Ruh-ul-Quran - Al-Insaan : 20
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
جب تم دیکھو گے وہاں تو دیکھو گے عظیم نعمت اور عظیم پادشاہی
َاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکًا کَبِیْرًا۔ (الدہر : 20) (جب تم دیکھو گے وہاں تو دیکھو گے عظیم نعمت اور عظیم پادشاہی۔ ) جنت کی حیرت انگیز تصویر جنت کی اس سے بہتر تصویرکشی نہیں ہوسکتی۔ کسی بھی مسکن کے بارے میں خوبصورت سے خوبصورت تصور اس سے زیادہ نہیں باندھا جاسکتا کہ وہاں زندگی کی ہر نعمت میسر ہو اور آدمی اپنے آپ کو یوں محسوس کرے کہ یہاں کی ہر چیز میرے تابع اور میری محکوم ہے اور میں ہر چیز پر حکمرانی کر رہا ہوں۔ جنت کی یہی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جنت میں داخل ہونے والا چاہے کتنا بھی معمولی آدمی ہو اور دنیا میں اس نے کیسی بھی دکھ بھری اور فاقوں کی زندگی گزاری ہو وہ جنت میں یوں محسوس کرے گا کہ میں جس نعمت کا تصور کرتا ہوں اس سے بڑھ کر نعمتیں میرے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ میرا تصور شکست کھا جاتا ہے لیکن نعمتیں شکست نہیں کھاتیں۔ اسی طرح ادنیٰ سے ادنیٰ جنتی بھی اپنے آپ کو بہت بڑی سلطنت کا مالک دیکھے گا۔ جہاں تک وہ تصور کرسکتا ہے وہیں تک اس کی حکومت پھیلی ہوئی ہوگی۔ اس سے بڑھ کر بڑی سے بڑی قربانی کے بھی صلے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Top