Tafseer-e-Mazhari - Yaseen : 12
اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠   ۧ
اِنَّا نَحْنُ : بیشک ہم نُحْيِ : زندہ کرتے ہیں الْمَوْتٰى : مردے وَنَكْتُبُ : اور ہم لکھتے ہیں مَا قَدَّمُوْا : جو انہوں نے آگے بھیجا (عمل) وَاٰثَارَهُمْ ڳ : اور ان کے اثر (نشانات) وَكُلَّ : اور ہر شَيْءٍ : شے اَحْصَيْنٰهُ : ہم نے اسے شمار کر رکھا ہے فِيْٓ : میں اِمَامٍ مُّبِيْنٍ : کتاب روشن (لوح محفوظ
بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) انکے نشان پیچھے رہ گئے ہم انکو قلمبند کرلیتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح) محفوظ میں لکھ رکھا ہے
اور ہم ایک روز مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم ان کے وہ اعمال بھی لکھتے جاتے ہیں جنہیں وہ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور ان کے چھوڑے ہوئے وہ اچھے اور برے طریقے جن پر ان چھوڑنے والوں کے مرنے کے بعد عمل کیا جاتا ہے اور ہم نے ان کے سب اعمال کو لوح محفوظ میں ضبط کردیا تھا۔ شان نزول : اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ (الخ) امام ترمذی نے تحسین کے ساتھ اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ بنی سلمہ مدینہ منورہ کے کنارے پر رہتے تھے انہوں نے مسجد میں منتقل ہونا چاہا اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی ہم ایک دن مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال بھی الخ۔ اس پر رسول اکرم نے فرمایا کہ تمہارے نشانات قدم لکھے جاتے ہیں اس لیے تم لوگ منتقل نہ ہو۔ امام طبرانی نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
Top