Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ مناسب بدلا لیتے ہیں۔
(39) اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے اور ان پر چڑھائی ہوتی ہے تو ہے تو وہ مناسب بدلا لیتے ہیں۔ یعنی دین کے بارے میں اگر کوئی زیادتی کرتا ہے تو مناسب یعنی برابر کا بدلا لیتے ہیں اوپر کی آیت میں درگزر کرنے پر تعریف تھی یہاں انتقام پر ان کی مدح فرمائی یعنی اپنے حق میں درگزر اور عفوکا شیوہ رکھتے ہیں لیکن دین کے بارے میں سخت گیر اور منتقم ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافروں سے جہاد کرتے ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اگر کسی کمزور پر کوئی ظلم کرتے تو قبیلے کے بزرگ جمع ہوکر ظالم سے بدلا لیں۔
Top