33. Al-Ahzaabالأحزاب
The Clans · Medinan · 73 ayahs · 9 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ﴿1﴾
اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے۔ اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانئے۔ بیشک اللہ بڑا جاننے والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ﴿2﴾
اور جو حکم آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے اسی کی پیروی کیجیے اور اللہ تم لوگ جو کچھ کرتے رہتے ہو اس سے خوب باخبر ہے۔۔وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا﴿3﴾
اور آپ اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور اللہ ہی کارسازی کے لئے کافی ہے۔مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ﴿4﴾
اللہ نے کسی مرد کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے ہیں۔ اور تمہاری بیویوں کو جن سے تم اظہار کرلیتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنا دیا ہے اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا بیٹا بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے۔ اور اللہ حق بات کہتا ہے اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہےاُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿5﴾
انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے۔ اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو (آخر) وہ تمہارے دین کے تو بھائی ہی ہیں اور تمہارے دوست۔ تمہارے اوپر اس کا کوئی گناہ نہیں جو تم سے بھول چوک ہوجائے ہاں (گناہ تو اس پر ہے) جو تم دل سے ارادہ کرکے کہو اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا﴿6﴾
نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور کتاب اللہ میں رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے۔ مگر ہاں تم اپنے دوستوں سے کچھ (سلوک) کرنا چاہو (تو وہ جائز ہے)۔ یہ بات نوشتہ (الہی) میں لکھی جاچکی تھی۔وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ﴿7﴾
اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے (تمام) پیغمبروں سے عہد لیا۔ اور آپ سے بھی اور نوح ؑ اور ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا۔لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ع﴿8﴾
تاکہ ان سچوں سے ان کے سچ کی بابت سوال کرے۔ اور کافروں کے لئے (اللہ نے) عذاب دردناک تیار کر رکھا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ﴿9﴾
اے ایمان والو اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر (کئی کئی) لشکر چڑھ آئے۔ پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی اور ایسی فوج جو تم کو دکھائی نہیں دیتی۔ اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا تھا۔اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا﴿10﴾
جب کہ وہ لوگ تم پر آپڑے تھے تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی۔ اور جب کہ آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے۔ اور تم لوگ اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کررہے تھے۔هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا﴿11﴾
اس موقع پر مسلمانوں کا (پورا) امتحان لیا گیا اور وہ سخت زلزلہ میں ڈالے گئےوَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا﴿12﴾
اور جب کہ منافقوں اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں مرض ہے یوں کہنا شروع کیا تھا کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے تو محض دھوکے ہی کا وعدہ کر رکھا ہے۔وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا﴿13﴾
اور یہ (اس وقت ہوا) جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا۔ اے یثرب کے لوگو تمہارے ٹھہرنے کا موقع نہیں سو (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ۔ اور بعض لوگ ان میں سے نبی سے اجازت مانگتے تھے کہتے تھے کہ ہمارا گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ ذرا بھی غیر محفوظ نہیں ہیں یہ محض بھاگنا ہی چاہتے ہیں۔وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا﴿14﴾
اور اگر ان (لوگوں) پر (مدینہ کے) اطراف سے کوئی (لشکر کافروں کا) آگھسے پھر ان سے فساد کی درخواست کی جائے۔ تو یہ اسے منظور کرلیں اور (ان گھروں میں) بس برائے نام ہی ٹھہریں۔وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا﴿15﴾
درآنحالیکہ یہی لوگ پیشتر اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔ اور اللہ سے جو عہد کیا جاتا ہے اس کی باز پرس ہوگی۔قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا﴿16﴾
آپ کہہ دیجیے تمہیں بھاگنا کچھ بھی نفع نہیں دے سکتا اگر تم موت یا قتل سے بھاگتے ہو اور اس سے تمتع بھی نہیں حاصل کرسکتے بجز چند روز کے۔قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا﴿17﴾
آپ کہہ دیجیے کہ وہ کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکے اگر (اللہ) تمہارے ساتھ برائی کرنا چاہے یا (اسے روک سکے جب) وہ تمہارے ساتھ فضل کرنا چاہے۔ اور وہ لوگ اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائیں گے اور نہ مددگار۔قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ﴿18﴾
اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو مانع ہوتے ہی اور جو اپنے بھائیوں سے کہتے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ۔ اور یہ لوگ لڑائی میں تو بس نام ہی کو آتے ہیںاَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا﴿19﴾
