Tafseer-e-Baghwi - Al-Hashr : 8
لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ
لِلْفُقَرَآءِ : محتاجوں کیلئے الْمُهٰجِرِيْنَ : مہاجر (جمع) الَّذِيْنَ : وہ جو اُخْرِجُوْا : نکالے گئے مِنْ دِيَارِهِمْ : اپنے گھروں سے وَاَمْوَالِهِمْ : اور اپنے مالوں يَبْتَغُوْنَ : وہ چاہتے ہیں فَضْلًا : فضل مِّنَ اللّٰهِ : اللہ کا، سے وَرِضْوَانًا : اور رضا وَّيَنْصُرُوْنَ : اور وہ مدد کرتے ہیں اللّٰهَ : اللہ کی وَرَسُوْلَهٗ ۭ : اور اس کے رسول اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ هُمُ : وہ الصّٰدِقُوْنَ : سچے
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجت مندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے
7 ۔” ماافاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ “ یعنی بستیوں والے کفار کے اموال سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ قریظہ، نضیر، فدک ، خیبر اور عرینہ کی بستیاں ہیں۔ ” فللہ وللرسول ولذی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل “ اور تحقیق ہم نے سورة الانفال میں غنیمت کے حکم کو ذکر کردیا ہے اور فئی کا حکم بیشک فئی کا مال آپ (علیہ السلام) کی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ہوگا جہاں چاہیں اس کو خرچ کریں اور آپ (علیہ السلام) اس میں سے اپنے اہل کو ان کا سالانہ خرچ دیتے تھے اور جو باقی بچتا اس کو اللہ تعالیٰ کے مال کی جگہ رکھتے اور اہل علم کا رسول اللہ ﷺ کے بعد فئی کے مصرف میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے وہ آپ (علیہ السلام) کے بعد امام وقت کے لئے ہوگا اور امام شافعی (رح) کے اس میں دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ مال فئی مجاہدین کو ملے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ مسلمانوں کی ضروریات کے لئے ہوگا اور ابتداء لڑنے والوں کی جائے گی۔ پھر اس کے بعد جو اہم ضروریات ہوں اور علماء کا مال فئی کا خمس دینے میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ان میں سے بعض اسی طرح گئے ہیں کہ مال فئی کا خمس نکالا جائے گا۔ پس اس کا خمس (پانچواں حصہ) غنیمت کے پانچویں حصہ کے مستحقین کے لئے ہوگا اور چار خمس لڑنے والوں کے لئے اور مسلمانوں کی ضروریات کے لئے۔ اور اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ اس کا خمس نہیں نکالا جائے گا بلکہ اس تمام کا مصرف ایک ہے اور تمام مسلمانوں کا اس میں حق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے پڑھا ” ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ “ یہاں تک کہ ” للفقراء المھاجرین…والذین جاء وامن بعدھم “ پر پہنچ گئے۔ پھر فرمایا اس نے تمام مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے اور فرمایا زمین پر کوئی مسلمان نہیں مگر اس کا اس فئی میں حق ہے مگر جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں۔ ” کیلا یکون دولۃ “ اکثر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” دولۃ “ نصب کے ساتھ یعنی تاکہ یہ فئی نہ ہو ۔” لکیلا یکون الفئی دولۃ “ اور ابو جعفر (رح) نے ” تکون “ تاء کے ساتھ ” دولۃ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” کان “ کے اسم کی بناء پر۔ یعنی ” کیلا یکون الامرالی دولۃ “ اور ” کینونۃ “ کو وقوع (واقع ہونے) کے معنی میں کیا ہے اور اس وقت اس کی کوئی خبر نہ ہوگی اور ” دولۃ “ اس چیز کا نام ہے جس کو لوگ آپس میں ہاتھوں ہاتھ لیں۔ ” بین الاغنیاء منکم “ یعنی مال داروں اور طاقتوروں کے درمیان۔ اس کا معنی تاکہ مال فئی مال داروں اور طاقت وروں کے ہاتھوں میں چکر نہ لگاتا رہے۔ پس وہ اس پر فقراء اور ضعفا پر غالب ہوجائیں کیونکہ اہل جاہلیت جب غنیمت حاصل کرتے تھے تو سردار لوگ اس کا چوتھا حصہ اپنے لئے رکھ لیتے تھے اور یہ مرباع ہے۔ پھر اس مرباع کے بعد جو چاہتے مال غنیمت سے چن لیتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے رسول ﷺ کے لئے بنادیا کہ جہاں اللہ نے حکم دیا ہے وہاں تقسیم کریں۔ پھر فرمایا ” ومکا آتاکم “ تم کو عطا کردیں ” الرسول “ فئی اور غنیمت میں سے۔ ” فخذوہ ومانھا کم عنہ “ مال غنیمت میں خیانت وغیرہ سے۔” فانتھوا “ اور ۔۔ اموال فئی کے بارے میں اترا ہے اور یہ عام ہے جس چیز کا بھی آپ (علیہ السلام) حکم دیں اور جس چیز سے بھی روک دیں۔ حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے ہاتھ میں گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بالوں کو اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں میں خلا پیدا کرنے والیوں پر جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کرنے والیاں ہیں۔ تو یہ بات بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی اس کو ام یعقوب کہا جاتا تھا تو وہ آئی اور کہنے لگی مجھے آپ ؓ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ؓ نے ایسی ایسی عورت کو لعنت کی ہے تو آپ ؓ نے فرمایا اور مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اس عورت کو لعنت نہ کروں جس کو رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے تو اس عورت نے کہا تحقیق میں نے دو تختیوں کے درمیان جو کچھ ہے اسے پڑھا ہے پس میں نے اس میں وہ نہیں پایا جو آپ ؓ کہہ رہے ہیں۔ آپ ؓ نے فرمایا البتہ اگر تم اس کو پڑھتی تو اس میں ضرور پاتی کیا تونے نہیں پڑھا ؟ ” وما آتاکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ فانتھوا “ اس نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ؓ نے فرمایا کہ تحقیق آپ ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ ” واتقواللہ ان اللہ شدید العقاب “ پھر ان کو بیان کیا جن کا فئی میں حق ہے۔
Top