32. As-Sajdaالسجدة
The Prostration · Meccan · 30 ayahs · 3 rukus · ڈاکٹر اسرار احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓۚ﴿1﴾
الف لام میم۔تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿2﴾
اس کتاب کا اتاراجانا اس میں کوئی شک نہیں تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ﴿3﴾
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے خود گھڑ لیا ہے ؟ (نہیں !) بلکہ یہ حق ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں اس قوم کو جس کے پاس آپ ﷺ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پائیںاَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ﴿4﴾
اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے چھ دنوں میں پھر وہ متمکنّ ہوا عرش (تخت حکومت) پر نہیں ہے تمہارے لیے اس کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے !یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ﴿5﴾
وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف پھر وہ (امر) چڑھتا ہے اس کی طرف (یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہےذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ﴿6﴾
وہ جاننے والا ہے ہر چھپی اور ظاہری چیز کا وہ بہت زبردست ہے نہایت رحم فرمانے والاالَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ﴿7﴾
جس نے جو شے بھی بنائی بہت خوبصورت انداز میں بنائی اور اس نے آغاز کیا انسان کی تخلیق کا گارے سےثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ﴿8﴾
پھر اس کی نسل چلائی ایک بےقدر پانی کے خلاصے سےثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ﴿9﴾
پھر اس کی نوک پلک درست کی اور پھونکا اس میں اپنی روح میں سے اور اس نے بنائے تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بہت ہی کم ہے جو شکر تم لوگ کرتے ہووَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ﴿10﴾
اور یہ کہتے ہیں : کیا جب ہم زمین میں تحلیل ہوجائیں گے تو کیا پھر ہم ایک نئی خلقت میں ڈھالے جائیں گے ؟ بلکہ (حقیقت میں) یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیںقُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ع﴿11﴾
(اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ تمہیں قبض کرلے گا موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کردیا گیا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا دیے جاؤ گےوَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ﴿12﴾
اور کاش تم وہ منظر دیکھ سکو جب یہ مجرم کھڑے ہوں گے سر جھکائے ہوئے اپنے پروردگار کے سامنے (اور کہہ رہے ہوں گے :) اے ہمارے پروردگار ! اب ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا تو (ایک بار) ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک عمل کریں گے اب ہمیں یقین آگیا ہےوَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴿13﴾
اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ فیصلہ صادر ہوچکا ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور آدمیوں سب سے بھر کر رہوں گا۔فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿14﴾
تو اب چکھو مزہ (آگ کا) اس لیے کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اب ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کردیا ہے پس تم چکھو ہمیشگی کا عذاب اپنے ان کرتوتوں کے سبب جو تم کرتے رہے ہو۔اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩۩﴿15﴾
ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے تو وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے ذریعے انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتےتَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ﴿16﴾
(راتوں کو) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں وہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں خوف اور امید کی کیفیت میں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (ہماری رضا جوئی کے لیے) خرچ کرتے ہیںفَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿17﴾
تو کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے ان کے اعمال کے بدلے کے طور پراَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ﴿18﴾
تو بھلا جو کوئی مؤمن ہے کیا وہ اس کی مانند ہوجائے گا جو فاسق ہے ! وہ (دونوں) ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿19﴾
وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ان کے لیے باغات ہیں ٹھکانے کے طور پر ابتدائی مہمان نوازی کے طور پر ان کے اعمال کے بدلے میںوَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ﴿20﴾
اور جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ آگ ہے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب مزہ اس آگ کے عذاب کا جسے تم جھٹلایا کرتے تھےوَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿21﴾
اور ہم لازماً چکھائیں گے انہیں مزہ چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ع﴿22﴾
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی گئی مگر پھر بھی اس نے اعراض کیا یقیناً ہم ایسے مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گےوَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ﴿23﴾
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو بھی کتاب عطا کی تھی تو آپ کسی شک میں نہ رہیے اس کی ملاقات سے اور اس (تورات) کو ہم نے بنا دیا تھا راہنمائی بنی اسرائیل کے لیےوَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ﴿24﴾
اور ہم نے ان میں سے ایسے امام اٹھائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کی روش اختیار کی اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھےاِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿25﴾
یقیناً آپ ﷺ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کرتے تھےاَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ﴿26﴾
کیا اس بات نے انہیں ہدایت نہ دی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے مساکن میں یہ گھومتے پھرتے ہیں یقیناً اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں !اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ﴿27﴾
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم پانی کو ہانک کرلے جاتے ہیں بےآب وگیاہ زمین کی طرف پھر ہم اس سے کھیتی اگاتے ہیں جس میں سے کھاتے ہیں ان کے مویشی بھی اور یہ خود بھی۔ تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں !وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿28﴾
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کب ہوگا یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو ؟قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ﴿29﴾
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ فیصلے کے دن ان لوگوں کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ہی (اس وقت) انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ع﴿30﴾
تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے اعراض فرمائیں اور انتظار کریں یہ بھی انتظار ہی کر رہے ہیں