Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور جب ان سے کوئی (ظلم اور) زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا (مقابلہ کرتے اور) بدلہ لیتے ہیں
82 اہل جنت کی چند اہم صفات کا ذکر وبیان : سو اہل جنت کی صفات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بچتے ہیں بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے۔ اور جب ان کو غضہ آجائے تو وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ جو حکم مانتے ہیں اپنے رب کا اور وہ قائم رکھتے ہیں فریضہ نماز کو۔ اور جن کے اہم معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اور جو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور جب ان سے کوئی ظلم اور زیادتی کرے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی وہ غصہ آنے پر معاف کردینے کی عادت تو رکھتے ہیں مگر وہاں جہاں کہ اس کا موقع ہو۔ اور اس کا اچھا نتیجہ نکلتا ہو۔ اور فتنہ و فساد فرو ہوتا ہو۔ ورنہ وہ ظالم اور سرکش لوگوں کے لئے کوئی سبز چارہ نہیں ہوتے کہ جو چاہے انہیں آسانی سے چبا جائے۔ بلکہ وہ ظلم اور سرکشی کا مقابلہ کرتے ہیں تاکہ ظلم فروغ نہ پا سکے۔ جیسا کہ صحابہ کرام ؓ کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ } ۔ ان آیات کریمہ میں اہل جنت کی دس صفتیں بیان فرمائی گئی ہیں جو کہ عظیم الشان اور انقلاب آفریں صفات ہیں۔ اور اہل ایمان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن اور حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار کرنے والی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کو ان سے سرفراز فرمائے اور مسلم معاشرے کو ان کی برکات سے مالا مال فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔ سو جو لوگ جنت سے سرفرازی چاہتے ہوں وہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کریں ۔ اللہ توفیق نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Top