Madarik-ut-Tanzil - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ یہ سورت مکی ہے بعض کا کہنا ہے کہ مدنی ہے، مگر صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہ مکی اور مدنی ہے، یہ مکہ ریف میں اس وقت اتاری گئی جبکہ نماز کا فریضہ لاگو ہوا، پھر دوبارہ نزول مدینہ میں اس وقت ہوا جب تحویل قبلہ کا معاملہ پیش آیا۔ اسمائے سورت اور ان کی وجوہ : ام القرآن : حدیث میں اس کا نام یہ وارد ہوا ہے۔ لا صلاۃ لمن لم یقرء بام القران (مسلم) اس کی نماز کامل نہیں جس نے ام القرآن نہ پڑھی۔ یہ قرآن مجید کے مقاصد پر مشتمل ہے۔ وافیہ، کافیہ : یہ سورت مقاصد قرآن کو اپنے اندر سمیٹنے والی ہے۔ الکنز : حدیث قدسی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب کنز من کنوز عرشی (ابن راہویہ) فاتحۃ الکتاب میرے عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ الشفاء الشافیہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد مبارک ہے : فاتحۃ الکتاب شفاء من کل داء الالسام (فیض القدیر) فاتحہ موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج (شفا) ہے۔ المثانی : سورة الصلوۃ : اس روایت کی بنا پر (لا صلوۃ من لم یقرء بام القرآن) کہ نماز کی تکمیل کا دارومدار اس پر ہے۔ اس لیے بھی کہ یہ نماز میں فرض ہے یا واجب (فقہاء کے اختلاف کے مطابق) سورت الحمد والاساس : یہ قرآن کی اساس و بنیاد ہے، جیسا حضرت ابن عباس نے اپنے ارشاد میں ذکر فرمایا : اذا اعتللت او اشتکیت فعلیک بالاساس : کہ جب تو بیمار پڑجائے تو فاتحہ کو لازم پکڑ۔ تعداد آیات : اس سورت میں بالاتفاق سات آیات ہیں۔ واللہ اعلم۔ اختلاف قراء اور ان کے دلائل : قراء مدینہ بصرہ اور شام رحمہم اللہ کا کہنا یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ فاتحہ کی آیت نہیں اور نہ ہی یہ کسی دوسری سورت کی ابتدائی آیت ہے (البتہ سورت نمل کی آیت کا حصہ ہے انہ بسم اللہ الرحمن الرحیم الایۃ) ابتداء میں اس کو تبرک کے طور پر اور دو سورتوں کے مابین فاصلہ ظاہر کرنے کے لیے لایا جاتا ہے امام ابوحنیفہ اور ان کے متبعین کا یہی مسلک ہے، اسی بنا پر ان کے ہاں فاتحہ کے ساتھ اس کو جہرا نہیں پڑھا جاتا۔ دوسرا مسلک یہ قراء مکہ اور کوفہ کا ہے، کہ یہ نہ صرف سورت فاتحہ کی ایک آیت ہے، بلکہ ہر سورت کی (ابتدائی) آیت ہے اس قول کو امام شافعی اور ان کے احباب نے اختیار فرمایا، یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو فاتحہ کے ساتھ جہرا پڑھتے ہیں۔ دلائل شوافع : سلف صالحین اس کو قرآن مجید میں لکھتے چلے آرہے ہیں حالانکہ غیر قرآن کو قرآن میں لکھنے کی شدت سے ممانعت تھی (پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ سورت فاتحہ کی آیت ہے) حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جس نے بسم اللہ کو چھوڑ دیا اس نے گویا کتاب اللہ کی ایک سو چودہ آیات کو چھوڑ دیا۔ (اس سے ثابت ہوا کہ یہ ہر سورت کی آیت ہے) دلائل احناف رحمہم اللہ : حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے صلاۃ یعنی فاتحہ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کرلیا ہے۔ میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ جب بندہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب بندہ کہتا ہے الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب بندہ کہتا ہے مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب بندہ کہتا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، میرے بندے نے جو طلب کیا میں نے اس کو دے دیا۔ جب بندہ کہتا ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لیے خاص ہے۔ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ ۥۙ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ ۔ میرے بندے نے جو مجھ سے سوال کیا وہ میں نے اسے دے دیا۔ (پس اگر بسم اللہ فاتحہ کا جز ہو تو الحمد کی بجائے اولا بسم اللہ کہا جاتا، اس سے ثابت ہوا کہ فاتحہ بسم اللہ کا جزو نہیں) پس اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ سے سورت فاتحہ کی ابتدا کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بسم اللہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے، جب فاتحہ کا جزو نہ بنا تو دوسری سورتوں کا جزو نہ ہونا تو بالاتفاق خود ثابت ہوگیا، اور یہ روایت تو صحاح ستہ میں مذکور ہے۔ جواب روایت : ان کی پیش کردہ روایت ہمارے مخالف نہیں کیونکہ بسم اللہ ہمارے نزدیک بھی قرآن مجید کی ایک آیت ہے، جو دو سورتوں کے درمیان فاصلہ کرنے اور سورتوں کے ابتدا میں تبرک حاصل کرنے کی غرض سے اتاری گئی۔ علامہ فخر الاسلام نے یہ بات المبسوط میں ذکر کی ہے، ہم پر یہ اعتراض اس روایت سے تب آتا جب اس کو ہم قرآن مجید کی آیت تسلیم نہ کرے۔ الکافی میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ من شاء فلیراجع۔ با کا تعلق محذوف سے ہے، جس کی تقدیر عبارت یہ ہے : بسم اللہ اقرائ والتوا کیونکہ جو شخص بسم اللہ کی تلاوت کرتا ہے تو وہ اس کا قاری ہے، جیسا کہ مسافر جب کسی جگہ خیمہ زین ہو یا وہاں سے کوچ کرے تو کہتا ہے باسم اللہ والبرکات یعنی (بسم اللہ احل و بسم اللہ ارتحل) کہ میں اللہ کے نام کی برکت سے اترتا اور اللہ کے نام کی برکت سے کوچ کرتا ہوں، اسی طرح ذبح کرنے والا (کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے نام سے ذبح کرتا ہوں) اصول : یہ فاعل جو بسم اللہ سے اپنے فعل کو شروع کرے گا تو وہی فعل مضمر ہوگا جس کی ابتدا بسم اللہ سے کی گئی ہے۔ البتہ فعل محذوف آخر میں مانا جائے گا کیونکہ فعل اور متعلق بہ سے زیادہ اہم متعلق یہ ہے کہ (کیونکہ مقصود وہی ہوتا ہے) عادت مشرکین : مشرکین اپنے معبودوں کے نام سے ابتدا کرتے ہوئے کہتے : باسم اللات وباسم العزی۔ (اسلام نے شرک کی جڑ کو اکھیڑا ہے) اس لیے مومن موحد کے لیے ضروری ٹھہرا کہ وہ اللہ کے نام کو ابتدا میں لائے تاکہ ہر چیز کی ابتدا کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام کا خاص ہونا ثابت ہوسکے اور یہ مقصد صرف اس صورت میں پورا ہوسکتا ہے جبکہ متعلق بہ کو پہلے لایا جائے اور فعل کو آخر میں ذکر کیا جائے۔ ایک اعتراض اور اس کا جواب : سوال : اقرا باسم ربک میں فعل کو مقدم کیوں کیا گیا۔ جواب 1: ایک قول کے مطابق یہ سب سے پہلے اترنے والی سورت ہے، اس وقت قرات کا حکم زیادہ اہمیت والا تھا، اسی لیے فعل قرات کو مقدم کردیا گیا تاکہ حکم قرات دلوں میں خوب پختہ و جاگزین ہوجائے۔ جواب 2: یہ بھی درست ہے کہ قرات کو افعل القراۃ و حققھا (کہ تم قرات کرو اور خوب اچھی طرح کرو) کے معنی میں مان لیا جائے اور یہ اس محاورہ عرب کے مطابق ہوگا۔ فلان یعطی و یمنع پھر اس کا فعل الگ محذوف ہوگا، جس پر بسم اللہ پڑھا جائے گا، اس کی طرف متعدی نہ ہوگا۔ جواب 3: یہ بھی ممکن ہے کہ باسم ربک اس اقرار کا مفعول ہو جو بعد میں محذوف ہے، اور اسم اللہ کا تعلق قرات سے اسی طرح کا مانا جائے جو اس آیت میں تنبت بالدھن (المومنون : 20) میں دھن (تیل) کا انبات (اگنے) سے ہے۔ پس معنی یہ ہوگا متبرکا باسم اللہ اقرا میں اللہ تعالیٰ کے نام سے تبرک حاصل کرتے ہوئے پڑھتا ہوں۔ نکتہ : اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تعلیم دی کہ وہ اس کے نام سے کس طرح تبرک حاصل کریں اور اس کی کس طرح تعظیم بجا لائیں۔ بسم اللہ کی باکسرہ پر مبنی ہے کیونکہ وہ کسرہ حرفیت اور جر کا لازمہ ہے، اسی لیے با کو مکسور رکھا تاکہ اس کی حرکت اس کے عمل کے مشابہ ہو۔ لفظ اسم کی تحقیق : اسم : یہ لفظ ان اسما میں سے ہے جن کا حرف اول مبنی بالسکون ہے، جیسا کہ ابن اور ابنۃ وغیرہ۔ جب ان سے ابتدا کر کے پڑھنا چاہیں تو ہمزہ لگا دیا جاتا ہے، کیونکہ ساکن سے ابتدا نہیں کی جاسکتی، البتہ درمیان کلام میں جب یہ الفاظ آجائیں گے تو پھر ہمزہ کی ضرورت سے مستغنی ہوجاتے ہیں۔ بعض علما : ہمزہ کا اضافہ نہیں کرتے بلکہ صرف ساکن کو حرکت دینے پر اکتفا کرتے ہیں، چناچہ وہ اس کو سم اور سم پڑھتے ہیں۔ یہ ان اسما میں سے ہے، جس کا آخری حرف حذف کردیا گیا جس طرح کہ ید اصل میں یدی اور دم اسل میں دمو ہے۔ اسی طرح اس کی اصل سمو ہے، جس کی دلیل وہ تبدیلی ہے جو اسماء، سمی، سمیت میں نظر آرہی ہے۔ یہ سمو یعنی بلندی سے مشتق ہے، کیونکہ نام مسمی کی تعریف کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے تذکرے کو پھیلانے والا ہے۔ بسم اللہ : میں الف کتابت سے حذف کردیا گیا۔ اور اقرا باسم ربک (العلق :1) میں ذکر کردیا کیونکہ اس میں بھی دونوں جمع ہوسکتے ہیں مگر بسم اللہ میں تو کثرت استعمال کی وجہ سے تلفظ سے ساقط کردیا گیا (اور اقرا باسم میں کثرت استعمال نہیں اس لیے کتابہ حذف نہیں کیا گیا) بسم اللہ کی با کو حذف کے بدلے میں لمبا لکھا جائے گا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے کاتب کو حکم دیا کہ ب کو لمبا لکھو، س کو ظاہر کرو اور م کو گول لکھا کرو۔ (اس میں کتاب اللہ کی تعظیم ہے) لفظ اللہ کی تحقیق : اللہ : اس کی اصل الالہ ہے اس کی نظیر الناس کا لفظ ہے جس کی اصل اناس ہے ہمزہ کو حذف کر کے ابتدا میں الف لام کا اضافہ کردیا الہ کا لفظ اسماء جنس میں سے ہے۔ ہر حق و باطل پر بولا جات ہے، پھر معبود حقیقی کے لیے اس کا استعمال غالب آگیا۔ جیسا کہ النجم کا لفظ ہر ستارے پر بولا جاتا ہے، پھر ثریا (کہکشاں) کے لیے اس کا استعمال غالب ہوگیا۔ اللہ کا لفظ حذف ہمزہ کے ساتھ فقط معبود برحق ہی بولا جاتا ہے، غیر پر اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا یہ اسم ہے، صفت نہیں۔ دلیل 1: کیونکہ اس کو بطور موصوف لاتے ہیں خود اس کو بطور صفت استعمال نہیں کرتے، اس طرح یہ نہیں کہا جاتا شیئ الہ، جس طرح کہ شی رجل نہیں کہتے، بلکہ کہتے ہیں الہ واحد صمد الہ جو اکیلا بےنیاز ہے۔ دلیل 2: اللہ تعالیٰ کی صفت کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایسا موصوف ہو جس پر وہ صفات بولی جائیں، پھر اگر تمام کو صفات قرار دیا جائے تو کہنا پڑے گا کہ یہ صفات تو ہیں مگر ان کا موصوف کوئی نہیں، اور یہ بات درست نہیں۔ علماء نحو کا اختلاف : جلیل القدر علماء نحو خلیل، زجاج، محمد بن لحسین، حسین بن الفضل رحمہم اللہ نے اس کو مشتق نہیں مانا بلکہ اشتقاق کا انکار کیا۔ اشتقاق کا معنی : بعض نے کہا اشتقاق کا معنی یہ ہے کہ ترکیب اور معنی میں دو یا زیادہ لفظ مشترک ہوجائیں، اس اسم کا لفظ الہ یا لہ (حیران ہونا) ہو۔ یہ لفظ حیرانی اور دہشت کو اپنے اندر شامل کرنے والے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ معبود کی پہچان میں وہم و گمان حیران ہیں، اور بڑے تیز عقل والے دہشت زدہ ہیں، اسی وجہ سے گمراہی کثرت سے ہے، اور باطل پھیل رہا ہے، اور صحیح سوچ و فکر کی کمی ہے۔ دوسرا قول : بعض نے کہا یہ الہ یا لہ الاھا، اس نے عبادت کی، سے ماخوذ ہے یہ مصدر ہے جو مالوہ بعمنی معبود کے مستعمل ہے، جیس کہ آیت : (ھذا خلق اللہ) لقمان :11 ۔ میں خلق کا لفظ بمعنی مخلوق استعمال ہوا ہے۔ اختلاف قرات : جب اس میں لام سے قبل ضمہ یا فتحہ ہو تو لام کو تفخیم پڑھا جائے گا، اور اگر لام سے پہلے کسرہ ہو تو ترقیق ہوگی بعض قرا نے ہرحال میں ترقیق کی ہے جبکہ دوسروں نے ہرحال میں تفخیم مگر جمہور کا قول وہی ہے جو ہم نے پہلے نقل کردیا۔ لفظ رحمن و رحیم کی تحقیق : الرحمن : یہ رحم سے بروزن فعلان ہے، اس ذات کو کہتے ہیں جس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے، اس کی نظیر غضبان کا لفظ ہے جو غضب سے ہے۔ غضبان اس شخص کو کہتے ہیں جو غصے سے بھرا ہوا ہو۔ اسی طرح الرحیم رحم سے فعیل کا وزن ہے جیسا مرض سے مریض، لفظ رحمان میں مبالغہ رحیم کی بہ نسبت زیادہ ہے۔
Top