Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 48
وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل وَالْيَسَعَ : اور الیسع وَذَا الْكِفْلِ ۭ : اور ذو الکفل وَكُلٌّ : اور یہ تمام مِّنَ : سے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے لوگ
اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو اور وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے
48۔ بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ الیسع حضرت الیاس کو کہتے ہیں لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کس لئے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس اور الیسع کا الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔ اور بعضے مفسروں نے یہ لکھا کہ الیسع خضر کو کہتے ہیں یہ قول بھی کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں ہوتا صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے جس کو شاہ عبد القادر صاحب نے اپنے فائدہ میں بیان کیا ہے کہ الیسع حضرت الیاس کے خلفیہ تھے یہ قول حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس اور وہب بن منبہ تابعی کا ہے یہ وہب بن منبہ حسن بصری کے رتبہ کے ثقہ تابعیون میں ہیں ذوالکفل کے نبی ہونے اور نہ ہونے میں صحابہ کے زمانہ سے اختلاف ہے یہاں تک کہ حضرت ابوموسیٰ 3 ؎ اشعری منبر پر وعظ کی طرح بیان کیا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں ذوالکفل ایک نیک شخص تھے نبی نہیں تھے مسند امام احمد 4 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ بنی اسرائیل میں کفل ایک شخص بڑا گناہ گار تھا ایک روز اس نے ایک عورت کو ساٹھ اشرفیاں بدکاری کرنے کے وعدہ پر دیں جب الکفل نے اس عورت سے بدکاری کرنی چاہی تو وہ عورت رونے لگی۔ الکفل نے اس عورت سے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے بیان کیا کہ ایسا برا کام کبھی عمر بھر میں نے نہیں کیا۔ اس پر ذو الکفل نے بھی اللہ تعالیٰ سے عہد کرلیا کہ کبھی عمر بھر گناہ نہ کرے گا اور اسی رات کو ذا الکفل کا انتقال ہوگیا۔ صبح کو بنی اسرائیل کے لوگوں نے دیکھا کہ ذو الکفل کے دروازہ پر یہ لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ذو الکفل کی مغفرت فرما دی حافظ ابن کثیر نے مسند امام احمد کی اس روایت کو نقل کر کے یہ کہا ہے کہ صحاح ستہ کے کسی مصنف نے اس حدیث کو نہیں لیا لیکن ترمذی کے ابواب صفۃ القیمۃ میں یہ روایت موجودہ 3 ؎ ہے اور ترمذی نے۔ (4 ؎ ایضاً ) اس حدیث کو حسن کہا 5 ؎ ہے۔ مسند امام احمد اور ترمذی کے لفظوں میں کسی قدر فرق ہے (5 ؎ ایضاً ) ۔ اس لئے شاید حافظ ابن کثیرکا مطلب یہ ہے کہ مسند امام احمد کے لفظوں سے یہ حدیث صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں سورة الانبیا میں اللہ تعالیٰ نے ذو الکفل کا ذکر انبیا کے ساتھ فرمایا ہے اس واسطے مفسرین نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں کے ذو الکفل اور شخص ہیں اور یہ ذو الکفل قرآن شریف کے مضمون کے موافق بنی ہیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی ایک بہت بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے۔ کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی ماں ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑ گئے۔ اس وقت اسماعیل (علیہ السلام) دودھ پیتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی ماں ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑ گئے۔ اس وقت اسماعیل (علیہ السلام) دودھ پیتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) ہاجرہ کو یہاں چھوڑتے وقت ایک مشک میں پانی جو رکھ گئے تھے جب وہ پانی ختم ہوچکا اور ہاجرہ اپنے دودھ پیتے بچہ کی پیاس سے بہت پریشاں ہوئیں تو آخر جبرئیل (علیہ السلام) نے زمزم کے مقام پر اپنا پر مارا جس سے زمزم کا چشمہ نکلا۔ اور اس پانی کے سبب سے قبیلہ جرہم کے لوگ اس مکہ کے میدان میں آباد ہوئے۔ اور جوان ہوجانے کے بعد اس قبیلہ میں ایک عورت سے اسماعیل (علیہ السلام) کا نکاح ہوا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس جرہم قبیلہ کے لوگوں کی بولی بگڑی ہوئی عربی زبان میں تھی اسماعیل (علیہ السلام) نے اس قبیلہ کے لوگوں سے عربی زبان سیکھی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کی بولی فصیح عربی میں کردی۔ یہ جرہم بن قحطان قبیلہ سام بن نوح کی نسل میں سے ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اس قبیلہ جرہم کے اسماعیل (علیہ السلام) نبی تھے اور اسماعیل (علیہ السلام) کی ہدایت کے موافق عمرو بن لحی کے زمانہ تک یہ لوگ ملت ابراہیمی پر قائم تھے پہلے پہل عمرو بن لحی نے ملت ابراہمی 2 ؎ کو بگاڑا اور مکہ میں بت پرستی پھیلائی۔ عمرو بن لحی کا قصہ اوپر گزر چکا ہے اور صحیح روایتوں کے حوالہ سے یہ بھی گزر چکا ہے۔ کہ اس عمرو بن لحی نے پہلے پہل مکہ سے ملت ابراہیم کو مٹایا ہے قریش یہ جو کہتے تھے۔ کہ یہ بت پرستی ہمارے بڑوں کا طریقہ ہے اسماعیل (علیہ السلام) کا نام لے کر قریش کو یوں قائل کیا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو بنی اسماعیل کہتے ہیں۔ حالانکہ عمرو بن لحی سے پہلے اصل بنی اسماعیل کا طریقہ یہ نہیں تھا۔ بلکہ وہ تو ملت ابراہیم پر تھے پھر جس طریقہ پر خود اسماعیل (علیہ السلام) اور کئی پشت تک کے بنی اسماعیل نہیں تھے۔ وہ طریقہ بنی اسماعیل کا کیونکر ہوسکتا ہے۔ ھذا ذکر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن شریف میں پہلے انبیا اور پہلی امتوں کے قصے ہیں۔ ان سے لوگوں کو نصیحت کرنی چاہئے تاکہ نیکی اور بدی کا انجام لوگوں کی سمجھ میں آوے۔ اور خاص کر قریش کو اسماعیل (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ نصیحت پکڑنی چاہئے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو بنی اسماعیل کہتے ہیں۔ اور انہوں نے حضرت اسماعیل اور پہلے کے بنی اسماعیل کے طریقہ کو چھوڑ رکھا ہے۔ (3 ؎ ایضاً و الترغیب و الترہیب کتاب التوبۃ والزھد ص 177 ج 4) (4 ؎ جامع ترمذی ابواب صفۃ القیمۃ ص 85 ج 2) (1 ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ عز و جل و اتخذاللہ ابراھیم خلیلا ص 47 ج 1) (2 ؎ تفسیرہذا جلد ہذا 42)
Top