Dure-Mansoor - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ظلم پہنچ جاتا ہے تو وہ بدلہ لے لیتے ہیں
1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون “ (اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو برابر کا بدلہ لیتے ہیں) اس سے مراد ہے کہ مؤمن اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ وہ ظالم کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور جب وہ قدرت رکھے تو درگزر کے معاملات کرے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم سے اس (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ مؤمن اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل ؔ ظاہر کریں اور فاسق لوگ ان پر جرأت کرنے لگیں۔ 3:۔ نسائی وابن ماجہ (رح) وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس حضرت زینب ؓ آئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ میری طرف دیکھ کر مجھ کو برا بھلاکہنے لگیں نبی کریم ﷺ نے ان کو ڈانٹا مگر وہ نہ رکیں آپ نے مجھ سے فرمایا : اسے جواب دو تو میں نے بھی اس کو برا کہا یہاں تک کہ اس کے منہ میں اس کی تھوک خشک ہوگئی (یعنی وہ لاجواب ہوگئی) رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے کھلا ہوا تھا۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے علی بن زید بن جدعان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے انصار میں سے اس جیسی حدیث نہیں سنی جو حدیث مجھے میرے والد کی ام ولد نے بیان کی حضرت نے بیان کی حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں گھر میں تھی اور ہمارے پاس زینب بنت جحش بھی تھیں۔ ہمارے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو آپ کی طرف متوجہ ہو کر زینب کہنے لگیں ہم میں سے ہر ایک آپ کے پاس باتوں سے دھوکہ دینے والا ہے۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر مجھے برابھلا کہنے لگیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم بھی اس کو ایسا ہی جواب دو جیسے یہ تم کو کہہ رہی ہے۔ پھر میں بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی (اور اس کو جواب دینا شروع کیا) جبکہ میں اس سے بہتر گفتگو کرنے والی تھی (یہ سن کر) وہ کھڑی ہوگئی (یعنی چلی گئی ) 5:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون “ سے مراد ہے کہ وہ ان سے بدلہ لیتے ہیں جو ان پر زیادتی کرتے ہیں مگر حد سے تجاوز نہیں کرتے۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی “ سے مراد محمد ﷺ ہیں کہ آپ پر ؔ ظلم کیا گیا اور آپ پر بغاوت کی گئی آپ کو جھٹلایا گیا (آیت ) ” ھم ینتصرون “ (وہ برابر کا بدلہ لیتے ہیں) یعنی محمد ﷺ تلوار کے ساتھ بدلہ لیتے ہیں
Top