Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
غرض جو کچھ بھی تم کو دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ہے،41۔ اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ بہتر ہی ہے اور پائدار تر بھی، وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان والے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں
41۔ (کہ خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا) اور اسی سے ظاہر ہے کہ مطلوب ومقصود بنانے کے قابل دنیا نہیں صرف آخرت ہے۔ (آیت) ” فمتاع الحیوۃ الدنیا “۔ حیات دنیا کے ساتھ متاع کا لفظ اس کی ذلت و حقارت کے لئے ہے۔ سماہ متاع تنبیھا علی قلتہ وحقارتہ (کبیر)
Top