Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا انتقام لیتے ہیں
وَالَّذِیْنَ اِذَٓا اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ ۔ (الشوری : 39) (اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا انتقام لیتے ہیں۔ ) ایک اور مزاجی خصوصیت بلا شبہ یہ لوگ اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والے۔ اگر مسلمانوں کی کسی بات پر غصہ بھی آتا ہے تو وہ اسے معاف کردیتے ہیں۔ اور غیرمسلموں سے بھی ہمیشہ حُسنِ سلوک کرتے اور خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ان سے توہین آمیز سلوک کرتا ہے، فرعونیت کا صور پھونکتا ہے اور خودسری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے تو ایسے لوگوں کا وہ تر نوالہ نہیں ہوتے، وہ نرم خو ضرور ہوتے ہیں لیکن کمزور اور ذلیل نہیں ہوتے۔ ان کی زندگی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ : خاکساروں سے خاکساری ہے سربلندوں سے انکسار نہیں وہ متکبر اور بددماغ لوگوں کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کی زیادتیوں کا وہ انتقام لیتے ہیں تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ شریف اور خوش اخلاق لوگ کمزور ہوتے ہیں اور ان کی طاقت کے سامنے کوئی شخص کھڑا ہونے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ ایسے شخص کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ ثابت کردیتے ہیں کہ شرافت جھکنے کے لیے نہیں ہوتی۔
Top