Tafseer-e-Mazhari - Saad : 14
اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠   ۧ
اِنْ : نہیں كُلٌّ : سب اِلَّا : مگر كَذَّبَ : جھٹلایا الرُّسُلَ : رسولوں فَحَقَّ : پس آپڑا عِقَابِ : عذاب
ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا، سو میرا عذاب (ان پر) واقع ہوگیا،15۔
15۔ متعین طور پر نام بھی قرآن نے پرانی پر قوت، پرشوکت قوموں کے بتا دیئے، کہ تکذیب انبیاء وتکذیب شریعت الہی ہی کی پاداش میں یہ لوگ ہلاک ہوتے تھے۔ وہی صورت آج کے منکرین کو بھی پیش آنی ہے۔ (آیت) ” نوح، عاد، فرعون، ثمود، لوط، اصحب الیکۃ “۔ ان سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ (آیت) ” اصحب الئیکۃ “۔ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت ہے۔ (آیت) ” ذوالاوتاد “۔ محاورہ میں اس سے مراد شوکت و حشمت والے سے ہوتی ہے۔ استعیر لثبات العز والملک واستقامۃ الامر (کشاف) اصل ھذہ الکلمۃ من ثبات البیت المطنب باوتادہ ثم استعیر لاثبات العز والملک (کبیر) پرانی قوموں میں تعذیب کی ایک صورت مجرم کو چومیخا کردینے (یعنی لٹا کر ہاتھ پیروں میں میخیں ٹھونک دینے) کی جاری تھی، اور روایات میں ملتا ہے کہ فرعون کے دور میں بھی یہ سزا جاری تھی۔
Top