Tafseer-e-Usmani - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہوجائے صبح کو پانی تمہارا خشک پھر کون ہے جو لائے تمہارے پاس پانی نتھرا3
3  یعنی زندگی اور ہلاکت کے سب اسباب اسی اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ ایک پانی ہی کو لے لو، جس سے ہر چیز کی زندگی ہے، اگر فرض کرو ! چشموں اور کنوؤں کا پانی خشک ہو کر زمین کے اندر اتر جائے جیسا کہ اکثر موسم گرما میں پیش آجاتا ہے تو اس کی قدرت ہے کہ موتی کی طرح صاف شفاف پانی اس قدر کثیر مقدار میں مہیا کر دے جو تمہاری زندگی اور بقاء کے لیے کافی ہو۔ لہذا ایک مومن متوکل کو اسی خالق الکل مالک علی الاطلاق پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یہیں سے یہ بھی سمجھ لو کہ جب ہدایت کے سبب چشمے خشک ہوچکے، اس وقت ہدایت و معرفت کا خشک نہ ہونے والا چشمہ محمد ﷺ کی صورت میں جاری کردینا بھی اسی رحمان مطلق کا کام ہوسکتا ہے۔ جس نے اپنے فضل و انعام سے تمام جانداروں کی ظاہری و باطنی زندگی کے سامان پیدا کیے ہیں اگر فرض محال یہ چشمہ خشک ہوجائے، جیسا کہ اشقیاء کی تمنا ہے، تو کون ہے جو مخلوق کے لیے ایسا پاک و صاف نتھرا پانی مہیا کرسکے۔ تم سورة الملک وللہ الحمد والمنۃ۔
Top