Tafseer-e-Mazhari - Saad : 14
اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠   ۧ
اِنْ : نہیں كُلٌّ : سب اِلَّا : مگر كَذَّبَ : جھٹلایا الرُّسُلَ : رسولوں فَحَقَّ : پس آپڑا عِقَابِ : عذاب
(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا
ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب (ان میں سے کوئی جماعت ایسی نہ تھی کہ اس نے پیغمبروں کو نہ جھٹلایا ہو ‘ یعنی) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا ‘ سو میرا عذاب ان پر واقع ہوگیا۔ اِنْ نافیہ ہے ‘ یعنی ان میں سے کسی جماعت نے سوائے اس کے کچھ نہیں کیا کہ پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا اور سخت ترین عذاب کی مستحق بنی۔ کُلٌّ کے لفظ کو مبہم رکھ کر تکذیب کی اس کی طرف نسبت کرنے سے اس مقصد کے بیان میں پختگی پیدا ہوگئی گویا اس بات پر مہر لگ گئی کہ (تکذیب کی وجہ سے) وہ مستحق عذاب ہو ہی گئے ‘ اسی لئے آئندہ فقرہ حقّ عقاب فرمایا ‘ یعنی عذاب ان پر لازم ہوگیا اور (کفر کی وجہ سے) واقع ہوگیا۔ (کُلُّ کَذَّبَ الرُّسُلَاقوام گذشتہ کے ہر فرد نے یا ہر امت نے تمام پیغمبروں کی تو تکذیب نہیں کی ‘ البتہ اپنے زمانہ کے پیغمبروں کو ضرور جھوٹا قرار دیا ‘ پھر کل کذب الرسل کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ آیت کے مضمون پر یہ ایک شبہ پیدا ہوسکتا تھا ‘ اس کو دور کرنے کیلئے حصرت مفسر نے فرمایا) جمع کا تقابل جمع سے مراد ہے ‘ یعنی مجموعۂ اقوام نے مجموعۂ انبیاء کی تکذیب کی (اب یہ لازم نہیں آتا کہ ہر فرد یا ہر امت نے تمام انبیاء کی تکذیب کی ہو) یا یہ مراد ہے کہ اپنے زمانہ کے پیغمبر کی تکذیب ہر امت نے کی ‘ اور ایک پیغمبر کی تکذیب حقیقت میں سارے پیغمبروں کی تکذیب ہے (کیونکہ ہر پیغمبر نے دوسرے ہر پیغمبر کی تصدیق کی تھی ‘ اب جبکہ ایک پیغمبر کی تکذیب کی گئی تو یہ ہر پیغمبر کی تصدیق کی تکذیب ہوگئی) لہٰذا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر امت نے تمام پیغمبروں کی تکذیب کی ‘ کیونکہ بات سب نے ایک ہی کہی تھی (سب نے شرک سے روکا تھا اور صرف اللہ کی عبادت کا حکم دیا تھا) ۔
Top