Tafseer-e-Mazhari - Al-Insaan : 27
وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠   ۧ
وَمَآ اُوْتِيْتُمْ : اور جو دی گئی تمہیں مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : سو سامان الْحَيٰوةِ : زندگی الدُّنْيَا : دنیا وَزِيْنَتُهَا : اور اس کی زینت وَمَا : اور جو عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس خَيْرٌ : بہتر وَّاَبْقٰى : اور باقی رہنے والا۔ تادیر اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : سو کیا تم سمجھتے نہیں
اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے۔ اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
وما اوتیتھم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا وزینتھا وما عندا اللہ خیرو ابقی افلا تعلمون اور جو کچھ تم کو (مال و اسباب) دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا (عارضی) سروسمان اور سجاوٹ ہے اور جو (اجر وثواب) اللہ کے ہاں ہے وہ (دنیوی سامان وزینت سے) بہت بہتر اور لازوال ہے ‘ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُھَا یعنی دنیوی سامان ہے جس کو تم برتتے ہو اور دنیا کی سجاوٹ ہے جس سے زندگی بھر زینت حاصل کرتے ہو۔ وَمَا عِنْدَ اللہ یعنی جو جنت اور مراتب قرب خَیْرٌ اس سے فی نفسہ بہتر ہے کیونکہ وہ خالص لذت اور کامل سرور ہے۔ وَاَبْقٰی اور بہت زیادہ باقی رہنے والی ہے کیونکہ ابدی (لازوال) ہے۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ استفہام انکاری ہے اور عطف محذوف جملہ پر ہے یعنی تم غور نہیں کرتے اور نہیں سمجھتے۔
Top