Tafseer-e-Baghwi - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم : (کے متعلق اہم علمی مباحث) بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کریم کی ایک آیت ہے اور قرآن کریم۔ کا آغاز اسی سے ہوتا ہے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بھی مکتوب تحریر کرواتے ان میں سب سے پہلے بسم اللہ شریف لکھی جایا کرتی تھی۔ ابو عبدالقاسم بن سلامہ کی کتاب فضائل القرآن میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کی طرف جو مکتوب ارسال فرماتے سب سے پہلے لکھتے باسمک اللہھم جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا یہی طریقہ رہا پھر (آیت)” بسم اللہ مجرھا “۔ والی آیت نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بسم اللہ لکھوانے لگے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا یہی دستور جاری رہا ، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت)” انہ من سلیمن و انہ بسم اللہ الرحمن الرحیم تو بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوانے لگے ۔ منصور بن عمار جو بڑے حکیم ودانا تھے ان کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہیں راہ چلتے ایک کاغذ پڑا ہوا ملا جس میں بسم اللہ لکھی ہوئی تھی ، انہوں نے وہ کاغذ اٹھایا اور کوئی جگہ اس کے رکھنے کو نہ پائی تو اسے نگل لیا ، رات کو خواب دیکھا کہ کوئی آدمی کہہ رہا ہے ” اے منصور تو نے جو اس کاغذ کی عزت کی اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر حکمت کا دروازہ کھول دیا ہے “ اس وقت سے وہ جو بات بھی کرتے دانائی کی کرتے تھے ۔ (ادب کی برکت) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے جس کاغذ میں اللہ تعالیٰ کا کوئی اسم مبارک لکھا ہو اور وہ زمین پر گرا ہوا ہو جب تک اللہ تعالیٰ اس کو اٹھانے کے لیے اپنا کوئی دوست نہیں بھیجتے فرشتے اپنے بازوں سے اسے گھیرے رکھتے ہیں اور جو شخص اسے وہاں سے اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے علیین میں بلند مرتبہ عطا فرماتے ہیں ۔ حضرت بشر بن حارث حافی (رح) کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ انہوں نے دیکھا کہ کاغذ کا ایک ٹکڑا سرراہ پڑا ، پاؤں کے نیچے روندا جا رہا ہے انہوں نے اسے اٹھایا تو اس میں اللہ تعالیٰ کا نام مبارک لکھا ہوا تھا انہوں نے ایک درہم کا عطر خرید کر اسے لگایا اور دیوار کی دراز میں دیدیا رات کو سوئے تو خواب میں دیکھا کوئی کہہ رہا ہے اے بشر تو نے میرے نام کو معطر کیا ہے ، میں تیرے نام کو دنیا وآخرت میں معطر کروں گا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ بڑے بڑے مالداروں کے نام مٹ گئے لیکن اس فقیر کا نام جس کے پاؤں میں جوتا تک نہ ہوتا تھا آج تک زندہ ہے اور زندہ رہے گا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرمی ہے کہ اپنے خطوں اور رسالوں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا کرو اور لکھتے وقت زبان سے پڑھا بھی کرو۔ (اسم اعظم) سیدنا حضرت عثمان غنی (رض) سے کسی نے بسم اللہ کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے اس کے اور اسم اعظم کے درمیان اتنا قرب ہے جتنا کہ آنکھ کی سیاہی اور سفیدی کا قرب ہے اور فرمایا کہ بسم اللہ اللہ تعالیٰ کے اسم باطن پر دلالت کرتی ہے اور یہ وہ پوشیدہ اسم ہے کہ جس سے دعا مانگی جائے تو قبول ہوتی ہے ۔ زہری (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” والزمھم کلمۃ التقوی “۔ میں کلمۃ التقوی سے مراد بسم اللہ ہے ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بسم اللہ کی ب کو میم تک نہ کھینچو کہ سین ختم ہی ہوجائے ، حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے ایک بسم اللہ لکھنے والے کو سزا دی کیونکہ اس نے میم کو سین سے پہلے لکھ دیا تھا کسی نے پوچھا تجھے امیر المومنین نے سزا کیوں دی ہے اس نے کہا بسم اللہ کی سین کی وجہ سے ۔ (تسمیہ کے اسرار و رموز) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسم اللہ کے معافی میں غور کرنے کے لیے اسے بیس دفعہ پڑھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے جو آدمی تعظیم کی نیت سے بسم اللہ کو بہت عمدگی اور خوبصورتی کے ساتھ لکھے اس کے سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ سب کاموں کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے اور یہ بھی ” اللہم بارک لنا فیما رزقتنا وقینا عذاب النار اور جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعد یا کھانا کھانے کے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان اپنے چیلوں سے کہتا ہے تمہیں رات رہنے کے لیے گھر اور کھانا مل گیا ہے ، ایک عارف کا ارشاد ہے کہ بسم اللہ کے انیس حرف ہیں اور دوزخ کے داروغے