Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
(43:39) والذین اذا ۔۔ ینتصرون۔ اس کا عطف بھی الذین امنوا پر ہے۔ ذا جب، ظرف زمان ہے۔ شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اصابھم البغی : اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) مصدر وہ پہنچا۔ وہ اپڑا۔ اس نے پالیا۔ مصیبۃ آپڑنے والی۔ البغی۔ سرکشی ، ظلم، زیادتی۔ البغی (باب ضرب) سے مصدر۔ بغی کے اصل معنی میانہ روی سے بڑھنے کی خواہش کرنے کے ہیں۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک محمود۔ جیسے عدل کی بجائے احسان کرنا۔ اور فرائض کے علاوہ نوافل کا بھی پابند رہنا۔ دوسرے مذموم : جیسے حق سے تجاوز کرکے باطل کو اختیار کرنا۔ شبہات میں پڑنا : جیسے قرآن مجید میں اکثر مواقع پر بغی کا استعمال مذموم معنی میں ہی ہوا ہے۔ بغی (باب ضرب) بمعنی طلب کرنا۔ خواہش کرنا۔ بھی آتا ہے۔ ینتصرون : مضارع جمع مذکر غائب انتصار (افتعال) مصدر وہ بدلہ لے لیتے ہیں۔ بدلہ لے سکتے ہیں (جرم کے مطابق) بدلہ لے لیتے ہیں۔ اذا شرطیہ ہونے کی صورت میں جملہ اذا اصابھم البغی جملہ شرطیہ ہوگا اور جملہ ہم ینتصرون مبتدا اور خبر مل کر جواب شرط و جواب شرط مل کر صلہ اپنے موصول الذین کا۔
Top