Al-Qurtubi - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
(آیت نمبر 39 to 42) ان میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ والذین اذ آ اصابھم البغی یعنی مشرکوں کی جانب سے ان پر زیادتی کی جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کی وجہ یہ بنی کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر بغاوت کی انہیں اذیتیں دیں اور انہیں مکہ مکرمہ سے نکالا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نکلنے کی اجازت دی ‘ زمین میں انہیں اختیار دیا اور جنہوں نے بغاوت کی تھی ان کے خلاف مسلمانوں کی مدد کی اللہ تعلایٰ کے اس فرمان : اذن للذین یقتلون با نھم ظلموا وان اللہ علی نصر ھم لقدیر۔ الذین اخرجوا (الحجض کا یہی مصداق ہے۔ ایک قول ہی کیا گیا ہے : یہ ہر باغی میں عام ہے خواہ وہ کافر ہو یا مومن یعنی جب انہیں ظالم کی جانب سے ظلم پہنچتا ہے تو وہ اس کے ظلم کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے اس میں امر بالمعروف نہیں عن المنکر اور اقامت حدود کی طرف اشارہ ہے۔ ابن عربی نے ذکر کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ظلم کی صورت میں مدد کا ذکر مدح کے انداز میں کیا ہے ‘ ایک اور موقع پر جرم سے معافی کا ذکر مدح کے انداز میں کیا ہے تو یہ احتمال موجود ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو ختم کرنے والا ہے (1) اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ یہ دو حالتوں کی طرف راجع ہو ان دونوں حالتوں میں سے ایک حالت یہ ہے کہ باغی اعلانیہ فجور کرنے والا ہے عام لوگوں میں بےحیائی کا ارتکاب کرنے والا ہو اور چھوٹے بڑے کو اذیتیں دینے والا ہو تو ایسے شخص سے انتقام لینا افضل ہے اس کی مثل میں حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا : وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفوس کو ذلیل کریں کہ فاسق ان پر جری ہوجائیں۔ 2 ۔ وہ امر جلد بازی میں ہوجائے یا اس سے واقع ہو جو لغرش کا اعتراف کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طالب ہوتا ہے تو یہاں معاف کرنا افضل ہے اسی کی مثل میں یہ آیات نازل ہوئیں وان تعفوا اقرب للتقوی (البقرۃ :237) اللہ تعالیٰ کا فرمان : فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ (المائدۃ : 45) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولیعفوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم (النور :22) میں کہتا ہوں : یہ تعبیربہت اچھی ہے۔ کہا : طبری نے احکام میں یہی ذکر کیا ہے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان : والذین اذآ اصابھم البغی ھم ینتصرون۔۔ اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس موقع پر اتقام لینا افضل ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قبول کرنے اور نماز قائم کرنے کے ذکر کے ساتھ اسے ملایا ہے یہ اسی معنی پر محمول ہے (1) جو ابراہیم نخعی نے ذکر کیا ہے وہ مومنوں کے لیے اس امر کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آ پکو ذلیل کردیں ‘ فساق ان پر جری ہوجائیں یہ اس آدمی کے بارے میں ہے جو حد سے تجاوز کرے اور اس پر اصرار کرے۔ وہ موقع جس میں معافی کا حکم دیا گیا ہے وہ اس وقت ہوگا جب جنایت کرنے والا شرمندہ ہو اور غلطی کا ازالہ کرنے والا ہو اس آیت کے بعد ارشاد فرمایا : ولمن انتصر بعد ظلمہ فا ولئک ما علیھم من سبیل۔ یہ انتقام لینے کے مباح ہونے کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کا حکم دیتا ہے اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا : ولمن صبرو غفر ان ذلک لمن عزم الامور۔ یہ غیر مصر کے لیے بخشش پر محمول ہے جہاں تک اس آدمی کا تعل ق ہے جو بغی اور ظلم پر مصر ہوتا ہے تو اس سے انتقام لینا افضل ہوتا ہے کیونکہ اس سے ماقبل آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف باہم مدد کرتے ہیں یہاں تک کہ ظلم اپنے آپ سے دور کرلیتے ہیں (2) ؛ اور اس کو دور کرتے ہیں یہ ابن بحر نے کہا جسطرح ہم نے ذکر کیا ہے یہ عموم کی طرف لوٹتا ہے۔
Top