Asrar-ut-Tanzil - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور تم جس بات میں کچھ اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ یہی اللہ میرا پروردگار ہے ، میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
آیات 10 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے بنادیئے کہ ان کی بقائے نسل کا باعث ہو اور یوں وہ تمہاری نسلوں کے کام آتے رہے کتنے احسانات ہیں اس کے یوں تمہیں دنیا میں بساتا ہے اور اس کی مثل کوئی دوسری ہستی نہیں وہ سب کچھ سننے والا اور ہر شے کو دیکھنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جس طرح اس نے خزانے پیدا فرمائے اسی طرح ان پر حکم بھی اسی کا چلتا ہے سب کی کنجیاں اسی کے دست قدرت میں ہیں جسے چاہتا ہے بیشمار نعمتیں عطا کردیتا ہے کسی کو دولت میں کسی کو اقتدار کی صورت میں کسی کو علم اور وقار کسی کو صحت و طاقت کسی کو جسمانی تو کسی کو روحانی انعامات سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے کم کردیتا ہے کہ ان سب امور سے وہ خوب واقف ہے ہر کسی کو اپنی حکمت سے اس کی مصلحت کے مطابق عطا کرتا ہے اس کریم نے تمہارے لیے وہی دین مقرر فرمایا ہے جو نوح (علیہ السلام) کو عطا ہوا ہے اسی کا حکم آپ کی طرف بھی نازل ہوا ہے کہ اصول اور بنیاد یعنی توحید و رسالت آخرت جنت دوزخ فرشتوں کا وجود اور اصول عبادات نماز روزہ وغیرہ یاچوری ڈاکے زنا اور اس طرح کی برائیوں کی حرمت میں تو سب متفق ہیں اور اسی دین کا حکم ابراہیم (علیہ السلام) کو موسیٰ وعلیہما السلام کو ہوا۔ اصول دین تمام ادیان میں ایک تھے اور نوح (علیہ السلام) سے تذکرہ۔ اب اس میں اختلاف ڈالنے کی کوشش نہ کرو جیسا کہ لکھاجاچکا اصول دین تو تمام ادیان میں ایک تھے احکام میں ضرورت کے مطابق تبدیلی فرمائی گئی اللہ کریم نے ہر قوم کی آسانی کے لیے احکام میں اس کی رعایت فرمائی اور نوح (علیہ السلام) سے بات شروع فرمائی گئی اگرچہ پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے مگر مفسرین کرام کے مطابق شرک نوح (علیہ السلام) کے عہد سے شروع ہوا پھر یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت مانتے تھے اور خود کو ان کے طریقہ پر کہتے تھے نیز موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے بھی تھے تو سب سے ارشاد ہوا کہ اب اس حقیقت میں اختلاف مت ڈالو بلکہ دین کو قائم رکھو۔ اقامت دین فرض ہے اور تفرقہ حرام ہے۔ اور دین حق پہلے انبیاء کا بھی وہی تھا جو آپ نے واضح فرمادیا اور اب اس کی اقامت کی دو صورتیں ہیں کہ اس صدق دل سے قبول کرکے اس پر عمل کیا جائے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا کام کیا جائے اور تفرقہ انہیں قطعی احکام و عقائد میں جن میں تمام انبیاء کا دین ہے اختلاف کرنے کو کہا گیا جو حرام ہے جس طرح مشرکین نے ذات باری تک یا یہودی ونصاری نے انبیاء کے ساتھ عقیدے میں اختلاف کررکھا تھا قطعی احکام کو بدل کر رسومات جاری کررکھی تھیں اس میں فروعی مسائل جو نص قرآن سے یاسنت سے ثابت نہ ہوں ان میں مجتہدین کا اجتہاد سے رائے قائم کرنا اور اس میں اختلاف کا ہونا مذکور نہیں بلکہ یہ تو صحابہ میں بھی تھا اور اس کو حدیث شریف میں باعث برکت کہا گیا ہے آپ کی دعوت الی اللہ مشرکین کو بہت گراں گزرتی ہے توحید کی بات تک سننا گوارا نہیں مگر اللہ اپنے لیے چن لیتا ہے بندوں کو اور جس کے دل میں رجوع الی اللہ پیدا ہوا اسے بھی اپنی راہ بجھادیتا ہے۔ ہدایت کے دو انداز۔ صراط مستقیم پرچلنے کے دوہی طریقے ہیں اول یہ کہ اللہ کریم خود کسی کو اس کام کے لیے چن لے اور یہ بنی آدم کی راہنمائی کے لیے ہوتا ہے جیسے انبیاء (علیہم السلام) اور خاص خاص اولیائے کرام جن کے بارے میں ارشاد ہے۔ انااخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار۔ یعنی ان لوگوں کو ہم نے فکر آخرت کے لیے خاص کردیا ہے یہ طریقہ محدود ہے اور دوسرا اور عام طریقہ یہ ہے کہ جس کسی کے دل میں اللہ کے دین پرچلنے کا ارادہ پیدا ہو اسے ہدایت تک پہنچادیتا ہے۔ اور جن لوگوں نے بھی قطعی اور حق باتوں میں اختلاف کیا خواہ وہ پہلی امتوں میں سے تھے یا اس امت کے تو انہوں نے حقیقت کا علم ہوجانے کے بعد کیا اور سب کچھ آپس کی ضد میں اور اپنے اپنے مفادات کے لالچ میں کرگزرے حصول اقتدار یاحصول زر کی خواہشات سے مغلوب ہوکراختلافات کو ہوا دی اور الگ الگ راہ اپنائی اور اگر اللہ کریم کی طرف سے فیصلہ کا دن طے نہ ہوچکا ہوتویہ اتنابڑاجرم ہے کہ انہیں ابھی سے فیصلہ سنادیاجاتا اور اب جب ان لوگوں کو آپ کے ذریعہ ان کے بعد کتاب نصیب ہوئی تو یہ انہی کی طرح شک اور تردد میں گرفتار ہیں جو انہیں چین نہیں لینے دیتا مگر آپ ان کی باتوں کی پر اوہ نہ کیجئے کہ یہ تو چاہتے ہیں کہ آپ دین بیان کرنا چھوڑ دیں مگر آب اپنے طرز عمل پر جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے جمے رہیں ، اور دعوت الی اللہ کا کام کیے جائیں اور ان کی اس خواہش کو کبھی پورا نہ ہونے دیں اور انہیں فرمادیجئے کہ میں اسی پر ایمان لایا ہوں جو کچھ اللہ رب العزت نے قرآن میں نازل فرمایا ہے اور مجھے اللہ نے تمہارے درمیان عدل کا حکم فرمایا ہے کہ تمام قطعی امور کو یاتوحید کے ساتھ سب انبیاء کو برابر مانوں یا جو تمہیں کرنے کا حکم دوں خود بھی اس پر عمل کروں یا تمہارے جھگڑے میرے پاس آئیں تو انصاف سے طے کروں ۔ اس لیے اللہ ہی ہمارا پروردگار بھی ہے اور تم سب کا بھی ہم اپنے کردار عمل کا نتیجہ پائیں گے جبکہ تمہارا عمل تمہارے لیے ہے اس میں بےکار بحث کی ضرورت نہیں جبکہ دلائل واضح ہوچکے تو پھر بحث برائے بحث کا کچھ فائدہ نہیں اب تو اللہ کے حضور فیصلہ ہوگا جو ہم سب کو میدان حشر میں جمع فرمائے گا اور سب نے پھر کر اسی کی طرف جانا ہے جو لوگ اللہ کی توحید اور اس کی ذات وصفات میں خواہ مخواہ حجت بازی کرتے ہیں حالانکہ سمجھدار اور انصاف پسند لوگ اسلام کو قبول کرچکے ہیں اور اس پر عمل کے خوبصورت نتائج دنیا میں بھی ان کی زندگی میں حسین تبدیلی سے واضح ہو رہے ہیں تو ان کی حجت بازی کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں بلکہ ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور بہت سخت عذاب ہوگا اور اللہ وہ کریم ہے جس نے کتاب نازل فرمائی اور ہر کام میں انصاف کا حکم دیا المیزان ، ترازو ، یعنی ہر کام میں ہر ایک حق میں انصاف پھر قیامت سرپرکھڑی ہے اور کون جانے کہ وہ بہت ہی قریب ہو ۔ کفار جو اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ مذاق کرتے ہیں کہ اگر قیامت ہے تو پھر ہوجائے مگر جنہیں دولت ایمان نصیب ہے وہ اس روز کے محاسبے سے لرزاں وترساں رہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ یہ حق ہے اور ضرور واقع ہوگا جان لو جن لوگوں کو قیامت پہ اعتبار نہیں اور اس کے وقوع میں بھی بحث کرتے ہیں یہ بہت بڑی گمراہی کا شکار ہوچکے ہیں اللہ کریم اپنے بندوں پہ بہت مہربان ہے اور اس کا لطف وکرم عام ہے اور سب کو روزی پہنچاتا ہے ہر ایک کو ہر جگہ رزق دیتا ہے اور وہ زبردست ہے اور غالب کہ جو چاہے کرسکتا ہے۔
Top