معاملات میں اس کے شریک زندگی ہونے کا پورا پورا ثبوت فراہم کرے۔ عورت کے ناز وادا میں اس کی نگاہوں کا نیچا رہنا اور اپنی نظر شفقت کو خاوند کے لیے خاص کردینا ہی ( قاصرات الطرف) ہے۔ اس طرح عورت کی الھڑ جوانی یعنی 17 ، 18 سال کی عمر کی دوشیزہ تو خاوند کے لیے زیادہ ہی جازب نظر اور جاذب طبع ہوتی ہے اور ایسا عمروں کا توافق اور ایک دوسرے کا پورا پورا احترام اور ایک دوسرے کی خواہش کا پاس اس میں واقعی ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ زیر نظر آیت کے الفاظ انہی باتوں کے توافق و مطابقت کا تقاضا کرتے ہیں اور اس دنیوی خواہش کے پیش نظر آخرت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بھی ان الفاظ میں پیش کیا گیا جو فطرت کے عین تقاضوں کے مطابق ہے۔
Top