Dure-Mansoor - Al-Insaan : 20
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے گی
قیامت کے روز سب سے پہلے قبر سے نکلنا۔ 54۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے نکلنے والا ہوں جب لوگ نکلیں گے۔ اور میں ان کا قائد ہوں گا جب وہ چلیں اور میں ان کا خطیب ہوں گا جب وہ خاموش ہوں گے اور عزت و کرامت اور چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی۔ اور حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور آدم (علیہ السلام) اور اس کے علاوہ اور لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور مجھے کوئی فخر نہیں اور ان پر ایک ہزار خادم گشت کریں گے اور اتنے خوبصورت ہوں گے گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپائے ہوئے یا موتی ہیں بکھرے ہوئے۔ 55۔ ابن المبارک وہناد وعبد بن حمید والبیہقی نے البعث میں ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ اہل جنت میں سے درجہ کے لحاظ سے ادنیٰ جنتی وہ ہوگا جس کے سامنے ایک ہزار خادم اس کی خدمت کے لیے دوڑ رہے ہوں گے ہر ایک ایسے عمل پر ہوگا جس پر اس کا ساتھی نہیں ہوگا۔ 56۔ الحاکم والبیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اہل جنت کی سواریوں کا ذکر فرمایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت واذا رأیت نعیما وملکا کبیرا اور جب تو وہاں دیکھے گا تو نعمت اور بڑی سلطنت دیکھے گا۔ 57۔ عبد بن حمید وابن جریر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے آیت واذا رأیت ثم رأیت نعیما وملکا کبیرا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے فرشتوں کی اجازت مراد ہے کہ وہ ان پر بغیر اجازت داخل نہیں ہوں گے۔ 58۔ ابن جریر نے سفیان (رح) آیت ملکا کبیرا کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بت پہنچی کہ فرشتے ان پر داخل ہونے کے لیے اجازت لیں گے۔ 59۔ ابن وہب نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت میں سے رتبہ کے لحاظ سے ادنی جنتی وہ ہے جو ہزاروں ایک ہی حالت پر رہنے والے بچوں میں سے خدام کے ساتھ سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہوگا اور اس گھوڑے کے سونے کے پر ہوں گے پھر یہ آیت پڑھی آیت واذا رأیت ثم ررأیت نعیما وملکا کبیر۔ روایت مرسل ضعیف السند ہے۔ 60۔ عبد بن حمی دوابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس حال میں تشیرف لائے کہ آپ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک چٹائی پر آرام فرما تھے جس کے نشان آپ کے پہلوں میں ظاہر تھے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت عمر ؓ رونے لگے۔ آپ نے پوچھا تو کیوں روتا ہے۔ عمر ؓ نے عرض کیا مجھے کسریٰ اور اس کی بادشاہی اور قیصر اور اس کی بادشاہی اور حبشہ اور اس کی بادشاہی یاد آگئی۔ کہ وہ کتنے آرام و آسائش میں رہتے ہیں۔ اور آپ اللہ کے رسول ہو کر ایک کھجور کی چٹائی پر آرام فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ ان کے لیے دنیا ہے اور ہمارے لیے آخرت ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت واذا رأیت ثم رأیت نعیما وملکا کبیرا۔
Top