Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 18
وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ
وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے اتارا مِنَ السَّمَآءِ : آسمانوں سے مَآءً : پانی بِقَدَرٍ : اندازہ کے ساتھ فَاَسْكَنّٰهُ : ہم نے اسے ٹھہرایا فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَاِنَّا : اور بیشک ہم عَلٰي : پر ذَهَابٍ : لے جانا بِهٖ : اس کا لَقٰدِرُوْنَ : البتہ قادر
اور صبح و شام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو
(76:25) واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلا۔ واؤ عاطفہ اذکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ذکر (باب نصر) مصدر سے۔ جس کے معنی یاد کرنے یا ذکر کرنے کے ہیں ۔ اسم ربک مضاف مضاف الیہ مل کر اذکر کا مفعول ۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کر۔ یہاں ذکر سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ ای وصل لربک اپنے رب کی نماز پڑھ۔ بکرۃ دن کا اول حصہ۔ یا اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ اصلا شام۔ عصر و مغرب کے درمیانی وقت کو کہتے ہیں۔ دن کا پچھلا حصہ۔ اس سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں۔ بکرۃ واصیلا منصوب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے یا بوجہ اذکر کے ظرف ہونے کے۔
Top