Madarik-ut-Tanzil - Al-Insaan : 20
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے
20 : وَاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ (اے مخاطب ! اگر تو اس جگہ کو دیکھے) ثمؔ۔ یہ ظرف ہے۔ اس جگہ سے مراد جنت ہے۔ رأیت کا کوئی مفعول ظاہر نہیں ہے۔ اور نہ ہی مقدر ہے۔ تاکہ ہر ہر مرئی چیز میں شائع ہو اس کی تقدیرعبارت اس طرح ہے۔ واذا اکتسبت الرویۃ فی الجنۃ۔ اور جب تم جنت میں رؤیت کرلو۔ رَاَیْتَ نَعِیْمًا (پھر تو بہت سی نعمتیں دیکھے گا) وَّ مُلْکًا کَبِیْرًا (اور بڑی سلطنت) اور وسیع ملک۔ کبیر وسیع کے معنی میں ہے۔ روایت میں ہے ادنی جنتی کو ایسی بادشاہت ملے گی کہ وہ ایک ہزار سال کی مسافت کے برابر ہوگی۔ وہ اپنی سلطنت کے قریبی حصہ کو جس طرح دیکھے گا اسی طرح اس کے آخری حصہ کو بھی دیکھے گا۔ ] رواہ احمد : 2/64 الترمذی : 2556[ ایک قول یہ ہے ایسی بادشاہی جس کو زوال نہیں۔ نمبر 2۔ اس میں ان کو اپنی چاہت کے مطابق ہر چیز میسر ہوگی۔ نمبر 2۔ ان کو فرشتے سلام کریں گے اور ان کے پاس اجازت لے کر داخل ہونگے۔
Top