Tafseer-e-Usmani - An-Nahl : 37
وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ
وَاَصْبَحَ : اور ہوگیا فُؤَادُ : دل اُمِّ مُوْسٰى : موسیٰ کی ماں فٰرِغًا : صبر سے خالی (بیقرار) اِنْ : تحقیق كَادَتْ : قریب تھا لَتُبْدِيْ : کہ ظاہر کردیتی بِهٖ : اس کو لَوْلَآ : اگر نہ ہوتا اَنْ رَّبَطْنَا : کہ گرہ لگاتے ہم عَلٰي قَلْبِهَا : اس کے دل پر لِتَكُوْنَ : کہ وہ رہے مِنَ : سے الْمُؤْمِنِيْنَ : یقین کرنے والے
اور صبح کو موسیٰ کی ماں کے دل میں قرار نہ رہا قریب تھی کہ ظاہر کر دے بےقراری کو اگر نہ ہم نے گرہ دی ہوتی اس کے دل پر اس واسطے کہ رہے یقین کرنے والوں میں7
7 موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ بچہ کو دریا میں ڈال آئیں مگر ماں کی مامتا کہاں چین سے رہنے دیتی۔ موسیٰ کا رہ رہ کر خیال آتا تھا۔ دل سے قرار جاتا رہا۔ موسیٰ کی یاد کے سوا کوئی چیز دل میں باقی نہ رہی، قریب تھا کہ صبرو ضبط کا رشتہ ہاتھ سے چھوٹ جائے اور عام طور پر ظاہر کردیں کہ میں نے اپنا بچہ دریا میں ڈالا ہے کسی کو خبر ہو تو لاؤ۔ لیکن خدائی الہام (اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :17) کو یاد کر کے تسلی پاتی تھی۔ یہ خدا ہی کا کام تھا کہ اس کے دل کو مضبوط باندھ دیا کہ خدائی راز قبل از وقت کھلنے نہ پائے۔ اور تھوڑی دیر بعد خود موسیٰ کی والدہ کو عین الیقین حاصل ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔
Top