Dure-Mansoor - Maryam : 5
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور بلاشبہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا ہے اور ان کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا ہے اور ہم نے ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے
آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کرنے کا بیان اور شیاطین کو روکنے کی وضاحت 5 ؎ قرآن کریم کے نظریہ کے مطابق جب سات آسمان ہیں تو ان میں ایک کا نام آسمان دنیا رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ اس دنیا میں رہنے والوں کی حد نظر کا آخر ہے اور زیر نظر آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی ہے اور یہ زینت تم کو تمہاری آنکھوں سے واضح نظر آرہی ہے کیونکہ یہی وہ آسمان ہے جو ہماری نظروں کے قریب تر ہے اور اس کو آسمان اول بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر قندیلوں کی طرح لٹکتے اور سیر کرتے کروڑوں کی تعداد میں ستارے نظر آ رہے ہیں اور جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا ہے اور ان کو جس طرح وہ گردش میں دیکھ رہا ہے کروڑوں سال گزرنے کے باوجود وہ اس میں ایک ذرہ بھر فرق ثابت نہیں کرسکا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب کروڑوں سالوں میں کوئی ایک انسان ہی نہ رہا تو وہ فرق آخر بتائے گا تو کیا بتائے گا ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس عرصہ میں کسی ایک انسان کا زندہ وجاوید رہنا ضروری نہیں ہے بلکہ انسانوں کی کروڑہا نسلیں گزرنے کیب عد بھی اور اس پر حساب ترتیب دینے کے بعد جب کوئی فرق نظر نہیں آیا تو اس کو تجربات کی زبان میں بیان کیا جا رہا ہے اور تجربات کی زبان ہر انسان اپنے اس مختصر دور زندگی میں بھی استعمال کرتا ہے اور اسی زبان میں ہم اس کا استعمال کر رہے ہیں اور پھر یہ سارے نام تو ہمارے رکھے ہوئے ہیں کہ زحل ہے اور یہ مشتری ہے اور اس کو زہرہ کہتے ہیں ، اس کا نام ثریا ہے اور اس کو قطب ستارہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ دب اکبر اور یہ دب اصغر ہے۔ ان کو ستارے کہتے ہیں اور یہ سیارگان ہیں۔ پھر سیاروں سے قسمتیں جوڑنے والے قسمت جوڑنے کے چکر میں ہے اور اس کے اثرات مرتب کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ انسان یہ نہیں سوچتا کہ جب اللہ کے رسول نے ایک بار یہ ارشاد فرما دیا کہ ان سیاروں ، چاند اور سورج کا انسانی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور پھر جو انسان اللہ تعالیٰ کے رسول کو اللہ کا رسول بھی مانے اور یہ بھی تسلیم کرے ان ستاروں اور سیاروں کا تعلق ہماری زندگی کے حالات میں اتار چڑھائو کے ساتھ ہے تو اس سے زیادہ منکر بھی کوئی دوسرا ہو سکتا ہے۔ اقبال (رح) کا ایک شعر ہے جو اس بات کا مصداق ہے ؎ ستارہ میری قسمت کا حال بتائے گا کیا وہ تو خود گردش افلاک میں ہے گم افلاک کے اندر جو کچھ ہے ، اس کی تاثیرات جو ایک دوسرے سے وابستہ ہیں وہ تو ابدی اور ہمیشہ کے لئے ان میں ردوبدل ممکن ہی نہیں کیونکہ اگر ان میں ردوبدل ہوگا تو اس سے سارا عالم دنیا متاثر ہوگا اور کسی ایک انسان کی زندگی کو متاثر ہونے اور دوسرے کی زندگی کے متاثر نہ ہونے یا کسی ایک انسان کی زندگی میں مثبت اثر کرنے اور دوسرے انسان کی زندگی میں منفی اثر کرنے سے نظام کے اندر ردوبدل تسلیم کرنا ہوگا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس دنیا کے اندر اس طرح کی تبدیلیاں تو ہر روز رونما ہونی تسلیم کی گئی ہے ؟ بات عالم کی ہو رہی ہے اور یہ درمیان میں اس خاص سیارے کا ذکر کس طرح پیدا ہوگیا ؟ اس طرح کی تبدیلیاں بھی یکساں ہیں جو عالم صغیر کے اندر بھی ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ ضمنی چیزیں اصولوں سے تعلق نہیں رکھتیں۔ انسان کبھی بیمار ہوتا ہے ، کبھی اس کو گرمی کا شکار ہونا پڑتا ہے اور کبھی سردی کا ، کبھی اس کے اندر ہی اندر سے خارش پیدا ہوجاتی ہے اور کبھی پھوڑے اور پھنسیاں اس کو آدباتی ہیں لیکن ان تبدیلیوں کو اصولی تبدیلیاں نہیں کہتے اس وقت بات عالم دنیا کی ہے نہ کہ کسی ایک سیارے ، ستارے ، چاند اور زمین کی۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو ان چیزوں سے فوائد حاصل کر رہا ہے اس سے انکار نہیں کیونکہ انسان کے فوائد حاصل کرنے ہی کے لئے تو یہ عالم کبیر تشکیل دیا گیا ہے اور اس کے لئے تقریباً ہر دسویں آیت میں ضرور ذکر بھی آیا ہوگا۔ انسان کے فائدوں کے لئے تو ان کا وجود بنایا گیا ہے کہ ہر انسان کے لئے موسموں کے تغیر و تبدل ، گرمی ، سردی اور اس کے لئے فصلوں اور باغوں کے پکانے اور ان میں رس بھرنے ، ان کو میٹھا بنانے اور انسان کے قابل استعمال بنانے میں وہ زبردست کام کر رہے ہیں اور اس میں شیطانوں کے مار بھگانے کا انتظام بھی موجود ہے۔ (رجوما) آلات سنگ باری۔ رجم کی جمع رجم اصل میں مصدر ہے اور جس چیز کے ذریعہ سنگسار کیا جائے اس کے لئے بطور اسم مستعمل ہے۔ آسمان دنیا کے کام گنواتے ہوئے جن باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان میں سے ایک تو ستاروں کا بنایا جانا مراد ہے کہ آسمان کے اندر ستارے ، سیارے ، سورج اور چاند سب کے لئے بنائے گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح کسی کپڑے ، چادر یا کسی دوسری چیز کے ساتھ کوئی چیز آویزاں کی جاتی ہے اسی طرح ان کے ساتھ ستارے وغیرہ آویزاں کئے گئے ہیں ، نہیں اور ہرگز نہیں مطلب یہ ہے کہ ہماری زمین اور ہماری حد نظر کے درمیان جو خلا اور فضا ہے اس فضا کے اندر یہ سب تیر رہے ہیں جن کو ہم اپنی تفہیم کے لئے ان ناموں سے تعبیر کرتے ہیں اور اس خلاء اور فضا کو آسمان الدنیا سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آسمان میں دوسری بات جو اس جگہ فرمائی گئی وہ رجوم للشیاطین یعنی جو اس فضا میں کسی طرح کی چھیڑ خوانی کریں گے ان کے لئے انتظام مکمل کردیا گیا ہے کہ ان کو بھگا کر یا تو اس فضا سے نکال دیا جائے یا اس کے اندر ان کو بھسم کر کے رکھ دیا جائے۔ یہ تو ان کی مداخلت کے نتیجے میں ہے اور ان شیاطین کے لئے جو بھڑکائی گئی آگ کا عذاب ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ اس کی وضاحت ہم چونکہ پیچھے کئی ایک مقامات پر کرچکے ہیں مثلاً عروۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة الحجر کی آیت 16 ، 17 ، جلد ششم سورة الشعرا کی آیات 210 ، 212 ، جلد ہفتم سورة الصفت کی آیت 6 ، 7 ، 8 جلد ہشتم سورة الطور کی آیت 10 ، 14 میں اور ابھی سورة جن میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ اس لئے آپ گزشتہ آیات کا مطالعہ اس سلسلہ میں ایک بار کرلیں اور پھر مزید تفسیر کو سورة الجن کی آیات 9 ، 10 کی تفسیر پر بھی نگاہ ڈال لیں۔ جو لوگ اپنے رب کا انکار کرتے ہیں ان کا انتظار بھی عذاب الٰہی کر رہا ہے 6 ؎ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے ان سب کا خالق ، مالک اور رازق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں تو پھر اس مخلوق میں کافر بھی ہیں اور اپنے اللہ کو جو سب کا حقیقی رب تسلیم کریں یا نہ کریں ان کے لئے عذاب جہنم بھی تیار کھڑا ہے اور ظاہر ہے کہ دوزخ کا عذاب ایک بہت ہی بری چیز ہے اور یہ بھی کہ ان انکار کرنے والوں میں انسان ہوں یا انسانوں کی دوسری شاخ کے لوگ جو جن کے نام سے معروف کئے گئے ہیں۔
Top