Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور وہ لوگ اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ص وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَـھُمْ ص وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (الشوری : 38) (اور وہ لوگ اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ) اصحابِ ایمان کی چند مزاجی خصوصیات گزشتہ آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ پر عموماً اور اشرارِ قریش پر خصوصاً تنقید کرتے ہوئے ان کے بعض اخلاقی امراض کی نشاندہی فرمائی تھی جس نے ان کے سیرت و کردار اور فکری دنیا کو بالکل تہہ وبالا کرکے رکھ دیا تھا۔ پھر اس کے فوراً بعد ان لوگوں کا ذکر شروع کردیا گیا ہے جو نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر ایمان لائے، ان کی فکری اور عملی رہنمائی کو قبول کیا اور اس کے نتیجہ میں جس طرح ان کی زندگی میں انقلاب آیا اس کے چند بنیادی اوصاف کا ذکر فرمایا گیا ہے جس سے ایک تو تعرف الاشیاء باضدادھا کے قاعدے کے تحت قریش اور دیگر مخالفین کو اس انقلاب کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے جس کے نتیجے میں ایسے اوصاف کے حامل لوگ تیار ہوتے ہیں جن کی مثال تاریخ میں بھی کم کم ملتی ہے۔ اور دوسری بات یہ واضح فرمائی ہے کہ آیت میں بیان کردہ بنیادی اوصاف درحقیقت ایسی بنیادیں ہیں جن پر مسلمان معاشرے کی پر شکوہ عمارت اٹھائی جاسکتی ہے۔ اور یا یوں کہہ لیجئے کہ وہ ایسا بیج ہے کہ جب انسانی طبیعتوں میں اسے اپنی جگہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے تو اس سے اخلاقی اوصاف کا وہ چمن کھلتا ہے جس سے صرف افراد ہی نہیں بلکہ معاشرہ اور تمام معاشرتی ادارے وجود میں آتے ہیں۔ ان اوصاف میں سب سے پہلی چیز اللہ تعالیٰ پر ہر طرح کا توکل ہے جس کی تفصیل عرض کی جاچکی ہے۔ اور پھر انسانی طبیعت کا وہ رجحان ہے جس میں حق تلفی، ناانصافی اور ظلم کی نوعیت کی ہر خواہش دم توڑ جاتی ہے۔ اور سفلی جذبات اور نفسانی خواہشات اپنے محدود دائرے سے باہر نکلنے کی جسارت بھول جاتے ہیں۔ خودسری اور انانیت کا پرستار اللہ تعالیٰ کی بندگی اور آنحضرت ﷺ کے اتباع میں ایسا ڈھل جاتا ہے کہ وہی اس کا مزاج اور وہی اس کا چلن بن جاتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان بنیادی اوصاف سے خودبخود پیدا ہونے والے ان اوصاف کو ذکر فرمایا گیا ہے جس سے ایک مومن کی فکری دنیا کو جلا ملتی اور اخلاقی دنیا کی تعمیر مکمل ہوتی ہے۔ ان میں سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ ان کا مزاج اس طرح بن جاتا ہے کہ وہ اپنے رب کی پکار پر تحفظات کا شکار ہونے کی بجائے مکمل طور پر خودسپردگی کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب انھیں کسی ذمہ داری یا کسی معرکے کی طرف پکارتا ہے تو وہ لپکتے ہوئے عمل کی تصویر بن جاتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ﷺ انھیں کسی بات کا حکم دیتے یا کسی بات سے روکتے ہیں تو وہ بےتأمل اطاعت اور سرافگندگی کا پیکر بن جاتے ہیں۔ انھیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور مناجات کرنے میں مزہ آتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے راستے میں میں سر کٹوانے میں بھی لذت محسوس کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کی تمام خواہشات اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ڈوب جاتی ہیں۔ اور ان کی تمام صلاحیتیں اعلائے کلمۃ الحق کے لیے وقف ہو کے رہ جاتی ہیں اور ان کی زندگی دوسرے بھائیوں کے لیے معاونت اور ایثار کا پیغام بن جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نماز ان کی زندگی کا سب سے بڑا عنوان اور سب سے بڑی سعادت بن جاتی ہے۔ وہ صرف نماز پڑھتے نہیں بلکہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں جس سے ان کے اندر جماعتی زندگی کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ اور اجتماعیت ان کی انفرادیت کے لیے چیلنج بن جاتی ہے۔ وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ دنیا میں ہر بڑائی اور عظمت کے دعویداروں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کرتے ہیں۔ اسی کی معبودیت، اسی کی الوہیت اور اسی کی آقائی کو دل و دماغ پر حاوی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے غلام بن کر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور ان کی صف بندی بنیانِ مرصوص بن کر ان کی اجتماعی قوت کا اظہار بن جاتی ہے۔ پھر وہ اجتماعیت کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کرتے ہوئے اپنے اندر سے سب سے زیادہ علم وتقویٰ والے کو اپنی امامت کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ اور نماز کے دوران اپنے طرزعمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح حدودالٰہی کے اندر رہتے ہوئے امام کی بےچون و چرا اطاعت کی جاتی ہے۔ اور کس طرح امام اس بات کا پابند ہے کہ لوگوں کو کسی ایسی بات کا حکم نہ دے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کسی حکم کے خلاف ہو۔ پھر ان کی صفوں میں کامل یکسانیت کے ساتھ اس عزم کا اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم اپنی اجتماعیت کو طبقات کی لعنت سے پاک کرتے ہیں اور ہماری برابری اور مساوات ہی ہماری شیرازہ بندی کی ضامن ہوگی۔ امام یوں تو آگے کھڑا ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے کھڑے ہونے والے ادنیٰ مقتدی کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو وہ اس کو سب کے سامنے ٹوک دے اور اس طرح سے اجتماعیت کے سبق کو واشگاف طریقے سے دہرائے کہ امامت اور اقتدار ایک انتظامی ضرورت ہے۔ لیکن عزت نفس میں سب برابر ہیں۔ امام اور مقتدی دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی شریعت کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ اس طرح نماز کے ذریعے مسلمانوں کو نظم اجتماعی کی پوری شکل دکھا دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے صراحت سے اس بات کا ذکر فرمایا کہ اگر ہم مسلمانوں کو کہیں اقتدار دیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ کیونکہ نماز ہی انھیں اجتماعی زندگی کے آداب سے آگاہ کرتی ہیں۔ چناچہ نماز سے اجتماعی شعور اور اجتماعی زندگی کے آداب سے بہرہ ور کرنے کے بعد اجتماعی نظم کو درست طریقے سے چلانے کے لیے جو طریقہ سب سے زیادہ موثر اور سب سے زیادہ صحیح ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو مسلمان ان صفات کے حامل ہوتے ہیں ان کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔ یہاں اگرچہ امر کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن قرینہ دلالت کررہا ہے کہ اس سے مراد عام معاملہ نہیں بالکل جماعتی نظم مراد ہے۔ یعنی مسلمانوں کا جماعتی اور سیاسی نظم خودسری، انانیت، خاندانی برتری اور نسبی غرور پر مبنی نہیں بلکہ اہل ایمان کے باہمی مشورہ پر مبنی ہے۔ کیونکہ مشورہ کے بغیر اجتماعی نظم چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے بلکہ ان صفات کے حاملین کی زندگی سے میل بھی نہیں کھاتا جن کا ذکر اوپر کی آیات میں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے جس طرح امام اور خلیفہ کے انتخاب میں شورائیت کی روح کو بنیاد بنایا، اسی طرح نظم حکومت کے چلانے میں بھی ہر قدم پر شورائیت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اسی کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کو اظہارِرائے کی پوری آزادی دی گئی۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو ہر مسلمان کا فرض قرار دیا گیا۔ بیت المال کو حکمران کا خزانہ بنانے کی بجائے اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کی امانت ٹھہرایا۔ اور حکمران کو ہر طرح کے صوابدیدی اختیارات سے محروم رکھا۔ اور اختیارات کے استعمال میں امام کو شرعی احکام کا پابند اسی طرح ٹھہرایا گیا جس طرح عام مسلمان کو شرعی احکام کا پابند بنایا۔ اور ریاست کے پالیسی معاملات طے کرتے ہوئے حکمران کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی شوریٰ کی رائے کا احترام کرے، اور ایسا کوئی فیصلہ نہ کرے جس میں مسلمانوں کی عام رائے کو نظرانداز کیا گیا ہو۔ مزید فرمایا کہ مسلمانوں میں جنم لینے والے اوصاف میں سے ایک اہم وصف انفاقِ مال بھی ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک لازمی شرط یہ ٹھہرائی کہ انفاق کے لیے مال وہ ہونا چاہیے جسے یہاں اپنا رزق قرار دیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام اللہ تعالیٰ کا رزق نہیں، بلکہ رزق حلال ہی اللہ تعالیٰ کا رزق ہے جو جائز طریقے سے کمایا جاتا ہے۔ اور انفاق میں یہ تصور بھی گوندھا گیا ہے کہ مال سینت سینت کے رکھنے کی چیز نہیں بلکہ خرچ کرنے کی چیز ہے۔ البتہ یہ خرچ اپنی ذات اور اپنے متعلقین پر اس طرح کیا جائے کہ شرعی تقاضے اس سے پامال نہ ہونے پائیں۔ اور اس کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں بھی خرچ کیا جائے۔ لیکن اسے چونکہ مومنوں کی صفت قرار دیا گیا ہے اور صفت ہمیشہ موصوف کی طبیعت پر غالب رہتی اور اس کی امنگ بن جاتی ہے۔
Top