68. Al-Qalamالقلم
The Pen · Meccan · 52 ayahs · 2 rukus · Nazar Ahmed
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ﴿1﴾
- نٓن
- وَالْقَلَمِقسم ہے قلم کی
- وَمَا يَسْطُرُوْنَاور قسم ہے اس کی جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں
ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیںمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ﴿2﴾
- مَآ اَنْتَنہیں ہیں آپ
- بِنِعْمَةِ رَبِّكَاپنے رب کی نعمت کے ساتھ
- بِمَجْنُوْنٍمجنون
تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہووَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ﴿3﴾
- وَاِنَّ لَكَاور بیشک آپ کے لیے
- لَاَجْرًاالبتہ اجر ہے
- غَيْرَ مَمْنُوْنٍنہ ختم ہونے والا
اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیںوَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴿4﴾
- وَاِنَّكَاور بیشک آپ
- لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍالبتہ اخلاق کے بلند مرتبے پر ہیں
اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہوفَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ﴿5﴾
- فَسَتُبْصِرُپس عنقریب تم بھی دیکھو گے
- وَيُبْصِرُوْنَاور وہ بھی دیکھیں گے
عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گےبِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ﴿6﴾
- بِاَىيِّكُمُ الْمَفْتُوْنُکون تم میں کا مجنون ہے
کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہےاِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ﴿7﴾
- اِنَّ رَبَّكَبیشک رب تیرا
- هُوَ اَعْلَمُوہ زیادہ جانتا ہے
- بِمَنْ ضَلَّاس کو جو بھٹک گیا
- عَنْ سَبِيْلِهٖاس کے راستے سے
- وَهُوَ اَعْلَمُاور وہ زیادہ جانتا ہے
- بِالْمُهْتَدِيْنَہدایت پانے والوں کو
تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیںفَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ﴿8﴾
- فَلَاپس نہ
- تُطِعِتم اطاعت کرو
- الْمُكَذِّبِيْنَجھٹلانے والوں کی
لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤوَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ﴿9﴾
- وَدُّوْاوہ چاہتے ہیں
- لَوْ تُدْهِنُکاش تم سستی کرو
- فَيُدْهِنُوْنَتو وہ بھی سستی کریں۔ مداہنت کریں
یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریںوَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ﴿10﴾
- وَلَااور نہ
- تُطِعْتم اطاعت کرو
- كُلَّ حَلَّافٍبہت قسمیں کھانے والے کی
- مَّهِيْنٍذلیل
ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہےهَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ﴿11﴾
- هَمَّازٍعیب جوئی کرنے والا
- مَّشَّآءٍۢچلنے والا
- بِنَمِيْمٍساتھ چغل خوری کے
طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہےمَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ﴿12﴾
- مَّنَّاعٍبہت روکنے والا
- لِّلْخَيْرِبھلائی کا
- مُعْتَدٍحد سے بڑھنے والا
- اَثِيْمٍگناہ گار
بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہےعُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ﴿13﴾
- عُتُلٍّۢبدمزاج
- بَعْدَ ذٰلِكَاس کے بعد
- زَنِيْمٍبداصل بھی ہے
اور اَن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہےاَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ﴿14﴾
- اَنْ كَانَکہ ہے وہ
- ذَا مَالٍمال والا
- وَّبَنِيْنَاور بیٹوں والا
اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہےاِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿15﴾
- اِذَاجب
- تُتْلٰىپڑھی جاتی ہیں
- عَلَيْهِاس پر
- اٰيٰتُنَاہماری آیات
- قَالَکہتا ہے
- اَسَاطِيْرُکہانیاں ہیں
- الْاَوَّلِيْنَپہلوں کی
جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیںسَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ﴿16﴾
- سَنَسِمُهٗعنقریب ہم داغ دیں گے اس کو۔ داغ لگائیں گے اس کو
- عَلَياوپر
- الْخُرْطُوْمِناک کے
عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گےاِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ﴿17﴾
- اِنَّابیشک ہم نے
- بَلَوْنٰهُمْآزمائش میں ڈالا ہم نے ان کو
- كَمَا بَلَوْنَآجیسا کہ آزمایا ہم نے
- اَصْحٰبَ الْجَنَّةِباغ والوں کو
- اِذْ اَقْسَمُوْاجب انہوں نے قسم کھائی
- لَيَصْرِمُنَّهَاالبتہ ضرور کاٹ لیں گے اس کو
- مُصْبِحِيْنَصبح سویرے
ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گےوَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ﴿18﴾
- وَلَااور نہ
- يَسْتَثْنُوْنَوہ استثناء کررہے تھے
اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھےفَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ﴿19﴾
- فَطَافَتو پھر گیا
- عَلَيْهَااس پر
- طَآئِفٌایک پھرنے والا
- مِّنْ رَّبِّكَتیرے رب کی طرف سے
