آیت نمبر 24, 23, 22, 21
تفسیر : (ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا) ظلم سے مراد کفر ۔ کذبا سے مراد اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے ( اوکذب بایتہ) کو (انہ لایفلح الظلمون) کافروں کو۔
(ویوم فحشرھم جمیعا) یعنی عابد اور معبود سب کو قیامت کے دن۔ یعقوب نے یہاں اور سورة سباء میں ” یحشرھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور حفص نے ان کی موافقت سورة سباء میں کی ہے اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ( ثم تقول للذین اشرکوا این شرکائو کم الذین کنتم تزعمون ) کہ وہ تماری سفارش کریں گے تمہارے رب کے سامنے۔
(ثم لم تکن فتنتھم ) حمزہ، کسائی اور یعقوب نے ” یکن “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ فتنہ افتنان کے معنی میں ہے تو فعل کو مذکر لانا جائز ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” فتنۃ “ کے مونث ہونے کی وجہ سے اور ابن کثیر ، ابن عامر اور حفص نے عاصم رحمہما اللہ سے ” فتنتھم “ کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کو ” کان “ کا اسم قرار دیا ہے اور باقی حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کو خبر بنایا ہے اور کان کا اسم ” ان قالوا “ کو بنایا ہے۔ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ فتنہ سے مراد ان کی معذرت ہے۔ بعض علماء نے فتنہ کا ترجمہ تجربہ سے کیا ہے چونکہ ان کے اندرونی خیال کو ظاہر کرانے کا ایک تجربہ ہوگا۔ اس لیے جواب کو تجبرہ فرمایا زجاج کا قول ہے کہ یہ لفظ اس جگہ ایک لطیف معنی کی طرف اشارہ کرہا ہے بعض محب محبوب پر شیفتہ فریفتہ ہوتے ہیں لیکن جب اس شیفتی اور عشق میں ان پر مصائب آتے ہیں تو وہ محبوب سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ پھر اس وقت ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ تمہارا عشق بس اتنا ہی ہوا کہ دکھ پڑا تو عشق بھول گیا۔ قیامت کے دن بتوں کی محبت سے بھی کافر اسی طرح بیزاری کریں گے۔ الا ان قالوا واللہ ربنا ماکنا مشرکین) حمزہ اورک سائی رحمہما اللہ نے ” ربنا “ کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ ” منادی “ مضاف ہے اور باقی حضرات نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ ” واللہ “ کی لغت ہے اور کہا گیا ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا منظر اور اہل توحید سے درگزر کا معاملہ دیکھیں گے تو آپس میں کہنے لگیں گے کہ آئو ہم شرک کو چھپالیتے ہیں تاکہ اہل توحید کے ساتھ نجات پاجائیں تو کہیں گے ( الا ان قالواو اللہ ربنا ماکنا مشرکین) تو ان کے منہ پر مہر لگادی جائے گی اور ان کے خلاف ان کے اعضاء کفر کی گواہی دیں گے۔
(انظر کیف کذبوا علی انفسھم) باطل عذر کرکے اور شرک سے بیزاری ظاہر کرکے ( وضل عنھم ماکانوا یفترون) یعنی جن بتوں کو خدا بنایا کرتے تھے وہ ان سے چلے گئے کیونکہ وہ تو ان کی شاعت اور مدد کی امید رکھتے تھے قیامت کے دن اس سب امیدوں پر پانی پھر گیا۔