Tafseer-e-Mazhari - Al-Insaan : 20
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے
واذا رایت . رأیت فعل متعدی قائم مقام لازم کے ہے ‘ فعل محذوف ہے۔ ثم . وہاں یعنی جنت میں۔ یہ رأیت کا ظرف مکان ہے۔ رایت نعیما و ملکا کبیرا . (نعیمًا میں تنوین تکثیر ہے یعنی) بڑی راحت ‘ حضرت ابن عمر کی مرفوع حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ کم ترین مرتبہ والا جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغات کو ‘ بیویوں کو ‘ خادموں کو اور تختوں (مسہریوں) کو ہزار برس (اور ایک روایت میں ہے دو ہزار برس) کی راہ کی مسافت سے دیکھے گا اور اس کو (اپنی حدود کا) آخری کنارہ اسی طرح نظر آئے گا جس طرح قریب ترین حصہ نظر آئے گا۔ ملکًا کبیرًا کی تشریح میں کہا گیا ہے ‘ لازوال حکومت ہوگی۔ فرشتے آکر سلام کریں گے اور باریابی کی اجازت کے خواستگار ہوں گے۔ جنت کے اندر اہل جنت کو وہ سب کچھ ملے گا جو ان کی خواہش ہوگی۔ ربِّ جلیل کو بھی دیکھیں گے۔
Top