Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اسکے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں
(42:41) ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیہم من سبیل واؤ عاطفہ لمن شرطیہ اور جملہ لمن انتصر بعد ظلمہ شرط۔ فاولئک ما علیہم من سبیل جواب شرط۔ انتصر ماضی واحد مذکر غائب انتصار (افتعال) مصدر۔ اس نے مدد طلب کی۔ انتصار کے معنی مدد طلب کرنے کے ہیں۔ ظالم سے انتصار کے معنی اس کو سزا دینا اور اس سے انتقام لینے کے ہیں باب استفعال سے بھی مدد مانگنا کے معنی آتے ہیں۔ مثلا وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر (8:72) اور اگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم۔ سبیل : راستہ ۔ واہ۔ سبیل اس راہ کو کہتے ہیں جو واضح ہو اور اس میں سہولت ہو۔ پھر سبیل کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو کسی دوسری چیز تک رسائی کا ذریعہ ہو عام اس سے کہ وہ چیز خبر ہو یا شر۔ قرآن مجید میں ہے ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ (16:125) اے پیغمبر (لوگوں کو) اپنے رب کے راستے کی طرف (یعنی راہ حق کی طرف) حکمت و دانش سے بلاؤ سبیل اللّٰہ سے مراد جہاد، حج۔ طلب علم اور وہ امور خیر جن کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ محاورہ ہے لیس علی فی ھذا سبیل اس بارے میں مجھ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے یا لیس لک علی من سبیل تمہیں میرے سے مؤاخذہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جس نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے لیا۔ پس یہ لوگ ہیں ان پر کوئی علامت نہیں (ان پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے) ما نافیہ ہے۔
Top