Anwar-ul-Bayan - An-Noor : 34
فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ
فَاِنْ : پھر اگر لَّمْ تَجِدُوْا : تم نہ پاؤ فِيْهَآ : اس میں اَحَدًا : کسی کو فَلَا تَدْخُلُوْهَا : تو تم نہ داخل ہو اس میں حَتّٰى : یہانتک کہ يُؤْذَنَ : اجازت دی جائے لَكُم : تمہیں وَاِنْ : اور اگر قِيْلَ لَكُمُ : تمہیں کہا جائے ارْجِعُوْا : تم لوٹ جاؤ فَارْجِعُوْا : تو تم لوٹ جایا کرو هُوَ : یہی اَزْكٰى : زیادہ پاکیزہ لَكُمْ : تمہارے لیے وَاللّٰهُ : اور اللہ بِمَا : وہ جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو عَلِيْمٌ : جاننے والا
اور ہم نے تمہاری طرف کھلے کھلے احکام نازل کیے ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے تھے ان کی بعض حکایات اور متقیوں کے لیے نصیحت نازل کی ہیں۔
پھر فرمایا (وَلَقَدْ اَنزَلْنَا اِِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُبَیِّنَاتٍ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہارے پاس کھلے کھلے احکام بھیجے ہیں جنہیں واضح طور پر بیان کردیا ہے اور جو امتیں تم سے پہلے گزری ہیں ان کے بھی بعض احوال اور واقعات بیان کردیئے ہیں جن میں تمہارے لیے عبرت ہے اور ایسی چیزیں نازل کی ہیں جن میں متقیوں کے لیے نصیحت ہے (نصیحت تو سب ہی کے لیے ہے لیکن جن کا گناہوں سے بچنے کا ارادہ ہے وہی اس سے مستفیض ہوتے ہیں اس لیے اہل تقویٰ کے لیے مفید ہونے کا خصوصی تذکرہ فرمایا) قال صاحب الروح ص 160 ج 18، و قیدت الموعظۃ بقولہ سبحانہ (للمتقین) مع شمو لھا للکل حسب شمول الانزال حثا للمخاطبین علی الاغتنام بالانتظام فی سلک المتقین ببیان انھم المغتنمون لآثار ھا المقتبسون من انوار ھا فحسب۔
Top