Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر یا تو وحی کے طور پر یا پردے پیچھے سے یا وہ کوئی فرشتہ بھیج دے پھر وہ اس کے حکم سے القاء کرے جو کچھ کہ وہ چاہے بلاشبہ وہ بڑی ہی بلند شان والا بڑا ہی حکمت والا ہے
102 حق تعالیٰ کی عظمت شان اور بندے کا عجز و قصور : سو ارشاد فرمایا گیا " کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے ۔ براہ راست ۔ بات کرے "۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خدائے پاک کے ساتھ بندے کے بالمشافہ کلام میں جو چیز مانع ہے وہ دراصل بندے کا اپنا عجز و قصور اور اس کی درماندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ ایسی باعظمت اور ایسے انوار و تجلیات کا مظہر ہے کہ کوئی بشر اس سے رو در رو ہم کلام ہونے کی تاب نہیں لاسکتا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے قصے سے بھی ظاہر و واضح ہے۔ کیونکہ انسان من حیث الانسان ایک مادی مخلوق اور مادیت میں پھنسی ہوئی چیز ہے۔ اور حضرت حق ۔ جل شانہ ۔ خالق اور مادیات سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ تو پھر اس کا کسی بشر سے براہ راست ہمکلام ہونا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے۔ الا یہ کہ کوئی بشر مادیات سے بلند ہو کر اپنے آپ کو اس سے ہم کلامی کے شرف کا کسی قدر اہل بنا لے۔ مگر اس صورت میں بھی مشافہتہً اور عیاناً اس سے ہم کلامی کا یارا کسی کو اس دنیا میں نہیں ہوسکتا بجز ان تین صورتوں کے جو آگے آرہی ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ یہود بےبہبود نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اپنے رب کو کلام کرتے وقت دیکھتے کیوں نہیں۔ جس طرح کہ حضرت موسیٰ نے دیکھا تھا۔ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے اپنے رب کو دیکھا نہیں تھا بلکہ پردے کے پیچھے سے کلام ہوا تھا۔ تو اس کی تصدیق میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (معالم، و جیز، حاشیہ جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد میں دراصل مخالفین و منکرین کے اس سوال و اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ اگر ان ۔ پیغمبر ﷺ ۔ سے بات کرتا ہے جیسا کہ انکا دعویٰ ہے تو پھر وہ ہم سے براہ راست اور روبرو بات کیوں نہیں کرتا۔ آخر انکو کون سے ایسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ ان سے تو بات کرتا ہے مگر ہم سے نہیں کرتا۔ جبکہ ہم ان سے دنیاوی مال و دولت اور عزت و اقتدار کے اعتبار سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کسی انسان کا یہ درجہ اور مقام نہیں ہوسکتا کہ اللہ اس سے روبرو اور براہ راست بات کرے۔ وہ کسی بشر سے اگر بات کرتا ہے تو وحی کے ذریعے کرتا ہے یا پردے کی آڑ سے۔ یا اپنا کوئی قاصد یعنی فرشتہ بھیج کر جو اس کے اذن سے اس کے کسی ایسے بندے کو وحی کرتا ہے جس کو وہ اپنے کلام و خطاب کیلئے منتخب فرماتا ہے۔ سو منکرین کا ایسا مطالبہ کرنا ان کی اپنی جہالت اور حماقت کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 103 اللہ تعالیٰ کے کلام کی ایک صورت وحی خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے "۔ یعنی القاء والہام یا ہتاف و منام اور نفث کے طور پر۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے ذبح اسماعیل کا خواب دیکھا تھا۔ یا جیسا کہ حضور فرماتے ہیں ۔ " اِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِیْ رُوْعِیْ " ۔ مگر اس صورت میں فرشتہ متجسد نہیں ہوتا۔ جسے حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ کی بخاری شریف والی روایت میں " صَلْصَلَۃُ الْجَرس " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور اس کو سخت ترین قرار دیا گیا ہے ۔ " وَہُوَ اَشَدُّ عَلَیَّ " ۔ اور یہ الہام و القاء تو غیر انبیاء کو بھی ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ انبیاء کا الہام و القاء وحی ہوتا ہے اور وہ قطعی و یقینی ہوتا ہے۔ اور وہ ثبوت حکم کے لیے دلیل قرار پاتا ہے۔ جبکہ غیر انبیاء کا الہام نہ قطعی اور یقینی ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی دینی حکم کا مدار بن سکتا ہے۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کے بشر سے کلام فرمانے کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے دل پر اپنا کلام القاء فرما دیتا ہے اور پیغمبر اس کو محفوظ کرلیتا ہے۔ اور یہ وحی محض فکر یا خیال کی شکل میں نہیں ہوتی بلکہ کلام کی شکل میں نازل ہوتی ہے جس کو پیغمبر سنتا بھی ہے اور سمجھتا بھی ہے۔ اور اس کو محفوظ بھی کرلیتا ہے۔ 104 کلام الہی کی دوسری صورت پردے کے پیچھے سے کلام فرمانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یا وہ اس سے پردے کے پیچھے سے کلام کرے "۔ یعنی اس طور پر کہ پیغمبر اس کا کلام تو سنے مگر بولنے والے کو دیکھ نہ سکے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ کوہ طور پر ہوا تھا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ اور اس طرح کا کلام حضرت موسیٰ کے سوا اور کسی سے نہیں فرمایا گیا۔ اسی لیے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے لقب سے مشہور ہوگئے۔ تورات اور انجیل دونوں میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا لیکن موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں۔ اور حضرت موسیٰ کے سوا اور کسی نبی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کلام نہیں فرمایا۔ بلکہ یہ شرف صرف حضرت موسیٰ ہی کو حاصل ہوا۔ سو کوہ طور کے دامن میں حضرت موسیٰ کو ایک درخت سے آواز سنائی دی لیکن بولنے والے کو دیکھا نہیں۔ جیسا کہ سورة طہ میں اس بارے میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ 105 کلام الہی کی تیسری صورت فرشتے کا بھیجنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یا وہ کوئی فرشتے بھیج دے پھر وہ اس کے اذن سے جو چاہے وحی کرے "۔ جیسا کہ حضرت جبریل امین حضرت خاتم الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ اور دوسرے انبیائے کرام پر وحی لایا کرتے تھے۔ سو یہ کلام الہی کی تیسری صورت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پیغام رسانی کیلئے اپنا کوئی رسول یعنی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اور وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے اذن و ارشاد کے مطابق جو کچھ اللہ چاہتا ہے پیغمبر کے دل پر القاء کردیتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں سے کلام اور خطاب فرمانے کے یہ تین طریقے ہیں۔ ان میں سے پہلے دو طریقوں میں اللہ کا کلام بلاواسطہ نبی پر نازل ہوتا ہے۔ یعنی ان دو صورتوں میں اللہ اور اس کے پیغمبر کے درمیان حضرت جبریل امین کا واسطہ نہیں ہوتا۔ جبکہ ان میں سے تیسری صورت میں حضرت جبریل امین بیچ میں واسطہ ہوتے ہیں۔ پھر ان میں سے پہلا اور تیسرا طریقہ تو عام اور معروف طریقے ہیں۔ جبکہ دوسرا طریقہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ خاص ہے۔ کسی اور نبی کے بارے یہ طریقہ وارد نہیں ہوا۔ 106 اللہ تعالیٰ کی شان علو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہ تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی ہی بلند شان والا ہے "۔ یعنی اس کا یہ علو اور بلندی جگہ اور مکان کے اعتبار سے نہیں کہ وہ مکان اور مکانیات سے بالا و پاک ہے۔ بلکہ یہ علو مرتبہ اور مقام کے اعتبار سے ہے کہ وہ بڑا ہی بلند مرتبہ نہایت ہی عالی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس کسی بشر کے بس میں نہیں کہ وہ براہ راست اور بلاواسطہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ سے ہم کلام ہو سکے۔ سو جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کو اور اس کے کلام کو تب مانیں گے کہ جب وہ براہ راست ہم سے کلام کرے تو ایسے لوگ بڑی بےہودہ اور بےجا بات کرتے ہیں۔ جس کا منشا ان کا بےجا گھمنڈ اور اپنی بڑائی کا زعم فاسد ہے۔ جس سے ان کی سرکشی میں اور اضافہ ہوگیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا } ۔ (الفرقان : 21) سو ایسے لوگ اپنے کبر و غرور اور رعونت و حماقت کے ہاتھوں خود ہی ہلاکت و تباہی کے اس ہولناک اور ابدی گڑھے میں گریں گے جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت ان بدبختوں کے لئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 107 اللہ تعالیٰ کی صفت حکمت کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بڑا ہی حکمت والا ہے "۔ پس اس نے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضے کے طور پر اپنے بندوں سے ہم کلام ہونے کے یہ طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ اس طرح وہ اپنے بندوں کے لئے اس نور ہدایت کا انتظام فرمائے جس سے وہ ابدی سعادتوں سے ہمکنار و بہرہ ور ہو سکیں ۔ جل و علا شانہ ۔ سو اس وحدہ لاشریک کی صفت علو اس کی عظمت و رفعت اور اس کی بالاتری کو ظاہر کرتی ہے جبکہ اس کی دوسری صفت یعنی حکیم اس کی حکمت اور اس کی حکمت کے لوازم رحمت، عدل اور ہدایت خلق کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ سو ان دونوں صفتوں کو یہاں جمع کرنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی بلند وبالا ہے کہ نہ اس کو کسی سے کلام کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی یہ درجہ اور مرتبہ رکھتا ہے کہ اس سے ہمکلام ہوسکے۔ لیکن چونکہ اس عظمت اور رفعت شان کے ساتھ ساتھ وہ حکیم عادل اور رحیم بھی ہے، اس لیے وہ اپنی مخلوق کی راہنمائی اور اپنے بندوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے ان کو اپنے خطاب اور کلام سے بھی نوازتا ہے۔ اور اس کیلئے اس نے جو طریقے اختیار فرمائے وہ اوپر مذکور ہوئے ہیں۔ سو جو لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خدا ان میں سے ہر ایک سے روبرو کلام کرے وہ اپنی رعونت کی بنا پر اپنے ہاتھوں خود ہی ہلاک ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Top