Dure-Mansoor - Aal-i-Imraan : 53
رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ
رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے بِمَآ : جو اَنْزَلْتَ : تونے نازل کیا وَاتَّبَعْنَا : اور ہم نے پیروی کی الرَّسُوْلَ : رسول فَاكْتُبْنَا : سو تو ہمیں لکھ لے مَعَ : ساتھ الشّٰهِدِيْنَ : گواہی دینے والے
اے ہمارے رب ہم اس پر ایمان لائے جو آپ نے نازل فرمایا اور ہم نے رسول کا اتباع کیا آپ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجئے جو تصدیق کرنے والے ہیں۔
(1) الفریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے الطبرانی میں ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاکتبنا مع الشھدین “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ اور آپ کی امت کے ساتھ ہم کو لکھ دیجئے آپ کی امت نے گواہی دی کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور انہوں نے رسولوں کے بارے میں بھی گواہی دی کہ ان سب نے بھی اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ (2) عبد بن حمید وابن المنذر نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاکتبنا مع الشھدین “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے اصحاب کے ساتھ ہم کو بھی لکھ دیجئے۔ (3) ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز ختم فرما لیتے تو یہ دعا کرتے۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ لفظ آیت : اللہم انی اسئلک بحق السائلین علیک فان للسائلین علیک حقا ایما عبد او امۃ من اھل البر والبحر تقبلت دعوتہم واستجبت دعاۂم ان تشرکنا فی صالح ما یدعونک بہ وان تعافینا وایاہم وان تقبل منا ومنہم وان تجاوز عنا وعنہم بانا امنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاھدین۔ ترجمہ : اے اللہ ! سوال کرنے والوں کے حق کے ساتھ جو تجھ پر ہے اور بلا شبہ سوال کرنے والوں کا تجھ پر حق ہے جس بندہ یا بندی کی خشکی والوں میں سے یا تری والوں میں سے تو دعا قبول کرلے تو ہم کو شریک کر دے ان نیک دعاؤں میں سے جو وہ تجھ سے کرتے ہیں اور تو معاف کر دے ہم سے اور ان سے درگذر فرما دے اس وجہ سے کہ ہم ایمان لے آئے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کا اتباع کیا سو ہم کو لکھ دے گواہی دینے والوں میں سے۔ اور رسول اللہ ﷺ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی ان کلمات کے ساتھ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو شریک فرما دیتے ہیں خشکی اور تری کے رہنے والوں کی دعاؤں میں اور ان سب (مخلوق) کی دعاؤں میں (اس کو) شامل فرما دیتے ہیں اور وہ اپنی جگہ پر ہوتا ہے۔ (4) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے انیس حواریوں کا ایک گھر میں محاصرہ کرلیا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اصحاب سے فرمایا کون میری صورت بناتا ہے تاکہ وہ قتل کردیا جائے (میرے بدلے میں) اور اس کے جنت ہوگی ؟ ان میں سے ایک آدمی نے ان کی صورت بنا لی اور عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر المکرین “ یعنی یہودیوں نے مکر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر بنائی اور اللہ تعالیٰ بہترین خفیہ تدبیر بنانے والے ہیں۔
Top