بھی انیس ہیں اللہ تعالیٰ ان انیس حروف کے سبب مومن سے دوزخ کے انیس داروغوں کو دور کردیتا ہے ، اور بسم اللہ کے چار کلمات ہیں اور گناہ بھی چار قسم کے ہیں رات کے گناہ دن کے گناہ پوشیدہ گناہ اور ظاہری گناہ لہذا جو مومن آدمی اخلاص اور محبت سے بسم اللہ پڑھتا ہے اس کے چاروں قسم کے گناہ معام ہوجاتے ہیں۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ب بہاء اللہ ہے (خوبی) سین، سناء اللہ (اللہ کی روشنی) ہے اور میم ملک اللہ یا مجد اللہ (اللہ کا ملک یا بزرگی ) ہے ، ایک بزرگ نے فرمایا الف ‘ لام باء ‘ سین ‘ میم ‘ حا ہائ ‘ نون ‘ راء اور یاء بہت عظمت والے حروف ہیں اور یہی بسم اللہ کے حروف ہیں انہیں حروف سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہے۔ باء اور میم سے ظاہری بادشاہت قائم ہوئی ۔ باء اور سین سے عالم ملکوت وجود میں آیا باء اور الف ناموں کو وجود ملا لام اور ہاء سے حالات نے ترتیب پائی راء اور حاء سے رحمت ظہور میں آئی اور نون وباء سے قبضتین “۔ کا حکم صادر ہوا۔ (ربوبیت کی دو قسمیں ہیں) ایک محقق عارف نے مجھ سے بیان کیا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اسم اعظم ہے کیونکہ جب اس کو ربوبیت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس کی دو قسمیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک قسم وہ ہے جس سے تعظیم کا اظہار ہے اور ایک قسم وہ جس سے شان کی بلندی ظاہر ہوتی ہے ، اور اس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ تعظیم اللہ کی وہ چادر ہے جو عالم میں ہمیشہ قائم ہے اور مخلوق میں پھیلی ہوئی ہے کیونکہ مقربین اور اصحاب الیمین کی تعریف کے بعد (آیت)” فسبح باسم ربک العظیم “۔ ہے اور حق الیقین کے بعد ” مکذبین الضالین “ کی تعریف آئی ہے تو جس شخص کو مقربین ‘ اصحاب الیمین اور مکذبین کا راز معلوم ہوگیا ہے اور حق الیقین کا درجہ حاصل ہوگیا ہے اس نے عالم میں اللہ تعالیٰ کی پوری پوری عظمت کا مشاہدہ کرلیا اور اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کو بخوبی جان لیا ۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اوپر سے نیچے کی طرف ہر اس شخص کے لیے جس کا دل خاکی میں اور حجابی کشف سے پاک صاف ہے کیونکہ شکلیں دو ہی قسم کی ہیں ایک ہبوطی اور دوسری عروجی اور یہ مذکورہ شکل ہبوطی ہے کیونکہ اسم اعظم دائرہ حسیہ حقیقہ ترکیبہ میں شامل ہے ، اور شکل عروجی اسم کی اضافت ہے ربوبیت کی طرف لہذا مراتب علویہ تینوں پہلو سے شہودی ہیں ارواح قدسیہ میں اس کے بعد مقربین اور اس کے بعد اصحاب الیمین ہیں اور مراتب سفلیہ تین ہیں ۔ (آیت)” الذی خلق فسوی والذی قدر فھدی والذی اخرج المرعی “۔ تو مراتب علویہ عالم ایجاد میں مراتب سفلیہ کا باطن ہیں اور مراتب سفلیہ ظاہر ہیں اور اسم ربوبیت موجودات میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور اسم الوہیت حقائق موجودات پر غالب ہے تو جب اسم اللہ یعنی بسم اللہ کو مضاف کیا جائے تو رحمانیت ظاہر ہوتی ہے تو عظمت اور علو ربوبیت کی صفت ہے اور رحمانیت الوہیت کی صفت ہے مگر ربوبیت ظاہر ہے اور الوہیت باطن ہے ۔ اور یہ نسبت فسبح کی سی ہے اور اسم کی نسبت اسم اللہ کی سی نسبت ہے اور اقرء کی نسبت بسم کی سی نسبت ہے اور اسم کی نسبت اللہ کی سی نسبت ہے اور ” ربک “ کی نسبت رحمان کی سی نسبت ہے ۔ اور ” الذی خلق “ کی نسبت رحیم کی سی نسبت ہے مگر یہ تین نسبتیں نیچے سے اوپر ترقی کرتی ہیں اور وہ تین اوپر سے نیچے کو آتی ہیں اور سفلیات کی کنجیاں علویات کے بعد ہیں تو سبح باسمک غیبت ہے اور (آیت)” سبح اسم ربک الاعلی “۔ دوسری غیبت ہے اور (آیت) ” اقرا باسم ربک الذی خلق “۔ تیسری غیبت ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم غیبت ہے اور ایسا ہی قرآن کریم میں سب سمجھنا چاہیے ۔ (تسمیہ کے اسرار) بسم اللہ الرحمن تین عالم پر مشتمل ہے ” عالم الملک ‘ عالم رحمۃ اللہ علیہالخلق “ اور ” عالم الامر “ چناچہ ارشاد الہی ہے (آیت)” الا لہ الخلق والامر “۔ اور بسم اللہ تمام عالموں کے بارے میں فائدہ مند ہے اور اس میں ابتداء و انتہا کا بھید ہے اور اس میں توحید کے مراتب ہیں کیونکہ بسم اللہ مقابل ہے (آیت)” شھد اللہ “۔ کے الرحمن مقابل ہے (آیت)” والملائکۃ “۔ کے اور الرحیم مقابل ہے (آیت)” واولوالعلم “۔ کے ۔ لہذا بسم اللہ کا اول اس کے آخر اور اس کا ظاہر اس کے باطن کی طرح ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسی سے موجودات کا درخت پیدا کیا اور اسی سے مخفی امور کے راز ظاہر فرمائے اسی لیے جو آدمی کثرت سے بسم اللہ کا ورد کرے وہ علوی وسفلی دونوں قسم کی مخلوقات کے نزدیک باہیبت ہوجاتا ہے اور جو شخص اسکے وہ راز جو اللہ تعالیٰ نے اس میں رکھے ہیں جان لے اور انہیں کسی چیز پر لکھ دے تو وہ آگ میں نہیں جلے گی اور اسی میں اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بھید ہے ۔ (ایک اہم وظیفہ) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔ کہ اگر کسی آدمی کو کوئی حاجت ہو تو وہ بدھ ‘ جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھے اور جمعہ کے دن اچھی طرح صاف ستھرا ہو کر جمعہ کی نماز کو جاتا ہو اور راستہ میں ایک یا دو یا تین روٹیاں خیرات کر دے ، اور نماز جمعہ سے فارغ ہو کر یہ دعا پڑھے۔ اللھم انی اسئلک باسمک بسم اللہ الرحمن الرحیم الذی لاالہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ ھو الرحمن الرحیم واسئلک باسمک بسم اللہ الرحمن الرحیم الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم الذی لاتاخذہ سنۃ ولا نوم الذی ملات عظمتہ السموات والارض واسئلک باسمک بسم اللہ الرحمن الرحیم الذی لاالہ الا ھو الذی عنت لہ الوجوہ وخضعت لہ الرقاب وخشعت لہ الابصار ووجلت منہ القلوب وذرفت منہ العیون ان تصلی علی سیدنا محمد وان تعطنی حاجتی وھی کذا وکذا ۔ تو اسکی حاجت فورا پوری ہوجائے گی اور آپ (رض) فرمایا کرتے تھے کہ یہ عمل جاہل بیوقوفوں کو ہرگز نہ بتاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کے نقصان کے لیے یہ دعا پڑھ دیں اور وہ قبول ہوجائے ۔ (ایک اور وظیفہ) حضرت انس بن مالک (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو حاجت مند آدمی اچھی طرح وضو کرے دو رکعت نماز پڑھے پہلی رکعت میں سورة فاتحہ اور آیۃ الکرسی اور دوسری میں فاتحہ اور آمن الرسول آخر تک پڑھے اور تشہد پڑھ کر اور سلام پھیر کر یہ دعا مانگے ۔ اللھم یا مونس کل وحید ویاصاحب کل فرید ویاقریبا غیر بعید ویاشاھدا غیر غائب ویاغالبا غیر مغلوب یاحی یا قیوم یا ذالجلال والاکرام یا بدیع السموات والارض اللھم انی اسئلک باسمک بسم اللہ الرحمن الرحیم الحی القیوم الذی لاتاخذہ سنۃ ولا نوم واسئلک باسمک بسم اللہ الرحمن الرحیم الحی القیوم الذی عنت لہ الوجوہ وخشعت لہ الاصوات ووجلت من خشیتہ القلوب ان تصلی علی سیدنا محمد وعلی ال محمد وان تقضی لی کذا وکذا (کذا وکذا کی جگہ اپنی حاجت کو ذہن میں لائے) (قضاء حاجت کیلئے ایک وظیفہ) میں نے ایک عارف کا لکھا ہوا دیکھا ہے کہ حضرت جعفر صادق (رض) نے فرمایا اگر کسی کو بہت ہی سخت حاجت پیش آئے تو وہ ایک کاغذ کے ٹکڑے میں لکھے ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم من العبد الذلیل الی الرب الجلیل رب انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین “۔ پھر اس کاغذ کو بہتے ہوئے پانی میں ڈال دے اور کہے ۔ الھی بمحمد والہ الطیبین وصحبہ المرتضین اقض حاجتی یا اکرم الاکرمین “۔ اور جو حاجت ہو اس کا نام لے ان شاء اللہ اس کی حاجت پوری ہو جائیگی ۔ میرے دوستوں میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ جو شخص بسم اللہ الرحمن الرحیم “ بارہ ہزار مرتبہ پڑھے اور ہر ہزار کے بعد دو رکعت نفل ادا کرے اور جو حاجت ہو اس کے پورے ہونے کی دعا مانگے پھر پڑھنا شروع کر دے اور ہر ہزار پر دو نفل پر پڑھے اور دعا بھی مانگے اسی طرح بارہ ہزار ختم کرے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی حاجت پوری ہوگی ۔ (سورۃ الفاتحہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فضائل و تعارف) (سورہ فاتحہ کے دیگر اسمائ) اس سورة کا نام فاتحہ اس لیے ہے کہ قرآن کریم کا آغاز اسی سورة سے ہوا ہے اور چونکہ یہ سورة دوسری تمام سورتوں سے پہلے ہے اس لیے اس کا نام ام القرآن اور دالۃ بھی ہے اور اسی سورة کا نام السبع المثانی بھی ہے۔ سبع اس لیے کہ اس کی آیات سات ہیں اور مثانی اس لیے کہ یہ نماز میں بار بار دہرائی جاتی ہے یا اس لیے کہ دو دفعہ نازل ہوئی ہے ، ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں اور دوسری مرتبہ مدینہ منورہ میں اور اس لیے بھی کہ یہ سورة صرف اسی امت کے لیے استثناء کی گئی ہے یعنی یہ سورة خاص امت محمدیہ کے لیے نازل ہوئی ہے اس سے پہلے کسی امت پر نہیں اتری ، اور بعض علماء کے نزدیک اس کا نام مثانی اس لیے ہے کہ اس کا آدھا حصہ ثنا ہے اور باقی آدھا دعا ہے ۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایسی سورة بتاؤں کہ اس جیسی سورة نہ توراۃ میں ہے نہ انجیل میں اور نہ زبور میں وہ سورة سبع المثانی اور القرآن العظیم ہے ، جو مجھے عطا فرمائی گئی ہے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جس نے سورة فاتحہ پڑھی گویا اس نے توراۃ و انجیل وزبور اور قرآن کریم کو پڑھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے ایک قوم پر یقینی طور پر عذاب اتارا جائے گا اس وقت ان کا ایک لڑکا باہر آکر سورة فاتحہ پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس سورة کی برکت سے چالیس سال تک ان سے عذاب اٹھا لے گا ۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو احسانات فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے ۔ کہ اس نے مجھے وحی بھیجی کہ میں نے اپنے عرش کے خزانوں سے آپ کو سورة فاتحہ عنایت کی پھر میں نے اس کو اپنے اور تمہارے درمیان نصف نصف کیا ہے ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد عالی ہے کہ سورة فاتحہ دوسری سورة کے قائم مقام ہوسکتی ہے مگر کوئی دوسری سورة سو رہ فاتحہ کی جگہ کافی نہیں ہوسکتی ۔ حاویہ بن صالح ابی فروہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابلیس کو تین بار تکلیف پہنچی ایک جب جنت سے نکال کر زمین پر اتارا گیا اور فرشتوں نے اس کا جنتی لباس اتار لیا اور ایک اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا اور ایک اس وقت جب سورة فاتحہ نازل کی گئی ۔ ّ (حضرت علی (رض) کا اہم قول) حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ اگر میں سورة فاتحہ کی تفسیر لکھنی چاہوں تو ستر اونٹ کے بوجھ کے برابر لکھ سکتا ہوں اور یہ بھی فرمایا کہ سورة فاتحہ قرآن کریم کا سر اور ستون اور اس کی بلندی کی چوٹی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے پانچ نام ہیں جو انتہائی عظیم القدر ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو ام القرآن اور مفتاح فرمایا ہے اور اس کے بغیر نماز کو ناقص قرار دیا اس کی فضیلت دوسری سورتوں پر انہیں پانچ ناموں کی برکت سے ہے ۔ ّ (اسم اعظم) اس سورة میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے جس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو قبول ہوجاتی ہے اور جو چیز مانگی جائے مل جاتی ہے اور علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہ پانچ نام جس طرح قرآن کریم کی ابتداء میں ہیں اسی طرح لوح محفوظ میں بھی پہلے یہی لکھے ہوئے ہیں اور یہی عرش وکرسی کے سراپردہ پر بھی لکھے ہوئے ہیں ، نیز ہم اگر ان اسماء میں غورو فکر کریں تو ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پانچ ناموں پر پانچ نمازوں اور اسلام کے پان ارکانوں کو ترتیب دیا ہے اور غنیمت ودفینہ کے مال میں پانچواں حصہ مقرر فرمایا اور پانچ اونٹوں میں ایک بکری زکوۃ ہے اور لعان میں پانچ شہادتیں اور قسامت میں پچاس قسمیں مقرر ہیں اور پانچ حدیں مقرر کیں۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیاں پانچ پانچ بنائیں جن انبیاء کا قرآن کریم میں تذکرہ ہے وہ پچیس ہیں اور سورة فاتحہ کے کلمے پچیس ہیں۔ (کیفیت نزول) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں سورة فاتحہ آیت الکرسی اور آل عمران کی آیات ۔ شَہِدَ اللّہُ أَنَّہُ لاَ إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَالْمَلاَئِکَۃُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ لاَ إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (18) إِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّہِ الإِسْلاَمُ قُلِ اللَّہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِیْ الْمُلْکَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِیَدِکَ الْخَیْْرُ إِنَّکَ عَلَیَ کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْرٌ(26) تُولِجُ اللَّیْْلَ فِیْ الْنَّہَارِ وَتُولِجُ النَّہَارَ فِیْ اللَّیْْلِ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الَمَیَّتَ مِنَ الْحَیِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَاء بِغَیْْرِ حِسَابٍ کو جب اللہ تعالیٰ نے اتارنا چاہا تو یہ عرش سے چمٹ کر کہنے لگیں کیا آپ ہمیں زمین پر ان لوگوں کے ہاں اتار رہے ہیں ، جو آپ کے نافرمان ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ میرے بندوں میں جو ہر نماز کے بعد تمہیں پڑھے گا میں اسے جنت میں جگہ دوں گا اور اسے حظیرۃ القدس میں رکھوں گا اور ہر روز اس کی طرف ستر بار دیکھوں گا اور اس کی ستر حاجتیں پوری کروں گا جنت میں سے کم سے کم درجہ کی حاجت مغفرت ہے اور اسے اس کے ہر دشمن سے محفوظ رکھوں گا اور اسے دشمن پر غالب کر دوں گا ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آواز سی سنائی دی ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اوپر دیکھا اور فرمایا آسمان کا ایک دروازہ آج کھولا گیا ہے جو پہلے کسی امت کے لیے نہیں کھلا اور اس دروازہ سے ایک فرشتہ اترا ہے جو پہلے کبھی نہیں اترا پھر اس فرشتہ نے سلام کے بعد عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ کو عطا کئے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں دیئے گئے ، ایک سورة فاتحہ اور ایک سورة بقرہ کی آخری آیات ، آپ ان کا جو حرف پڑھیں گے اس کا ثواب ملے گا ۔ ١۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ سورة منجیہ ہے جس مقصد کے لیے پڑھی جائے گی وہی مقصد حاصل ہوگا۔ ٢۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے سورة فاتحہ ہر غم کی شفا ہے۔ ٣۔ ابو فروہ (رح) فرماتے ہیں شیطان کو تین دفعہ نقصان پہنچا ایک دفعہ جب اسے جنت سے نکالا گیا ، دوسری مرتبہ جب اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا ۔ تیسری مرتبہ جب سورة فاتحہ نازل کی گئی ۔ (فضل آیات سورة فاتحہ) حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص چار دفعہ ” الحمد للہ رب العلمین “ کہہ کر پھر پانچویں مرتبہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ اس کو آواز دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ تیری طرف ہے اس سے جو تو مانگتا ہے مانگ ، حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک لڑائی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمن کو دیکھا تو فرمایا (آیت)” ملک یوم الدین ، ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ اتنے میں میں نے دشمنوں کو دیکھا کہ زمین پر گر رہے ہیں اور فرشتے ان کو آگے پیچھے سے مار رہے ہیں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم کی سب سے افضل آیت ” الحمد للہ رب العالمین “۔ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے کہ جس کے گھر میں غربت وبے سروسامانی ہو وہ اپنے گھر میں اگر سورة فاتحہ اور اخلاص پڑھے تو غربت وبے سروسامانی جاتی رہے گی اور اس کی جگہ خوشحالی آئے گی ۔ (عملیات سورة فاتحہ) س رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے کہ جب تم سوتے وقت سورة فاتحہ اور اخلاص پڑھ لو تو موت کے علاوہ باقی ہر مصیبت سے محفوظ ہوجاتے ہو ۔ (ہر بیماری سے شفائ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص بارش کے پانی ہر سورة فاتحہ ستر بار ‘ آیۃ الکرسی ستر مرتبہ اور قل ھواللہ احد ستر مرتبہ اور معوذتین ستر مرتبہ پڑھ کر دم کرے تو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے مجھے خبر دی ہے کہ جو شخص اس دم کئے ہوئے پانی کو سات دن بلاناغہ پئے گا اللہ تعالیٰ اس کے جسم سے ہر بیماری کو نکال دے گا اور اس کی رگوں ‘ ہڈیوں اور تمام اعضاء سے نکال دے گا ۔ حضرت جعفر صادق (رح) فرماتے ہیں اگر کسی کو بخار ہو تو چالیس مرتبہ سورة فاتحہ پڑھ کر پانی پر دم کرلیا جائے اور اس کے منہ پر چھینٹیں ماری جائیں تو بخار جاتا رہے گا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے ۔ اگر کسی کی آنکھیں آگئی ہوں یا اس کی نظر میں کمزوری ہو تو چاند کی پہلی یا دوسری رات کو چاند کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں پر پھیرتا رہے اور سورة فاتحہ بسم اللہ اور آمین سمیت دس مرتبہ سورة اخلاص تین بار اور اس کے بعد ” شفآء من کل دآء برحمتک یا ارحم الراحمین “۔ سات بار اور یا رب پانچ بار پڑھے ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی بیماری ختم ہوجائے گی ۔ اگر کوئی بیمار ہو اور اس کی بیماری نہ جاتی ہو تو اس سورة کو پڑھے یا کسی برتن میں لکھ کر پانی سے دھو کر پی لے اور منہ پر چھینٹے بھی مارے اور سارے جسم پر ملے اور ملتے وقت یہ دعا پڑھے ۔ ” اللھم اشف انت الشافی اللھم اکف انت الکافی اللھم اعف انت المعافی۔ اگر اس کی موت نہیں آئی تو وہ اس عمل کرنے سے صحت مند ہوجائے گا ۔ سورہ فاتحہ کی سات آیتیں پچیس کلمات اور ایک سو اکتالیس حرف ہیں ۔ اس سورة میں فجش تظخز کے علاوہ باقی سب نقطہ والے حروف موجود ہیں اور فجش تظخز کے حروف آیت ” اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا کذلک زین للکفرین ما کانوا یعملون “۔ میں موجود ہیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم تفسیر : سورہ فاتحہ کے تین نام ہیں (١) فاتحہ الکتاب (٢) ام القرآن (٣) السبع المثانی ۔ اس سورة کا نام فاتحہ الکتاب اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة سے قرآن کریم کا افتتاح فرمایا ، ام الکتاب نام اس لیے کہ یہ سورة اصل القرآن ہے اس سے قرآن کریم کی ابتداء کی گئی ۔ کسی شیء کی ام وہ ہوتی ہے جو اس شئی کی اصل ہو، مکہ مکرمہ کو ام القری بھی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اصل البلاد یعنی تمام شہروں کی اصل ہے اور اس کے نیچے سے زمین کو پھیلایا گیا ۔ بعض نے اس کے ام القرآن ہونے کی یہ وجہ تسمیہ ذکر فرمائی کہ یہ سورة بعد میں آنے والی سورتوں سے مقدم اور ان کے امام ہے ، مصاحف یعنی قرآنی نسخوں میں اس کی کتابت سے آغاز کیا جاتا ہے اور نماز میں قراۃ کا افتتاح بھی اس کی قراۃ سے ہوتا ہے ، اس سورة کے سبع مثانی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورة باتفاق العلماء سات آیات پر مشتمل ہے اور مثانی اس لیے کہ ہر نماز میں اس سورة کی قراۃ دھرائی جاتی ہے ، چناچہ ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ سورة فاتحہ کے مثانی کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو صرف اس امۃ محمدیہ (علی صاحبہا الف الف تحیہ) کے لیے مستظنی کرکے رکھا (یعنی ہم امم سابقہ کو جو کچھ عنایت فرمایا اس میں سے اس سورة کو مستثنی کیا) اور امت مسلمہ کے لیے اسے ذخیرہ فرمایا اکثر مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة مکی ہے حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سورت مدنی ہے بعض نے کہا کہ سورة فاتحہ کا نزول دو دفعہ ہوا۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں اور ایک دفعہ مدینہ منورہ میں ، اسی وجہ سے مثانی نام رکھا گیا مگر اس کے مکی ہونے کا قول زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنے اس فرمان کے ساتھ احسان جتلایا (آیت)” ولقد اتینک سبعا من المثانی “۔ اس سے مراد فاتحۃ الکتاب ہے ، یہ آیت کریمہ سورة الحجر کی ہے جو کہ مکی ہے لہذا اگر سورة فاتحہ کو مدنی مانا جائے تو نزول فاتحہ سے قبل اس کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر احسان جتلانے کے کیا معنی ہیں ؟ فرمان الہی بسم اللہ باء زائدہ ہے اپنے سے بعد والے لفظ کو زیردیتی ہے جیسے کہ دوسرے حروف جارہ من وعن باء کا متعلق محذوف ہوتا ہے جس پر موجودہ کلام دلالت کرتا ہے ، تقدیری عبارت ہوگی ” ابدا بسم اللہ “ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتا ہوں یا ” قل بسم اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کہہ کثرۃ استعمال کے باعث لفظ میں تخفیف پیدا کرنے کے لیے اسم کی الف کو گرا دیا گیا اور باء کو (کتابۃ میں) لمبا کردیا گیا ، علامہ قطبی فرماتے ہیں کہ باء کو اس لے لمبا لکھا گیا تاکہ کتاب اللہ کا آغاز حرف معظم کے ساتھ ہو۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) اپنے کاتبوں کو فرمایا کرتے تھے کہ باء کو لمبا کرکے لکھو ، سین کو ظاہر کرو، (یعنی اس کے دندانے نمایاں کرو) دونوں کے درمیان فاصلہ کرو ( یعنی علیحدہ اور خوب نمایاں کرکے لکھو) میم کو گول لکھو یہ سب کچھ اللہ عزوجل کی کتاب کی تعظیم کے پیش نظر کرو یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب انہوں نے اسم سے الف کو ساقط کیا تو الف اسم کی الف ثابت رکھی گئی تو اس پر وارد ہونے والی ب اپنے اصلی صیغہ (یعنی اصل شکل و صورت) کے مطابق لکھی گئی (یعنی اس جگہ باء کو لمبا نہیں کیا گیا) جب اسم کی نسبت غیر اللہ کی طرف کی جائے گی تو اسم کی الف کو حذف نہیں کیا جائے گا اور نہ اسم کی الف اس وقت حذف ہوگی جب وہ باء کی علاوہ کسی اور کے ساتھ متصل ہوگا ۔ (اسم ومسمی کی بحث) اسم وہی مسمی ہے اور اس کا عین ذات ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” انا نبشرک بغلم ن اسمہ یحی) اس میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اے زکریا آپ کے ہاں ہونے والے صاحبزادہ کا نام یحیٰ ہوگا ، پھر نام کو پکارا اور کہا (یا یحیٰ ) (فائدہ اس سے معلوم ہوا کہ جو اسم ہے یعنی یحیٰ وہی مسمی ہے کیونکہ نام کو نہیں پکارا جاتا مسمی کو پکارا جاتا ہے اور ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا “۔ اس فرمان الہی میں اشخاص معبودہ مراد لیے گئے ہیں کیونکہ کفار (اسماء کی نہیں بلکہ) مسمیات کی پوجا کیا کرتے تھے اور فرمایا (آیت)” سبح اسم ربک “ اور فرمایا (آیت)” تبارک اسم ربک “۔ (ان سب سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسم عین مسمی ہے) پھر تسمیہ یعنی بسم اللہ کو بھی اسم کہا جاتا ہے چناچہ تسمیہ میں اسم کا استعمال مسمی میں استعمال سے بھی زیادہ ہے ، اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا خود بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کا کیا معنی ہوگا تو جوابا کہا گیا ہے کہ بندوں کو تعلیم دینا ہے کہ وہ قراۃ کیسے شروع کریں ۔ (اسم مشتق ہے یا جامد) اس میں انہوں نے اختلاف کیا بصریوں میں سے مبرد کہتے ہیں کہ اسم سمو سے مشتق ہے جس کے معنی بلند کے ہیں ، پس گویا کہ وہ اپنے معنی پر بلند ہے اور اس پر غالب ہے یعنی نمایاں ہے اور اپنا معنی خود ہوا نہ کہ اپنے معنی کے تحت (بخلاف فعل کے کہ وہ اپنے معنی کے تحت یعنی ضمن میں ہوتا کیونکہ فعل اصطلاحی کا معنی تین چیزوں سے مرکب ہوتا) (١) فعل لغوی (٢) زمانہ (٣) فاعل جبکہ اسم میں یہ بات نہیں ہے اور کو فیوں میں سے ثعلب کا کہنا ہے کہ اسم وسم اور سمۃ سے مشتق ہے اور اس کا معنی علامۃ ہے گویا کہ اسم اپنے معنی اور مسمی کی علامت ہے ، پہلا قول (قول مبرد) اصح ہے ، اس لیے کہ اسم کی تصغیر سمی آتی ہے ، اگر اسم سمۃ سے مشتق ہوتا تو اس کی تصغیر ” وسیم “ ہوئی (کیونکہ تصغیر سے کسی لفظ کی اصل کا صحیح علم ہوتا ہے) جیسے وعدہ کی تصغیر وعید ہے ، نیز اس کی گردان ماضی میں سمیت ہے اگر اسم سے ہوتا تو وسمت کہا جاتا ۔ (لفظ اللہ کے متعلق علمی بحث) (اللہ) حضرت خلیل اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ لفظ ذات باری تعالیٰ کا خاص نام ہے کسی مادہ سے مشتق نہیں ہے جیسے بندوں کے مخصوص نام ہوتے ہیں ، مثلا زید ، عمرو، ایک جماعت کا کہنا ہے کہ لفظ اللہ مشتق ہے پھر کس سے مشتق ہے اس میں انہوں نے اختلاف کیا ، چناچہ کہا گیا ” الہ الاھۃ سے مشتق ہے بمعنی ” عبد عبادۃ (لھذا الاھۃ بمعنی عبادت کے ہوگا) سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی قراۃ (یذرک والھتک) یعنیعبدتک اس کا معنی ہوگا کہ بیشک وہی مستحق عبادت ہے نہ کہ اس کے سوا کوئی اور ، بعض نے کہا لفظ اللہ کی اصل الہ ہے جیسے ” الھت الی فلان “ یعنی فلاں کی طرف (پناہ میں) میں نے سکون حاصل کیا ، شاعر کہتا ہے ” الھت الیھا والحوادث جمۃ “ کہ میں نے اس کی (محبوبہ) جانب سکون حاصل کیا (یعنی اس کی پناہ میں) جبکہ حادثات کثیر تھے گویا (اللہ تعالیٰ کا نام الہ اس لیے ہے) مخلوق اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر سکون قلب حاصل کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان پاتی ہے ، کہا جاتا ہے ” الھت الیہ “ یعنی میں نے پناہ حاصل کی ، شاعر کہتا ہے ” الھت الیھا والرکائب وقف “ ترجمہ میں نے اس (محبوبہ) کی طرف پناہ حاصل کی اور سواریاں رکی رہیں اور کہا گیا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ تھا واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا گیا ، جیسا وشاح کی واو کو ہمزہ سے بدل کر اشاح بنادیا گیا ، اس کا اشتقاق ولہ سے بایں معنی ہے کہ بندے شدائد و مصائب میں اللہ کی طرف گھبرا کر متوجہ ہوتے ہیں اور حاجات میں اس کی طرف پناہ پکڑتے ہیں جس طرح بچہ گھبرا کر ماں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور بعض نے کہا کہ اس کی اصل ولہ ہے اس کا معنی محبوب اور قیمتی شئی کے گم ہونے سے عقل کا چلا جانا آتا ہے ۔ (الرحمن الرحیم) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ دونوں رحمت بھرے نام ہیں ایک نام دوسرے نام سے زیادہ رحمت بھرا ہے ، ان دونوں ناموں میں علمائے کرام نے اختلاف کیا ہے ، بعض نے کہا ہے کہ دونوں کا معنی ایک ہے جس طرح ندمان اور ندیم ایک معنی میں ہیں اسی طرح رحمن اور رحیم ایک معنی رکھتے ہیں یعنی ذوالرحمۃ رحمت والا ایک نام کے بعد دوسرے نام کا ذکر اس لیے کیا تاکہ رغبت کرنے والوں کو مزید طمع حاصل ہو ، مبرد کہتا ہے یہ انعام کے بعد انعام ہے اور مہربانی کے بعد مہربانی ہے ۔ بعض نے ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے چناچہ رحمن کے معنی میں عموم اور رحیم کے معنی میں خصوص ۔ لہذا رحمن کا معنی دنیا میں رزاق ہونے ہیں ، یہ مفہوم عام ہے پوری مخلوق کو شامل ہے اور رحیم کا معنی آخرت میں معاف کرنے والا ہے اور آخرت میں عفو کا مفہوم بالخصوص مؤمنین کے لیے ثابت ہے اس لیے دعا میں کہا گیا ہے یا رحمن الدنیا ورحیم الاخرۃ لہذا رحمن وہ جس کی رحمت مخلوق کو علی العموم پہنچے اور رحیم وہ جس کی رحمت مخلوق کو علی الخصوص پہنچے ، لہذا اللہ تعالیٰ کے ماسوا کو رحیم کہا جاسکتا ہے مگر رحمن نہیں کہا جاسکتا ، پس رحمن معنی کے لحاظ سے عام اور لفظ کے لحاظ سے خاص اور حیم لفظ کے لحاظ سے عام اور معنی کے اعتبار سے خاص ۔ (رحمۃ کا معنی) رحمۃ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ مستحق رحمۃ کو خیر پہنچانے کا ارادہ فرما دیں ، بعض نے کہا کہ رحمۃ کا معنی ہے مستحق سزا کو سزا نہ دینا اور جو خیر کا مستحق نہ ہو اسے بھی خیر عطا فرمانا ۔ اول معنی کے لحاظ سے رحمت صف ذات حق تعالیٰ ٹھہری اور دوسرے مفہوم کے لحاظ سے رحمۃ صفۃ فعل ہوگی ۔ والی آیت میں انہوں نے اختلاف کیا ، چناچہ مدینہ منورہ اور بصرہ کے قراء اور فقہاء کوفہ کا قول ہے کہ بسم اللہ نہ سورة فاتحہ کی آیت ہے اور نہ کسی اور سورة کی آیت ہے سورتوں کے شروع میں محض حصول خیر و برکت کے لیے ہے اور مکۃ المکرمہ اور کوفہ کے قراء اور اکثر فقہاء حجاز کا مؤقف یہ ہے کہ بسم اللہ سورة فاتحہ کا جز نہیں ہے اور باقی سورتوں کا ، سورتوں کے شروع میں اس کی کتابت محض سورتوں میں فاصلہ کی خاطر کی گئی ہے ۔ اور ایک جماعت کا قول ہے کہ بسم اللہ سورة فاتحہ اور باقی تمام سورتوں کا حصہ ہے سوائے سورة توبہ کے ، یہ قول ثوری ابن مبارک کا ہے اور امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے ، ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کریم میں بقیہ قرآن کریم کے رسم الخط کے مطابق لکھی گئی ہے ان حضرات کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ سورة الفاتحہ کی سات آیات ہیں پھر جو بسم اللہ کو سورة الفاتحہ کی آیت سمجھتا ہے اس کے نزدیک فاتحہ کی پہلی آیت بسم اللہ ہے اور آخری آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “۔ الایۃ “۔ اور جو بسم اللہ کو سورة الفاتحہ کا حصہ نہیں سمجھتا اس کے نزدیک فاتحہ کی پہلی آیت (آیت)” الحمد للہ رب العلمین “۔ ہے اور آخری آیت کی ابتداء (آیت)” غیر المغضوب علیہم “۔ سے ہے اور جو بسم اللہ کو فاتحہ اور باقی سورتوں کا حصہ سمجھتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کریم میں بخط قرآن لکھی گئی ہے ، اور یہ دلیل بھی کہ ابن جریج کا کہنا ہے کہ میرے والد نے سعید بن جریر (رح) سے روایت کی کہ (آیت)” ولقد اتینک سبعا من المثانی والقران العظیم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کیے فرمایا کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن کریم عطا کیا ، اس سے مراد ام القرآن یعنی سورة الفاتحہ ہے، میرے والدہ نے فرمایا مجھ پر سعید بن جبیر (رح) نے اسے (فاتحہ کو) پڑھا حتی کہ ختم فرمایا ، پھر فرمایا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ ساتویں آیت ہے ۔ حضرت سعید (رح) نے فرمایا کہ سورة الفاتحہ کو حضرت علی (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) نے ایسے پڑھا جس طرح میں نے تجھ پر پڑھا پھر فرمایا بسم اللہ ساتویں آیت ہے ، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو تمہارے لیے ذخیرہ کرکے رکھا اور تم سے پہلوں میں سے کیس پر بھی نہ ظاہر فرمایا (یہ روایت بھی ان حضرات کی دلیل ہے جو بسم اللہ کو سورة الفاتحہ کا حصہ سمجھتے ہیں) اور جو حضرات بسم اللہ کو سورة الفاتحہ کا حصہ نہیں سمجھتے ان کی دلیل یہ روایت ہے ، حضرت سیدنا انس بن مالک سے روایت کی ۔ وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبکر (رض) ، حضرت عمر (رض) حضرت عثمان (رض) تعالیٰ عنہ کے پیچھے مقتدی بن کر کھڑا ہوا ، یہ سب حضرات جب نماز کا آغاز (فاتحہ سے) فرماتے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھا کرتے تھے ، حضرت سعید بن جبیر (رح) ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم بسم اللہ کے نازل ہونے تک دو سورتوں کے درمیان امتیاز معلوم نہیں کرسکتے تھے ۔ علامہ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء میں قریش کے طریق کے مطابق ” باسمک اللم “ لکھتے تھے یہاں تک کہ ” بسم اللہ مجریھا “ نازل ہوئی تو آپ نے بسم اللہ لکھنی شروع کی، پھر جب (آیت)” قل ادعوا اللہ اودعوا الرحمن “۔ کا نزول ہوا تو آپ بسم اللہ الرحمن “ لکھنے لگے حتی کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ، (آیت)” انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پھر اسکے مطابق بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا۔ (تسمیہ کی خاصیت) خواص (١) جو شخص ایمان و اخلاص سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرے گا تو اس کے انیس حرفوں کی بدولت وہ شخص دوزخ کے انیسوں فرشتوں کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور بسم اللہ میں چار کلمے ہیں ، ان چار کلموں کی برکت سے اس کے چاروں طرح کے گناہ یعنی رات کے دن کے چھپے ظاہر سب معاف ہوجائیں گے ۔ (تسمیہ کی ایک اور خاصیت) جو کوئی بسم اللہ کو بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھے کہ ہر ہزار کے بعد دو نفل ادا کرے اور دعا مانگے بارہ ہزار پورا ہوچکنے پر بھی دو رکعت پڑھے اور خلوص نیت سے دعا مانگے تو ضرور اس کی دعا قبول ہوگی جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد اللہ یا رحمن یا رحیم مغرب تک پڑھتا رہے اور درمیان میں نہ کسی سے بات کرے نہ دوسری جانب متوجہ ہو اس کے بعد دعا مانگے انشاء اللہ اسکی کوئی حاجت کیوں نہ ہو ضرور پوری ہوگی ! بعض مشائخ نے اللہ کو جو اسم ذات ہے اسم اعظم بتایا ہے بوقت نیم شب چالیس رات تین ہزار مرتبہ یا اللہ پڑھنا اور ورد رکھنا ، کشف قلب کا باعث ہے ۔ (فضائل و خواص سورة بقرہ) اس سورت کے نام میں سورة البقرۃ ، سورة فسطاط القرآن ، یہ قرآن میں سب سے بڑی اور پچھلی سورة ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی جس گھر میں یہ سورة پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان نہیں گھستا اور جو شخص اس سورة کا ورد رکھے گا قیامت کے دن اس کے سرپر تاج ہوگا ١٢ ق۔ شیخ جمال الدین یونس (رح) سجاوندی فرماتے ہیں اگر کسی شخص کو سخت مصیبت درپیش ہو جس سے رہائی نظر نہ آتی ہو تو اس کو چاہیے کہ ایک کاغذ پر ” بسم اللہ الرحمن الرحیم ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم بسم اللہ الملک الحق المبین من العبد الذلیل الی المولی الجلیل مسنی الضر وانت ارحم الراحمین ۔ اور کاغذ کو چلتے پانی میں ڈال دے ۔ اگر ہفتہ کے اندر اس کی مراد پوری نہ ہوجاوے تو قیامت کے دن میرا دامن ہوگا اور اس کا ہاتھ ۔
Top