تمہارے حق میں بخیل (ہوکر)۔ پھر جب کوئی خطرہ پیش آتا ہے تو آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو پھر جب وہ خطرہ دور ہوجاتا ہے تو تمہیں تیز زبانوں سے طعنہ دیتے ہیں مال (غنیمت) پر حرص لئے ہوئے۔ یہ لوگ ایمان ہی نہیں لائے چناچہ اللہ نے ان کے اعمال بیکار کر رکھے ہیں۔ اور یہ بات اللہ کیلئے (بالکل) آسان ہےیَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ع﴿20﴾
ان لوگوں کا خیال ہے کہ لشکر (ابھی تک) گئے نہیں۔ اور اگر (یہ) لشکر آپڑیں تو یہ لوگ یہ چاہیں گے کاش ! ہم دیہاتوں میں باہر جارہتے (اور وہیں سے) تمہاری خبریں پوچھتے رہتے۔ اور اگر تم ہی میں رہیں جب بھی کچھ یوں ہی سا لڑیںلَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ﴿21﴾
رسول اللہ کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے تمہارے لئے۔ یعنی اس کے لئے جو ڈرتا ہو اللہ اور روز آخرت سے اور ذکر الہی کثرت سے کرتا ہووَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ﴿22﴾
اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے یہی وہ (موقع) ہے جس کی ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور (اس سے) ان کے ایمان وطاعت میں ترقی ہی ہوئیمِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ﴿23﴾
اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں سچے اترے۔ سو ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے اور کچھ ان میں کے راستہ دیکھ رہے ہیں۔ اور انہوں نے ذرا فرق نہیں آنے دیا۔لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ﴿24﴾
(یہ اس لئے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو صلہ دے ان کی سچائی کا اور منافقین کو اگر چاہے سزا دے یا (چاہے تو) ان کی توبہ قبول کرلے بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا۔وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ﴿25﴾
اور اللہ نے کافروں کو اس غصہ میں بھرا ہوا ہٹا دیا کہ ان کے کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ اور جنگ میں اللہ اہل ایمان کے لئے کافی ہوگیا۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا قوت والا بڑا زبردست۔وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ﴿26﴾
اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی (اللہ نے) انہیں ان کے قلعوں سے اتار دیا۔ اور ان کے دلوں میں (تمہارا) رعب بٹھا دیا (پھر) بعض کو تم قتل کرنے لگے اور بعض کو قید کرلیاوَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ع﴿27﴾
اور تمہیں مالک بنادیا ان کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مال کا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے (اب تک) قدم نہیں رکھا ہے۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قادر ہےیٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا﴿28﴾
اے نبی آپ اپنی بیویوں سے فرما دیجیے کہ اگر تم دنیوی اور اس کی بہار کو مقصود رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ متاع (دنیوی) دے دلاکر خوبی کے ساتھ رخصت کردو۔وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا﴿29﴾
اور اگر تم مقصود رکھتی ہو اللہ کو اور اس کے رسول کو اور عالم آخرت کو۔ تو اللہ نے تم میں سے نیک کرداروں کے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا﴿30﴾
اے نبی کی بیویو تم میں سے جو کوئی کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی تو اسے دہری سزا دی جائے گی۔ اور یہ اللہ کے لئے (بالکل) آسان ہے۔وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا﴿31﴾
اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل صالح کرتی رہے گی تو ہم اس کا اجر دوہرا دیں گے اور ہم نے اس کے لئے ایک (مخصوص) عمدہ نعمت تیار کر رکھی ہے۔یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ﴿32﴾
اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرف نہیں ہو جب کہ تم تقوی اختیار کر رکھو۔ تو تم بولی میں نزاکت مت اختیار کرو کہ (اس سے) ایسے شخص کو خیال (فاسد) پیدا ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے۔ اور قاعدے کے موافق بات کہا کرو۔وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ﴿33﴾
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو۔ اور جاہلیت قدیم کے مطابق اپنے کو دکھاتی مت پھرو۔ اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ اے (نبی ﷺ کے) گھروالو تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو خوب نکھا ردے۔وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ع﴿34﴾
اور تم اللہ کی ان آیتوں اور اس علم کو یاد رکھو جو تمہارے گھروں میں پڑھ کر سنائے جاتے رہتے ہیں۔ بیشک اللہ بڑا باریک بین ہے پورا خبردار ہے۔اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا﴿35﴾
بیشک اسلام والے اور اسلام والیاں۔ اور ایمان والے اور ایمان والیاں۔ اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں۔ اور صادق مرد اور صادق عورتیں۔ اور صابر مرد اور صابر عورتیں۔ اور خشوع والے اور خشوع والیاں۔ اور تصدق کرنے والے اور تصدق کرنے والیاں۔ اور روزہ رکھنے والے اور روزہ رکھنے والیاں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بکثرت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان (سب) کے لئے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ﴿36﴾
