Urwatul-Wusqaa - Saad : 50
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ
جَنّٰتِ : باغات عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے مُّفَتَّحَةً : کھلے ہوئے لَّهُمُ : ان کے لیے الْاَبْوَابُ : دروازے
ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں
ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں 50۔ گز شتہ آیات میں جن انبیاء ورسل کا بیان تفصیل سے یا بطور نام گزرا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو سدا بہار باغات میں ہوں گے اور ان کے لیے وہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی اور ان پر انعامات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوں گے ان کی دنیوی زندگی کی پاکیزگی کا نتیجہ ان کو اخروی زندگی میں دیا جائے گا کیونکہ اخروی زندگی دراصل دنیوی زندگی کا نتیجہ ہے کیونکہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء ہے۔ چونکہ انہوں نے دنیاوی زندگی احکام الہٰی کی پابندی کے ساتھ گزاری اور پیغاماتِ الہٰی لوگوں تک پہنچائے اب در الجزاء میں ان کے لیے کوئی روک روکاوٹ نہیں ہوگی اور ان کی چاہت کے سارے سامان وہاں موجود ہوں گے اور چاہت کو پورا کرنے کے لیے ان کو کوئی عمل نہیں کرنا ہوگا بس ان کو خواہش پیدا ہوئی کہ اس کے ازالہ کے لیے وہ چیز حاضر باش ہوگئی لیکن وہاں چاہت کیسی ہوگئی ؟ اس کا علم اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے پاس ہے اس دنیا میں رہنے والا انسان جب تک اس دنیا میں موجود ہے اخروی چاہت کے متعلق وہ کچھ بیان نیں و کرسکتا کہ وہ مشاہدہ کی چیز نہیں ہے اور وہم و خیال میں وہی چیز آسکتی ہے جس کو آنکھ نے مشاہدہ کیا ہو اس لیے یہ معاملہ ایمان بالغیب کا ہے اور اس کا بیان اگر کچھ ممکن ہے تو انہی چیزوں کی مشابہت سے ممکن ہے جو اس دارالعمل میں ہمارے مشاہدے میں آرہی ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں خروی انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اور انہی چیزوں کی مشابہت سے کیا گیا ہے یا زیادہ سے زیادہ اس کو لذت الاعین یا قرۃ العین کہا گیا ہے اور اس کو ہم نے تکمیل خواہشات کا نام دیا ہے۔
Top