Anwar-ul-Bayan - Al-Insaan : 20
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے گی
﴿وَ اِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّ مُلْكًا كَبِيْرًا 0020﴾ (اور اے مخاطب اگر تو وہاں نعمتوں کو دیکھے گا تو تجھے بڑا ملک نظر آئے گا) ۔ اس میں جنت کی وسعت بتائی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ ایسے ہی چھوٹے موٹے گھر اور باغیچے ہوں گے جیسے دنیا میں ہوتے ہیں۔ درحقیقت وہاں بہت بڑا ملک ہے ہر ہر شخص کو جو جگہ ملے گی اس کے سامنے ساری دنیا کی وسعت ہیچ ہے۔ سب سے آخر میں جو شخص جنت میں داخل ہوں گا اللہ تعالیٰ کا اس سے ارشاد ہوگا کہ جا جنت میں داخل ہوجا تیرے لیے اس دنیا کے برابر جگہ ہے اور اس جیسی دنیا کے برابر دس گنا اس کے علاوہ اور ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس شخص کے بارے میں یوں کہا جاتا تھا کہ وہ اہل جنت میں سب سے کم درجہ کا جنتی ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 492 از بخاری و مسلم) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ ادنیٰ درجہ کا جنتی اپنے باغوں اور بیویوں اور نعمتوں اور خادموں اور مسہریوں کو ہزار سال کی مسافت میں دیکھے گا (یعنی اپنی مذکورہ نعمتوں کو اتنی دور تک پھیلی ہوئی دیکھتا چلا جائے گا جتنی دور تک ہزار سال میں چل کر پہنچے) ۔ اور اللہ کے ہاں سب سے بڑا معزز وہ شخص ہوگا جو صبح شام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔ اس کے بعد آپ نے آیت کریمہ ﴿وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ0022 اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ0023﴾ پڑھی (جو عنقریب ہی سورة القیامۃ میں گزر چکی ہے) ۔ (رواہ احمد والترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 501)
Top