اور کسی مومن یا مومنہ کے لئے یہ درست نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی امر کا حکم دے دیں تو پھر ان کو اپنے (اس) امر میں کوئی اختیار باقی رہ جائے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں جا پڑا اور (اس وقت کو بھی یاد کیجیےوَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا﴿37﴾
جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے۔ جس پر اللہ نے بھی فضل کیا اور آپ نے بھی اس پر عنایت کی ہے۔ کہ اپنی بیوی کو اپنی (زوجیت میں) رہنے دے اور اللہ سے ڈر۔ اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں (کی طرف) سے اندیشہ کررہے تھے حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ پھر جب زید کا دل اس (عورت) سے بھر گیا۔ تو ہم نے اس کا نکاح آپ کے ساتھ کردیا۔ تاکہ اہل ایمان پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کچھ تنگی نہ رہے جب وہ ان سے اپنا جی بھر چکیں۔ اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا تھا۔مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ﴿38﴾
نبی کے لئے اللہ نے جو کچھ مقرر کردیا تھا۔ ان پر اس باب میں کوئی الزام نہیں اللہ کا یہی معمول (رہا) ہے ان (پیغمبروں) کے بارے میں جو (آپ سے) پیشتر ہوچکے ہیں۔ اور اللہ کا حکم خوب تجویز کیا ہوا ہوتا ہے۔اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا﴿39﴾
(یہ وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے پیامات پہنچایا کرتے تھے اور اسی سے ڈرتے تھے اور بجز اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور اللہ حساب کیلئے کافی ہے۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ع﴿40﴾
محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ البتہ اللہ کے رسول ہیں۔ اور (سب) نبیوں کے ختم پر ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ﴿41﴾
اے ایمان والو اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو۔وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا﴿42﴾
اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا﴿43﴾
وہ ایسا ہے کہ وہ خود اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے اوپر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے نور کی طرف لے آئے۔ اور وہ مومنین کے حق میں تو رحیم ہی ہےتَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا﴿44﴾
جس روز وہ اس سے ملیں گے انہیں دعا (دی جائے گی) سلام سے۔ اور اس نے ان کیلئے معزز صلہ تیار کر رکھا ہےیٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ﴿45﴾
اے نبی بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے بطور گواہ۔ اور بشارت دینے والے اور ڈرانے والے کےوَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا﴿46﴾
اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے۔ اور بطور ایک روشن چراغ کے۔وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا﴿47﴾
آپ بشارت دیجیے ایمان والوں کو کہ ان پر اللہ کی طرف سے بڑا ہی فضل ہے۔وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا﴿48﴾
اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ کیجیے۔ اور ان کی اذیت رسانی کا خیال نہ کیجیے۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیے اور اللہ ہی کافی کارساز ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا﴿49﴾
اے ایمان والو ! تم جب مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو تو تمہارے لئے ان کے بارے میں کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرنے لگو۔ تو انہیں کچھ مال دے دو اور انہیں خوبی کے ساتھ رخصت کردو۔یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿50﴾
اے نبی ہم نے آپ کے لئے آپ کی (یہ) بیویاں حلال کی ہیں جن کو آپ ان کے مہر دے چکے ہیں۔ اور وہ عورتیں بھی جو آپ کی ملک میں ہیں جنہیں اللہ نے آپ کو غنیمت میں دلوایا ہے۔ اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں۔ اور آپ کی ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی۔ اور اس مسلمان عورت کو (بھی) جو (بلاعوض) اپنے کو نبی کو دے دے۔ بشرطیکہ نبی (بھی) اسے نکاح میں لانا چاہیں (یہ حکم) آپ کے لئے مخصوص ہے نہ کہ (اور) مومنیں کے لئے ہم کو وہ (احکام) معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے بارے میں ان پر مقرر کئے ہیں۔ تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ (واقع) ہو۔ اور اللہ تو بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا﴿51﴾
ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں۔ اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا ان میں سے کسی کو پھر طلب کرلیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں اس (انتظام) میں زیادہ توقع ہے اس کی کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور آزردہ نہ ہوں گی اور اس پر راضی رہیں گی جو کچھ آپ انہیں دے دیں گے۔ اور اللہ (خوب) جانتا ہے اسے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حلم والا ہے۔لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ع﴿52﴾
ان عورتوں کے بعد آپ کے لئے کوئی جائز نہیں۔ اور نہ یہی کہ آپ ان بیویوں کی جگہ دوسری کرلیں۔ چاہے آپ کو ان کا حسن بھلا ہی لگے مگر ہاں بجز ان کے کہ جو آپ کی باندیاں ہیں اور اللہ ہر شے کا (پورا) نگراں ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا﴿53﴾
