Al-Qurtubi - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اسکے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں
مسئلہ نمبر 4 ۔ ولمن انتصر بعد ظلمہ جو مسلمان کا فر سے بدلہ لے تو اس مسلمان پر ملامت کرے کی کوئی صورت نہیں بلکہ مسلمان کی اس وجہ سے تعریف کی جائے گی ‘ اگر کوئی مسلمان مسلمان ظلام سے بدلہ لے تو پھر بھی اس پر کوئی ملامت نہیں۔ کافر سے انتقام لینا حتمی بات ہے اور مسلمان سے بدلہ لینا مباح ہے اور معاف کردینا مستحب ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ ولمن انتصر بعد ظلمہ فا ولئک ما علیھم من سبیل۔ اس امر پر دلیل ہے کہ وہ انپا پورا پورا بدلہ لے۔ یہ تین قسموں میں منقسم ہے (1) وہ بدن میں قصاص ہو جس کا ایک آدمی مستحق ہوتا ہے اگر وہ زیادتی کے بغیر پورا پورا حق لیتا ہے اور حکام کے نزدیک اس کا حق ثابت ہوتا ہے تو اس پر کوئی حرج نہ ہوگا لیکن امام اسے جھڑکے کیونکہ اس پر خون بہانے پر جرأتکا اظہار کرنا ہے اگر اس کا حق حاکم کے نزدیک ثابت نہ ہو تو اس پر کوئی حرج نہ ہو گا لیکن امام اسے جھڑکے کیونکہ اس پر خون بہانے پر جرأت کا اظہار کرنا ہے اگر اس کا حق حاکم کے نزدیک ثابت نہ ہو تو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو معاملہ ہے اس میں اس پر کوئی حرج نہ ہوگا وہ ظاہر میں مطالبہ کرنے والا ہے اور اپنے فعل کے ساتھ مواخذہ کرنے والا ہے اور سزادینے والا ہے۔ 2 ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حد ہو کسی آدمی کا اس میں کوئی حق نہ ہو جس طرح حد زنا ‘ چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹنا اگر یہ حکم کے نزدیک ثابت نہ ہو ہو تو اس کا مواخذہ کیا جائے گا اور اس کو سزادی جائے گی اگر حاکم کے نزدیک وہ ثابت ہو تو انتظار کیا جائے گا اگر چوری میں کاٹنا ہی سزا ہو تو حد ساقط ہو جائیگی کیونکہ جس عضو کا کاٹنا لازم ہوا تھا وہ عضو زائل ہوچکا ہے اس پر اس بارے میں کوئی حق ثابت نہیں ہوا۔ کیونکہ تعزیر ادب سکھانے کے لیے ہے ‘ اگر اس آدمی کی سزا کوڑے مارنا ثابت ہو تو اس سے حد ساقط نہ ہوگی کیونکہ اس نے بعدی کی ہے جبکہ اس کا محل باقی ہے تو وہ اس میں ماخوذ ہوگا۔ 3 ۔ مال میں اس کا حق ثابت ہو تو مالک کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے حق پر غلبہ حاصل کرے یہاں تک کہ اگر وہ جانتا ہے تو اس مال تک رسائی حاصل کرے اگر وہ نہیں جانتا تو مہلت دی جائے اگر مطالبہ کی صورت میں مال تک پہنچنا ممکن ہو تو خفیہ طریقہ سے لینا جائز نہیں اگر مطالبہ کے ساتھ پہنچنا ممکن نہیں کیونکہ جس پر حق لازم ہوتا ہے وہ انکاری ہے کوئی گواہ بھی نہیں جو گواہی دے تو خفیہ طریقہ سے مال لینے میں دو مذہب ہیں : (1) یہ جائز ہے ؛ یہ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے (2) اس طرح لینا منع ہے ؛ یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے (1) ۔
Top