- وَهُمْ نَآئِمُوْنَاور وہ سو رہے تھے
رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئیفَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ﴿20﴾
- فَاَصْبَحَتْتو ہوگیا وہ باغ
- كَالصَّرِيْمِجڑکٹا۔ مانند جڑ کئے کے
اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہوفَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ﴿21﴾
- فَتَنَادَوْاتو ایک دوسرے کو پکارے لگے
- مُصْبِحِيْنَصبح سویرے
صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارااَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ﴿22﴾
- اَنِ اغْدُوْاکہ چلو
- عَلٰي حَرْثِكُمْاپنے کھیت پر
- اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
- صٰرِمِيْنَکاٹنے والے
کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلوفَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ﴿23﴾
- فَانْطَلَقُوْاتو وہ چل دئیے
- وَهُمْ يَتَخَافَتُوْنَاور وہ چپکے چپکے باتیں کررہے تھے
چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھےاَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ﴿24﴾
- اَنْ لَّاکہ نہیں
- يَدْخُلَنَّهَاداخل ہوگا اس پر
- الْيَوْمَآج
- عَلَيْكُمْتم پر
- مِّسْكِيْنٌکوئی مسکین
کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائےوَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ﴿25﴾
- وَّغَدَوْااور وہ صبح سویرے گئے
- عَلٰي حَرْدٍاوپر بخیلی کے۔ بخل کرتے ہوئے
- قٰدِرِيْنَجیسا کہ قدرت رکھنے والے ہوں
وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیںفَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ﴿26﴾
- فَلَمَّاتو جب
- رَاَوْهَاانہوں نے دیکھا اس کو
- قَالُوْٓاکہنے لگے
- اِنَّا لَضَآلُّوْنَبیشک ہم البتہ بھٹک گئے ہیں
مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیںبَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ﴿27﴾
- بَلْ(نہیں) بلکہ
- نَحْنُہم
- مَحْرُوْمُوْنَمحروم کردئیے گئے ہیں
نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے"قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ﴿28﴾
- قَالَبولا
- اَوْسَطُهُمْان کا درمیانہ۔ ان کا بہتر شخص
- اَلَمْکیا نہیں
- اَقُلْ لَّكُمْمیں نے کہا تھا تم سے
- لَوْلَاکیوں نہیں
- تُسَبِّحُوْنَتم تسبیح کرتے
اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟"قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿29﴾
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- سُبْحٰنَ رَبِّنَآپاک ہے رب ہمارا
- اِنَّابیشک ہم
- كُنَّاتھے ہم
- ظٰلِمِيْنَظالم
و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھےفَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ﴿30﴾
- فَاَقْبَلَتو متوجہ ہوا
- بَعْضُهُمْان کا بعض
- عَلٰي بَعْضٍبعض پر
- يَّتَلَاوَمُوْنَآپس میں ملامت کرتے ہوئے
پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگاقَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ﴿31﴾
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- يٰوَيْلَنَآہائے افسوس ہم پر
- اِنَّابیشک ہم
- كُنَّاتھے ہم
- طٰغِيْنَسرکش
آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھےعَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ﴿32﴾
- عَسٰىامید ہے کہ
- رَبُّنَآہمارا رب
- اَنْ يُّبْدِلَنَاکہ بدل کردے ہم کو
- خَيْرًا مِّنْهَآبہتر اس سے
- اِنَّآبیشک ہم
- اِلٰى رَبِّنَااپنے رب کی طرف
- رٰغِبُوْنَرغبت کرنے والے ہیں
بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿33﴾
- كَذٰلِكَاسی طرح ہوتا ہے۔ ایسا ہوتا ہے
- الْعَذَابُعذاب
- وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِاور البتہ عذاب آخرت کا
- اَكْبَرُزیادہ بڑا ہے
- لَوْ كَانُوْاکاش وہ ہوتے
- يَعْلَمُوْنَوہ جانتے
ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتےاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿34﴾
- اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَبیشک متقی لوگوں کے لیے
- عِنْدَ رَبِّهِمْان کے رب کے نزدیک
- جَنّٰتِباغات ہیں
- النَّعِيْمِنعمتوں والے
یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیںاَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ﴿35﴾
- اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَکیا بھلا ہم کردیں مسلمانوں کو۔ فرماں بردار کو
- كَالْمُجْرِمِيْنَمجرموں کی طرح
کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ﴿36﴾
- مَا لَكُمْکیا ہے تم کو
- كَيْفَ تَحْكُمُوْنَکیسے تم فیصلے کرتے ہو
تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ﴿37﴾
- اَمْ لَكُمْیا تمہارے لیے
- كِتٰبٌکوئی کتاب
- فِيْهِجس میں
- تَدْرُسُوْنَتم پڑھتے ہو
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہواِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ﴿38﴾
