Tafseer-e-Usmani - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہلاک کر دے مجھ کو اللہ اور میرے ساتھ والوں کو یا ہم پر رحم کرے پھر وہ کون ہے جو بچائے منکروں کو عذاب درناک سے11
11  کفار تمنا کرتے تھے کہ کہیں جلد مرمرا کر ان کا قصہ ختم ہوجائے (العیاذ باللہ) اس کا جواب دیا کہ فرض کرو تمہارے زعم کے موافق میں اور میرے ساتھی دنیا میں سب ہلاک کردیے جائیں یا ہمارے عقیدے کے موافق مجھ کو اور میرے رفقاء کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے کامیاب و بامراد کرے۔ ان دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، مگر تم کو اس سے کیا فائدہ ہے۔ ہمارا انجام دنیا میں جو کچھ ہو، بہرحال آخرت میں بہتری ہے کہ اس کے راستہ میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ لیکن تم اپنی فکر کرو کہ اس کفر و سرکشی پر جو دردناک عذاب آنا یقین ہے، اس سے کون بچائے گا۔ ہمارا اندیشہ چھوڑ دو ، اپنی فکر کرو، کیونکہ کافر کسی طرح بھی خدائی عذاب سے نہیں چھوٹ سکتا۔
Top