Ahkam-ul-Quran - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟ قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔ سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی ترغیب دی ہے کہ ہم لوگوں پر اپنے حقوق کو معاف کردیں ۔ چناچہ ارشاد ہے (وان تعفوا اقرب للتقوی۔ اور تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے زیادہ قریب ہے) قصاص کے سلسلے میں ارشاد ہے (فمن تصدق بہ فھوکفارۃ لہ۔ جو شخص قصاص کا صدقہ کردے گا اس کے لئے یہ بات کفارہ بن جائے گی) نیز ارشاد ہے (ولیعفوا والیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم۔ انہیں چاہیے کہ عفو اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ بتا پسند نہیں کہ اللہ تمہارے گناہوں کی بخشش کرے) ان آیت کے احکام ثابت ہیں منسوخ نہیں ہوئے۔ قول باری (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون) ظاہری طور پر اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس موقعہ پر بدلہ لینا افضل ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے اور نماز کی پابندی کے ساتھ مقرون کردیا ہے۔ اسے اس معنی پر محمول کیا جائے گا جس کا ذکر ابراہیم نخعی نے کیا ہے کہ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو اس طرح دباکر اور عاجز بنا کر رکھیں کہ فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقع مل جائے۔ اس لئے بدلہ لینے کا موقعہ وہ ہے جب ایک شخص ظلم و زیادتی کرے اور پھر اس پر نادم ہونے کی بجائے اصرار کرے۔ عفو و درگزر کا موقعہ وہ ہے جب ظلم و زیادتی کرنے والا اپنے فعل پر پشیمان ہو اور آئندہ ایسی حرکت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد فرمایا (ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل۔ اور جو اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر کوئی گرفت نہیں) آیت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اس میں بدلہ لینے کی اباحت کردی گئی ہے بدلہ لینے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ارشاد ہے (ولمن صبر وغفران ذلک لمن عزم الامور اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے) اس ارشاد کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب ظلم و زیادتی کرنے والا اپنے فعل پر اصرار نہ کرتا ہو۔ ایسے موقعہ پر اسے معاف کردینا بہترہوگا لیکن ظلم وتعدی پر اصرار کرنے والے سے بدلہ لینا افضل ہے کیونکہ اس پر ماقبل کی آیت دلالت کررہی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ماعلیھم من سبیل) کی تفسیر میں روایت کی ہے۔ یہ بات اس صورت میں ہوگی جب لوگوں کے درمیان قصاص کا معاملہ درپیش ہو لیکن اگر کوئی شخص تم پر ظلم کرے تو تمہارے لئے اس پر ظلم کرنا حلال نہیں ہوگا۔
Top