Tadabbur-e-Quran - Saad : 14
اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠   ۧ
اِنْ : نہیں كُلٌّ : سب اِلَّا : مگر كَذَّبَ : جھٹلایا الرُّسُلَ : رسولوں فَحَقَّ : پس آپڑا عِقَابِ : عذاب
ان سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر نازل ہو کے رہا
ان کل الاکذب الرسل فحق عقاب یعنی ان میں سے ہر ایک کا اصلی جرم یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اسی جرم کے مرتکب تم بھی ہو رہے ہیں۔ فحق عذاب اصل میں حق عقابی کے قافیہ کی رعایت سے یہ گر گئی ہے جس طرح لمایذوقوا عذاب میں گر گئی ہے۔ آیت فسواق کے عمنی وقفہ اور مہلت کے ہیں۔ قط حصہ اور نصیب کے معنی میں آتا ہے۔ مطالبہ عذاب اور اس کا جواب اشارہ قریش کی طرف ہے کہ یہ لوگ بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لئے انہوں نے کوئی ناقابل تسخیر دفاعی لائن تعمیر کرلی ہے حالانکہ ان کو پامال کردینے کے لئے خدا کی ایک ہی ڈانٹ کافی ہوگی، دوسری کی نوبت بھی نہیں آنے پائے گی اور اس کو پکڑ ایسی ہوگی کہ پھر ایک لمحہ کے لئے بھی ان کو فرصت نصیب نہیں ہوگی۔
Top