Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
سو جو کچھ ملا ہے تم کو کوئی چیز ہو سو وہ برت لینا ہے دنیا کی زندگانی میں اور جو کچھ اللہ کے یہاں ہے بہتر ہے اور باقی رہنے والا واسطے ایمان والوں کے جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں12
12  یعنی یہ تمام باتیں سننے کے بعد انسان کو چاہیے کہ اللہ کو راضی رکھنے کی فکر کرے اس چند روزہ زندگانی اور عیش فانی پر مغرور نہ ہو۔ اور خوب سمجھ لے ایمانداروں کو جو عیش و آرام اللہ کے ہاں ملے گا وہ اس دنیا کے عیش و آرام سے بہتر ہے اور پائدار بھی۔ نہ اس میں کسی طرح کی کدورت ہوگی نہ فناء وزوال کا کھٹکا ہوگا۔
Top