اے ایمان والو نبی کے گھروں میں مت جایا کرو بجز اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لئے (آنے کی) اجازت دی جائے (اور جب بھی) ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھاچکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو اس بات سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں۔ اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا۔ اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردہ کے باہر سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاس رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ۔ اور نہ یہ کہ آپ ﷺ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو۔ بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا﴿54﴾
اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا اسے (دل میں) پوشیدہ رکھوگے تو اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا﴿55﴾
ان (رسول کی ازواج) پر کوئی گناہ نہیں (سامنے آنے میں) اپنے باپوں کے اپنے بیٹوں کے اور اپنے بھائیوں کے اور اپنے بھتیجوں کے اور اپنے بھانجوں کے اور اپنی (شریک دین) عورتوں کے اور نہ اپنی باندیوں کے اور اللہ سے ڈرتی رہو بیشک اللہ ہر چیز پر حاضر ناظر ہے۔اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴿56﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی آپ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا﴿57﴾
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے عذاب ذلیل کرنے والا تیار کر رکھا ہےوَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ع﴿58﴾
اور جو لوگ ایذا پہنچاتے رہتے ہیں ایمان والوں کو اور ایمان والیوں کو بدون اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بار (اپنے اوپر) لیتے ہیں۔یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿59﴾
اے نبی آپ کہہ دیجیے اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور (عام) ایمانوالوں کی عورتوں سے کہ اپنے اوپر نیچی کرلیا کریں اپنی چادریں تھوڑی سی۔ اس سے وہ جلد پہنچان لی جایا کریں گی اور اس لئے انہیں ستایا نہ جائے گا۔ اور اللہ تو بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ﴿60﴾
اگر منافقین اور وہ لوگ نہ باز آئے جن کے دلوں میں روگ ہے۔ اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں۔ تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کریں گے۔ پھر یہ لوگ آپ کے پاس مدینہ میں بس قدرے قلیل رہنے پائیں گے۔مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا﴿61﴾
(اور وہ بھی) پھٹکار پڑے ہوئے جہاں کہیں بھی مل گئے پکڑلئے گئے اور ان کے ٹکڑے اڑا دیئے گئے۔سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا﴿62﴾
اللہ کا یہی دستور رہا ہے ان لوگوں میں بھی جو (ان سے) پیشتر گذر چکے ہیں اور آپ اللہ کے دستور میں رد وبدل نہ پائیں گے۔یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا﴿63﴾
(یہ) لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے اس کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے اور عجب نہیں کہ قیامت قریب ہی آلگی ہواِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ﴿64﴾
بیشک اللہ نے کافروں کو رحمت سے دور کردیا ہے۔ اور ان کے لئے دوزخ تیار کردی ہےخٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ﴿65﴾
جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے نہ کوئی یار پائیں گے اور نہ مددگاریَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا﴿66﴾
جس روز ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے وہ یوں کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور رسول کی اطاعت کی ہوتیوَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا﴿67﴾
اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا سو انہوں نے ہمیں راہ سے بھٹکا دیارَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ع﴿68﴾
اے ہمارے پروردگار انہیں دہرا عذاب دے اور ان پر بڑی ہی لعنت نازل کر۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ﴿69﴾
اے ایمان والو ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ ؑ کو ایذا پہنچائی تھی۔ سو اللہ نے انہیں بری ثابت کردیا۔ اور اللہ کے نزدیک وہ بڑے معزز تھے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ﴿70﴾
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو۔ اور راستی کی بات کہو۔یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا﴿71﴾
) اللہ) تمہارے اعمال قبول کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی سو وہ بڑی کامیابی کو پہنچ گیا۔اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ﴿72﴾
ہم نے (یہ) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی۔ سو ان سب نے انکار کیا اس سے کہ اسے اٹھائیں اور وہ اس سے ڈرے۔ اور اسے انسان نے اپنے ذمہ لے ل یا۔ بیشک وہ بڑا ظالم ہے بڑا جاہل ہے۔لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ع﴿73﴾
انجام یہ ہوا کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے گا اور ایمان والوں اور ایمان والیوں پر توجہ فرمائے گا۔ اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