Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
بغی پر انتقام : 39: وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَھُمْ الْبَغْیُ (اور ان لوگوں پر جب ظلم واقع ہوتا ہے) ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ (وہ برابر کا بدلہ لیتے ہیں) وہ اس ظالم سے انتقام لیتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بدلہ اس کا مقرر فرمایا ہے۔ اس پر وہ اکتفاء کرتے ہیں۔ اس سے تجاوز نہیں کرتے۔ وہ اپنے آپ کو اس میں ملوث کرنے کو تیار نہ تھے مگر فساق نے ان پر جرأت کی تو وہ بدلہ پر آمادہ ہوئے۔ ایک نکتہ : یہاں ان کی بدلہ لینے پر تعریف کی گئی ہے کیونکہ جس نے بدلہ لیا اور حق لیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حد سے تجاوز نہ کیا اگر وہ ولی دم تھا تو اس نے قتل میں اسراف نہ کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہے اور ہر مطیع قابل تعریف ہے ھمؔ ینفقون کے تحت لکھے ہوئے کا دوبارہ مطالعہ کرلیں۔
Top