- اِنَّ لَكُمْبیشک تمہارے لیے
- فِيْهِاس میں
- لَمَا تَخَيَّرُوْنَالبتہ وہ ہے جو تم پسند کرو۔ اختیار کرو
کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ﴿39﴾
- اَمْ لَكُمْیا تمہارے لیے
- اَيْمَانٌکوئی عہد ہیں۔ قسمیں ہیں
- عَلَيْنَاہم پر
- بَالِغَةٌباقی رہنے والی
- اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن تک
- اِنَّ لَكُمْبیشک تمہارے لیے
- لَمَا تَحْكُمُوْنَالبتہ وہ ہے جو تم فیصلہ کرو گے
یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ﴿40﴾
- سَلْهُمْپوچھو ان سے
- اَيُّهُمْکون سا ان میں سے
- بِذٰلِكَ زَعِيْمٌساتھ اس کے ضامن ہے
اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ﴿41﴾
- اَمْ لَهُمْیا ان کے لیے
- شُرَكَآءُکچھ شریک ہیں
- فَلْيَاْتُوْاپس چاہیے کہ لے آئیں
- بِشُرَكَآئِهِمْاپنے شریکوں کو
- اِنْ كَانُوْااگر ہیں وہ
- صٰدِقِيْنَسچے
یا پھر اِن کے ٹھیرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اِس کا ذمہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیںیَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ﴿42﴾
- يَوْمَ يُكْشَفُجس دن کھول دیاجائے گا
- عَنْ سَاقٍپنڈلی سے
- وَّيُدْعَوْنَاور وہ بلائے جائیں گے
- اِلَى السُّجُوْدِطرف سجدوں کے
- فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَتو وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں گے
جس روز سخت وقت آ پڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گےخَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ﴿43﴾
- خَاشِعَةًنیچی ہوں گی
- اَبْصَارُهُمْان کی نگاہیں
- تَرْهَقُهُمْچھا رہی ہوگی ان پر
- ذِلَّةٌذلت
- وَقَدْ كَانُوْااور تحقیق تھے وہ
- يُدْعَوْنَبلائے جاتے
- اِلَى السُّجُوْدِسجدوں کی طرف
- وَهُمْ سٰلِمُوْنَاور وہ صحیح سلامت تھے
اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ﴿44﴾
- فَذَرْنِيْپس چھوڑدو مجھ کو
- وَمَنْ يُّكَذِّبُاور جو کوئی جھٹلاتا ہے
- بِهٰذَااس
- الْحَدِيْثِبات کو
- سَنَسْتَدْرِجُهُمْعنقریب ہم آہستہ آہستہ کھینچیں گے ان کو
- مِّنْ حَيْثُجہاں سے
- لَا يَعْلَمُوْنَوہ جانتے نہ ہوں گے
پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگیوَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ﴿45﴾
- وَاور
- اُمْلِيْ لَهُمْمیں ڈھیل دے رہا ہوں ان کے لیے
- اِنَّبیشک
- كَيْدِيْمیری چال
- مَتِيْنٌبہت پختہ ہے
میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہےاَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ﴿46﴾
- اَمْ تَسْئَلُهُمْیا تم سوال کرتے ہو ان سے
- اَجْرًاکسی اجر کا
- فَهُمْتو وہ
- مِّنْ مَّغْرَمٍتاوان سے
- مُّثْقَلُوْنَدبے جاتے ہوں
کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ﴿47﴾
- اَمْیا
- عِنْدَهُمُان کے پاس
- الْغَيْبُکوئی غیب ہے
- فَهُمْ يَكْتُبُوْنَتو وہ لکھ رہے ہیں
کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ﴿48﴾
- فَاصْبِرْپس صبر کرو
- لِحُكْمِ رَبِّكَاپنے رب کے حکم کے لیے
- وَلَا تَكُنْاور نہ تم ہو
- كَصَاحِبِ الْحُوْتِمانند مچھلی والے کے
- اِذْ نَادٰىجب اس نے پکارا
- وَهُوَ مَكْظُوْمٌاور وہ غم سے بھرا ہوا تھا
پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھالَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ﴿49﴾
- لَوْلَآاگر نہ ہوتی یہ بات
- اَنْ تَدٰرَكَهٗکہ پالیا اس کو
- نِعْمَةٌایک نعمت نے
- مِّنْ رَّبِّهٖاس کے رب کی طرف سے
- لَنُبِذَالبتہ پھینک دیا جاتا
- بِالْعَرَآءِچٹیل میدان میں
- وَهُوَاور وہ
- مَذْمُوْمٌمذموم ہوتا
اگر اس کے رب کی مہربانی اُس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتافَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿50﴾
- فَاجْتَبٰىهُتو چن لیا اس کو
- رَبُّهٗاس کے رب نے
- فَجَعَلَهٗتو بنادیا اس کو
- مِنَ الصّٰلِحِيْنَصالح لوگوں میں سے
آخرکار اُس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اِسے صالح بندوں میں شامل کر دیاوَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ﴿51﴾
- وَاِنْ يَّكَادُاور بیشک قریب ہے کہ
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا
- لَيُزْلِقُوْنَكَالبتہ پھیلا دیں گے آپ کو
- بِاَبْصَارِهِمْاپنی نگاہوں سے
- لَمَّا سَمِعُواجب وہ سنتے ہیں
- الذِّكْرَذکر کو
- وَيَقُوْلُوْنَاور وہ کہتے ہیں
- اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌبیشک وہ البتہ مجنون ہے
جب یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے، اور کہتے ہیں یہ ضرور دیوانہ ہےوَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿52﴾
- وَمَا هُوَاور نہیں ہے وہ
- اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَمگر ایک نصیحت جہانوں کے لیے
حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے