Anwar-ul-Bayan - Al-Insaan : 20
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے
(76:20) واذا رایت لم۔ واؤ عاطفہ رایت ماضی واحد مذکر حاضر رایت فعل متعدی ہے لیکن یہاں ظاہر یا مقدر اس کا مفعول مذکور نہیں ہے لہٰذا قائم مقام فعل لازم کے ہے۔ ثم بمعنی وہاں ۔ وہیں، اس جگہ۔ اسم اشارہ ہے مکان بعید کے لئے آتا ہے اور اعتبار اصل کے ظرف ہے۔ یہاں رایت کے ظرف مکان کے طور پر آیا ہے بمعنی وہاں ۔ یعنی جنت میں۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ (زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ (مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں (کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ (تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ (تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ (تفسیر ماجدی) مطلب یہ کہ جنت میں نعمتیں ہی نعمتیں نظر آئیں گی اور ایک وسیع مملکت ہوگی جو خداوند کریم نے اپنے ایک ایک بندے کو دیدی ہے۔ نعیما۔ اسم منصوب۔ کثیر نعمت۔ ملکا بادشاہی، سلطنت (باب ضرب سے مصدر بھی ہے) ملکا کا عطف نعیما پر ہے اور کبیرا صفت ہے ملکا کی۔ بڑی وسیع مملکت۔
Top