Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو (مناسب طور پر) اس کا بدلہ لیتے ہیں
ایمان والوں پر جب زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں 39 ؎ گزشتہ آیت 36 میں جو احکام بیان ہوئے ہیں ان میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ ایمان والے وہ لوگ ہیں جو { اذا ما غضبوا ہم یغفرون } ” جب ان کو غصہ آجاتا ہے تو اس کو پی جاتے ہیں۔ “ یعنی جس پر غصہ آئے یا جو ان کو غصہ دلائے اس سے درگزر کر جاتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ اس کا مطلب کوئی غلط نہ سمجھ لے اور اس کا نتیجہ غلط نہ نکلنا شروع ہوجائے۔ فطرتِ انسانی ہے کہ اس کو غصہ آتا ہی اسی وقت ہے جب اس کے سامنے اس کی طاقت و قوت سے کم ہو اور وہ اس پر اپنے غصہ کو نکال سکے اپنے سے طاقتور پر اتنا جلدی غصہ نہیں آتا اور اگر آ بھی جائے تو جلد ہی رفوچکر ہوجاتا ہے۔ اس لیے زیر نظر آیت میں وضاحت فرما دی گئی کہ ایمان کی نشانی یا خوبی یہ ہے کہ جب اس کے سامنے اس کی طاقت و قوت سے کوئی کمزور ہوتا ہے اور پھر وہ اس کو غصہ دلاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کو غصہ آئے گا تو وہ اس غصہ پر ضبط کرجاتا ہے اور اس اپنے سے کمزوری آدمی سے درگزر کرجاتا ہے جس سے عام حالات میں انسان درگزر نہیں کرتا لیکن اگر اس ایمان والے کو کوئی کمزور سمجھ کر اس کو تنگ کرنا شروع کر دے اس کا مذاق اڑائے اور فی الواقع ایسا کرنے والا اس سے طاقتور بھی ہو تو اس وقت ایمان کی علامت یہ ہے کہ وہ شودر بن کر خاموش نہیں ہوجاتا کہ اس زور آور کا حق ہے کہ وہ مجھے دباتا رہے اور میں دیتا ہی جاؤں نہیں اس کا پھر وہ مقابلہ کرتا ہے اور اس کے سامنے سینہ سپر ہوجاتا ہے اور اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس کی عادت میں عفو و درگزر کرتا ہے۔ وہ کسی کمزوری کے باعث نہیں اور نہ ہی وہ غریب ظالم ہے بلکہ اس کی شرافت کا تقاضا ہے کہ جب وہ غالب تھا تو مغلوب کے قصور سے اس نے درگزر کردی جو ایک بہت بڑی خوبی کی بات ہے لیکن اب وہ خود طاقت و قوت والے کے سامنے مغلوب ہے لہٰذا اب اس کے ایمان کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ دب کر رہ جائے اور جو اس پر پہلے غالب ہے وہ مزید غالب آجائے ہرگز نہیں بلکہ اب ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں ڈٹ کر کھڑا ہوجائے اور اپنا جو دفاع اس سے ہو سکتا ہے اس سے بھی بڑھ کر دفاع کرے یہاں تک کہ اس کے دانٹ کھٹے کر دے مختصر یہ کہ مومن کسی ظالم اور متکبر کے سامنے نہیں جھکتا بلکہ حسن تدبیر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتا ہے اور اس کے سامنے لوہے کے چنے بن جانے کا زور لگاتا ہے تاکہ اس کو چبانے والا اپنے دانتوں کو توڑ بیٹھے اور اس کو معلوم ہوجائے کہ یہ میٹھی کھیر نہیں ہے اس لیے اس کو ہپ ہپ کر کے نہیں کھایا جاسکتا۔ بلاشبہ یہ بہادری اور شجاعت ہے جو ایمان کا ایک اہم حصہ ہے۔ آپ نے ابتدائے اسلام کے زمانہ کے حالات پڑھے ہوں گے اور یہ داستانیں سنی ہوں گی کہ فلاں صحابی غلام تھے ان پر فلاں مکہ کے چوہدری نے یہ یہ ظلم کیا فلاں کو فلاں سیٹھ نے اس طرح مار دی یہاں تک کہ اس نے مار مار کر اس کو ہلاک ہی کردیا۔ بلال کے ساتھ اسی طرح تعدی کی گئی ، عامر ، عمیر اور سمیہ کو اس طرح ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ خبیب بن ارت کو ان حالات سے دوچار ہونا پڑا تو آپ شاید سوچیں گے کہ یہ سب کمزور لوگ تھے اور طاقت وروں ہی نے ان کو ان حالات سے دوچار کیا اگر ایمان کا تقاضا یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے تو ان لوگوں نے ان ظالموں کا مقابلہ کیوں نہ کیا ؟ اگر کسی کے اندر یہ سوال پیدا ہو تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ سب لوگ مومن تھے اور ان سب لوگوں نے ظالموں کا مقابلہ کیا اور اپنے ایمان پر قائم رہے ان کے سامنے دبے نہیں ، جھکے نہیں بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ظالم ان کو مار مار کر تھک گئے اور پھر ان سے پوچھا کہ یہ ہمارے معبود اللہ کے ساتھ شریک ہیں یا نہیں تو ان کے منہ سے نہیں نکلا ہاں نہیں نکلا اگر یہ لوگ جھک جاتے تو آخر مار کیوں کھاتے۔ اگر یہ لوگ ظالموں کے سامنے دب جاتے تو ظالم ان کو کیوں پیٹتے۔ ان کا مار کھانا اور یہاں تک کہ مار کھاتے کھاتے مر جانا ہی اس کی علامت ہے کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاع تھے کہ کفر کے مقابلہ میں ایسے ڈٹے کہ جان دے دی لیکن اپنا موقف نہیں بدلا اور دنیا پر ثابت کردیا کہ شجاعت اور بہادری اس چیز کا نام ہے۔ وہ غریب اور کمزور ہونے کے باوجود جتھوں والوں اور ہتھوں والوں کو ہرا دیا وہ ظلم کر کر کے تھک گئے لیکن یہ ظلم سہتے سہتے نہیں تھکے اس سے زیادہ مقابلہ اور کیا ہو سکتا ہے بلاشبہ جو مقابلہ انہوں نے کیا اور جن حالات میں کیا یہ انہیں نفوس قدسیہ کا حصہ تھا کہ وہ کفر کے مقابلہ میں سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور وہ ایسے لوہے کے چنے بنے کہ بڑے بڑے ظالموں کے جبڑے ٹوٹ گئے لیکن وہ ان سے چبائے نہیں گئے۔ وہ ان کے گلے میں ایسے اٹکے کہ ظالم ان کو نگل ہی نہیں سکے۔ لاریب جب انہوں نے جو کردار چھوڑا وہی سچے ایمان کا تقاضا اور پکے ایمان کی تصویر ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین !
Top