Dure-Mansoor - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
سورة الفاتحۃ مکیۃ یہ سورة مکی ہے اور اس کی سات آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔ (١) حضرت ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت اسود (رح) سے فاتحہ الکتاب کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ قرآن میں سے ہے تو انہوں نے فرمایا ہاں۔ (٢) امام عبدبن حمید اور محمد بن نصر المروزی نے کتاب الصلاۃ میں اور ابن الانباری نے المصاحف میں حضرت محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب لکھا کرتے تھے (اپنے مصحف میں) فاتحۃ الکتاب والمعوذتین واللہم ایاک نعبد واللہم ایاک نستعین اور ابن مسعود نے (اپنے مصحف میں) اس میں سے کچھ بھی نہ لکھا اور عثمان بن عفان (رض) نے فاتحۃ الکتاب والمعوذتین کو لکھا۔ (٣) امام عبد بن حمید نے حضرت ابراہیم رحمہ ا (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ (رض) اپنے مصحف میں فاتحۃ الکتاب کو نہیں لکھا کرتے تھے اور انہوں نے فرمایا اگر میں اس کو لکھوں تو ہر چیز کے اول میں لکھوں۔ (٤) الواحدی (رح) اسباب النزول میں اور الثعلبی نے اپنی تفسیر میں حضرت علی (رض) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب عرش کے خزانے کے نیچے سے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ (٥) امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابو نعیم نے دلائل نبوۃ میں واحدی اور ثعلبی نے ابو میسرہ عمرو بن شرجیل (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) کو فرمایا کہ جب میں اکیلا ہوا تو میں نے ایک آوز سنی قسم ہے اللہ پاک کی میں ڈرا کہ کوئی (بڑا) حادثہ پیش آنے والا ہے۔ حضرت خدیجہ (رض) نے (یہ سن کر) فرمایا اللہ کی پناہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے اللہ کی قسم آپ تو امانت کو ادا کرنے والے ہیں اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں اور سچی بات کہنے والے ہیں پھر جب ابوبکر (رض) حضرت خدیجہ (رض) کے پاس آئے جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود نہیں تھے تو حضرت خدیجہ (رض) نے اس واقعہ کو حضرت ابوبکر (رض) سے بیان فرمایا اور ان سے کہا کہ آپ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ورقہ کے پاس جاؤ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ ورقہ کے پاس تشریف لے چلئے آپ نے ان سے (یعنی حضرت ابوبکر (رض) سے) فرمایا کہ تجھے کس نے (اس واقعہ کی) خبر دی۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت خدیجہ (رض) نے چناچہ دونوں (یعنی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر) ورقہ کی طرف تشریف لے گئے اور دونوں حضرات نے ان کو اپنا قصہ بیان کیا اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب میں اکیلا رہتا ہوں تو میں اپنے پیچھے سے یہ آواز سنتا ہوں یا محمد یا محمد تو میں (ڈر کی وجہ سے) زمین میں بھاگ جاتا ہوں (یہ بات سن کر) ورقہ نے کہا کہ آپ ایسا نہ کریں بلکہ آپ کے پاس کوئی (آواز) آئے تو آپ جائیں اور (اس کی بات) سنتیں جو وہ کہتا ہے پھر آپ (دوبارہ) میرے پاس تشریف لائیں اور مجھے بتائیں پس جب آپ اکیلے ہوئے تو کسی آپ کو پکارا یا محمد آپ پڑھیئے لفظ آیت ” بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ (سے لیکر) لفظ آیت ولا الضالین تک (پھر) اس نے کہا آپ پڑھیئے لا الہ الا اللہ (اس کے بعد) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورقہ کے پاس تشریف لائے اور اس کو یہ سب کچھ بتایا ورقہ نے آپ سے عرض کیا آپ کو خوشخبری ہو پھر کہا آپ کو خوشخبری ہو (اور) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ آپ وہی ہیں جس کی ابن مریم (علیہ السلام) نے خوشخبری دی تھی۔ اور بلاشبہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے ناموس کی طرح ہیں (یعنی فرشتہ ان کے پاس آتا تھا وہی فرشتہ آپ کے پاس آتا ہے) اور بلاشبہ آپ بھیجے ہوئے نبی ہیں۔ (٦) امام ابو نعیم نے دلائل نبوۃ میں اسحاق بن یسار (رح) نے بنی سلمہ کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ اس نے کہا کہ جب نبی سلمہ کے دو نوجوان اور عمرو بن الجموع (رض) کے صاحبزادے اسلام لائے تو عمرو بن جموع کی گھر والی ان سے کہنے لگی کیا تو نے اپنے بیٹے سے سنا جو وہ ان کی طرف سے روایت کرتا ہے تو عمرو (رض) نے کہا تو نے اس آدمی (یعنی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کیا کلام سنا ہے ؟ بیٹے نے (ان کے سامنے) یہ پڑھا لفظ آیت الحمد للہ رب العالمین سے اھدنا الصراط المستقیم تک تو عمرو بن جموع نے یہ کلام سن کر) فرمایا کیا ہی اچھا اور کیا ہی خوبصورت کلام ہے اور ان کا ہر کلام اس طرح ہے پھر اس کے صاحبزادے نے عرض کیا اے میرے ابا جان اور (ان کا کلام) اس سے بھی زیادہ اچھا ہے اور یہ ہجرت سے پہلے کی بات ہے۔ (٧) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابو سعید بن الاعرابی نے اپنی معجم میں اور طبرانی نے الاوسط میں مجاہد کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ جب سورة فاتحی اتری تو ابلیس بلند آواز سے رونے لگا اور (سورۃ فاتحہ) مدینہ منورہ میں اتری۔ (٨) وکیع اور فریابی نے اپنی اپنی تفسیر میں اور ابو عبد اللہ نے فضائل القرآن میں، ابن ابی شیبہ نے المصنف میں، عبد بن حمید اور ابن المذر نے اپنی اپنی تفسیر میں، ابو کثیر ابن الانباری نے کتاب المصاحف میں، ابو الشیخ نے العظمۃ میں، ابو نعیم نے الحلیہ میں، حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ فاتحہ الکتاب (یعنی سورة فاتحہ) مدینہ منورہ میں اتری۔ (٩) وکیع نے اپنی تفسیر میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ فاتحۃ الکتاب مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ (١٠) ابوبکر بن الانباری نے المصاحف میں حضرت قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ فاتحہ الکتاب مکہ مکرمہ میں اتری۔ (١١) امام ابن الضریس نے فضائل القرآن میں ایوب سے روایت کیا ہے کہ محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ وہ (سورۃ فاتحہ کو) ام القرآن کہنا ناپسند فرماتے تھے اور وہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لفظ آیت ” وعندہ ام الکتاب “ اور لیکن (یہ سورة ) فاتحۃ الکتاب ہے۔ (١٢) امام دار قطنی نے روایت کیا ہے اور اس روایت کو انہوں نے صحیح بھی کہا ہے اور بیہقی نے السنن میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم الحمد (یعنی سورة فاتحہ) پڑھو تو ہم لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم (بھی) پڑھو کیونکہ یہ (سورۃ فاتحہ) ” ام القرآن “ اور ” ام الکتاب “ اور سبع المثانی ہے۔ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی آیتوں میں سے ایک آیت ہے۔ (١٣) امام بخاری نے اور دارمی نے اپنے سند میں ابو داؤد، ترمذی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابی ابی مرویہ نے اپنی اپنی تفاسیر میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا لفظ آیت ” الحمدللہ رب العالمین “ ام القرآن، ام الکتاب اور سبع المثانی ہے۔ فاتحہ کا دوسرا نام ام القرآن (١٣) امام احمد نے اپنی سند میں ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاترم اور ابن مرویہ نے اپنی اپنی تفاسیر میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ام القرآن کے بارے میں کہ ام القرآن فاتحۃ الکتاب ہے اور یہ السبع المثانی ہے اور یہ القرآن العظیم ہے۔ (١٤) الثعلبی نے عبد الجبار بن العلاء (رح) سے روایت کیا کہ سفیان بن عینیہ (رح) فاتحۃ الکتاب کا نام الواقعہ رکھتے تھے (وافیہ کا معنی عربی میں آنکھیں اور کان کو کہا جاتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے الوافیہ کا ترجمہ یہ ہوگا کہ فاتحۃ الکتاب کی حیثیت قرآن مجید میں اتنی اہم ہے جتنی انسانی جسم میں آنکھوں اور کانوں کی حیثیت ہے۔ گویا سورة فاتحہ قرآن مجید کی آنکھیں اور کان ہیں) ۔ (١٥) الثعلبی نے عفیف بن سالم (رح) سے نقل کیا کہ میں نے عبد اللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے امام کے پیچھے سورة فاتحہ پڑھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا تو الکافیہ کے متعلق پوچھتا ہے میں نے کہا الکافیہ کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ” الفاتحہ “ کیا تو نہیں جانتا کہ (ایک ہی سورة فاتحہ) اپنے علاوہ (سب سورتوں سے) کافی ہوجاتی ہے اور نہیں ہوتیں (سب سورتیں) اس (ایک سورة فاتحہ) کے علاوہ۔ (١٦) الثعلبی نے حضرت شبعی رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے کوکھ میں درد کی شکایت کی تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ تو قرآن کی بنیاد کو لازم پکڑ تو اس نے پوچھا کہ قرآن کی بنیاد کیا چیز ہے آپ نے فرمایا فاتحۃ الکتاب۔ (١٧) درا قطنی اور بیہقی نے السنن میں صحیح سند کے ساتھ عبد خیر (رح) سے روایت کیا کہ حضرت علی (رض) سے سبع المثانی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا لفظ آیت ” الحمد للہ رب العالمین پھر ان سے کہا گیا کہ یہ تو چھ آیتیں ہیں آپ نے فرمایا کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی ایک آیت ہے۔ (١٨) طبرانی نے اپنی وسط میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ لفظ آیت ” الحمدللہ رب العالمین “ سات آیتیں ہیں اور بسم اللہ الرحمن الرحیم ان میں سے ایک آیت ہے۔ اور یہ السبع المثانی ہے اور القرآن العظیم ہے اور یہ ام القرآن ہے اور یہ فاتحۃ الکتاب ہے۔ (١٩) امام دار قطنی اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ بلاشبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی امامت فرماتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم (سے) شروع فرما رہے تھے ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت ہے پڑھو تم (اس کو) اگر تم فاتحۃ الکتاب کوّ پڑھنا) چاہو بیشک وہ ساتویں آیت ہے۔ (بخاری نے بھی اس کی مثل روایت نقل کی ہے) ۔ (٢٠) امام ابن الانباری نے المصاحف میں حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس طرح) تلاوت فرمائی لفظ آیت ” بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم۔ ملک یوم الدین۔ ایاک نعبد وایاک نستعین۔ اھدنا الصراط المستقیم۔ صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین اور فرمایا یہ سات (آیتیں) ہیں اے ام سلمہ۔ (٢١) احمد، بخاری، دارمی، ابو داؤد، نسائی، ابن جریر، ابن ماجہ، ابن مرویہ اور بیہقی نے ابو سعید بن المعلی (رض) سے روایت کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا مجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا تو میں (نماز پڑھنے کی وجہ سے) آپ کو جواب نہ دے سکا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ پاک کا یہ فرمان نہیں ہے ؟ لفظ آیت استجیبوللہ وللرسول اذا دعا کم ؛ تم حکم مانو اللہ اور اس کے رسول کا جب وہ تم کو بلائیں پھر فرمایا کہ میں ضرور ضرور تجھ کو قرآن میں اعظم سورة کے بارے میں بتاؤں گا تیرے مسجد سے نکلنے سے پہلے۔ پھر آپ نے میرے ہاتھ کو پکڑا اور جب ہم نکلنے کے قریب ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا تھا کہ میں ضرور تجھ کو ایک سورة قرآن کی بتاؤں گا تو آپ نے فرمایا لفظ آیت ” الحمدللہ رب العالمین “ یہ سبع المثانی اور القرآن العظیم ہے جو مجھے دی گئی۔ (٢٢) امام ابو عبید، احمد، ترمذی، دارمی، نسائی، ابن خزیمہ، ابن المنذر، حاکم، مردویہ اور ابوذر البہری نے فضائل قرآن میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن ابی کعب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے ابی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت ابی آپ کے فرمان پر متوجہ ہوئے مگر (نماز میں مشغول ہونے کی وجہ سے) آپ کو جواب نہ دے سکے حضرت ابی نے نماز ادا فرمائی مگر (نماز کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے کی وجہ سے) ہلکا کردیا پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا السلام علیک یا رسول اللہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب میں نے تجھ کو بلایا تھا تو نے جواب کیوں نہ دیا انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نماز پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کلام میں نہیں پڑھا جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی یہ کہ لفظ آیت استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحیکم ترجمہ : اے ایمان والو تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جبکہ وہ تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ ابی نے عرض کیا کیوں نہیں اور میں انشاء اللہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا (پھر) فرمایا کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ میں تجھ کو ایک ایسی سورة بتاؤں جس کی مثال نہ تورات میں ہے نہ انجیل میں نہ زبور میں ہے اور نہ فرقان میں ہے ابی نے عرض کیا ہاں اے اللہ کے رسول (مجھے ضرور بتائے) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو نماز میں کیسے پڑھتا ہے ؟ یعنی کونی سورة پڑھتا ہے تو ابی نے ام القرآن (یعنی سورة فاتحہ) پڑھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس سورة کی مثل نہ توراۃ میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ (اس) قرآن میں اتری اور بلاشبہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں پڑھی جاتی ہیں یہ سبع من المثانی ہے یا فرمایا السبع المثانی اور یہ القرآن العظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا۔ (٢٣) امام دارمی، ترمذی انہوں نے اس کو حسن قرار دیا ہے، نسائی، عبد اللہ بن حنبل نے زوائد المسند میں ابن الضریس نے فضائل القرآن میں ابن جریر، ابن خزیمہ اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اس کو العلاء عن ابیہ عن ابی ہریرہ حضرت ابی کعب (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ نہیں اتاری اللہ تعالیٰ نے توراۃ میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں، اور نہ (اس) فرقان میں مثل (اس) ام القرآن (یعنی سورة فاتحہ) کے اور یہ السبع المثانی ہے اور القرآن العظیم ہے۔ جو مجھ کو عطا کیا گیا اور (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) کہ (یہ سورة ) تقسیم کی ہوئی ہے میرے اور میرے بندے کے درمیان اور میرے بندے کے لئے (وہ سب کچھ) ہے جو اس نے (مجھ سے) سوال کیا۔ دونوروں کی بشارت ملنا (٢٤) امام مسلم، نسائی، ابن حیان، طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس حضرت جبرئیل (علیہ السلام) بھی تشریف فرما تھے اچانک آسمان کے اوپر سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی تو حضرت جبرئیل نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ایک فرشتہ نازل ہوا ہے جو پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا راوی فرماتے ہیں کہ وہ (فرشتہ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور سلام کیا (سلام کے بعد) کہنے لگا کہ آپ کو دو نوروں کی خوشخبری ہو جو (خاص کر) آپ کو دئیے گئے اور آپ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دئیے گئے ایک فاتحۃ الکتاب اور (دوسرے) سورة البقرہ کی آخری آیتیں ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے وہ آپ کو دیا جائے گا۔ (٢٥) امام طبرانی نے الاوسط میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابو زید (رض) سے روایت کیا ہے جو صحابی تھے وہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کے بعض کشادہ راستوں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا (وہاں) ایک آدمی کو سنا جو رات کو تہجد کی نماز میں ام القرآن (یعنی سورة فاتحہ پڑھ رہا تھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی سورة ختم ہونے تک ٹھہرے رہے پھر فرمایا کہ زمین میں اسی جیسی (سورۃ) نہیں ہے۔ (٢٦) امام ابو عبید، احمد، بخاری، مسلم اور ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو تیس سواروں کے ایک دستہ کے ساتھ لڑنے کے لئے بھیجا ہم عرب کی ایک قوم کے پاس اترے (اور) ہم نے ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے انکار کردیا (اس دوران) ان کے سردار کو بچھونے ڈس لیا وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جو بچھو کے ڈسے ہوئے پر دم کرتا ہو تو میں نے کہا ہاں میں ہوں اور لیکن میں (اس وقت تک دم) نہیں کروں گا جب تک کہ تم ہم کو کوئی چیز نہیں دو گے انہوں نے کہا کہ ہم تم کو تیس بکریاں دیں گے تو میں نے الحمد (یعنی سورة فاتحہ) اس پر سات مرتبہ پڑھی اور وہ اچھا ہوگیا۔ پھر جب ہم نے (ان تیس) بکریوں پر قبضہ کرلیا تو ہمارے دلوں میں اس کے حلال ہونے کے بارے میں شبہ پیدا ہوا تو ہم ان کے کھانے سے رک گئے۔ یہاں تک کہ جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو ہم نے آپ کو اس سارے واقعے کے بارے میں ذکر کیا آپ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ (سورۃ فاتحہ) دم کرنے کے لئے ہے ان (بکریوں) کو آپس میں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ (اس میں سے) ایک حصہ میرے لئے بھی مقرر کرو۔ (٢٧) امام احمد بخاری اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ ایک پانی کے پاس سے گزرے جس میں ایک آدمی بچھو کا ڈسا ہوا یا سانپ کا کاٹا ہوا تھا۔ تو (اس قبیلہ) میں سے ایک آدمی ان (صحابہ) کے پاس آیا اور کہا کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ؟ کیونکہ پانی میں ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا ہے یا سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ تو ان میں سے ایک صحابی تشریف لے گئے اور کچھ بکریوں کی شرط پر انہوں نے سورة فاتحہ کے ساتھ دم کیا تو (وہ مریض) صحت یاب ہوگیا وہ ان بکریوں کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو انہوں نے ان (بکریوں) کو (بطور عوض کے لینا) پسند نہ کیا اور کہا کہ کیا تو نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے ؟ یہاں تک کہ وہ (سب) مدینہ منورہ پہنچے اور عرض کیا اسے اللہ کے رسول اس نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! جس چیز پر تم اجرت لیتے ہو کتاب اللہ اس کی زیادہ حق دار ہے (کہ اس پر اجرت لی جائے) (٢٨) امام احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں جید سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن جابر (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تجھ کو قرآن مجید میں سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورة نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیوں نہیں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا (وہ ہے) فاتحۃ الکتاب اور میں گمان کرتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ اس سورت میں ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔ (٢٩) حضرت سائب بن یزید (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاتحۃ الکتاب کے ساتھ میرے اوپر دم کیا تھوکتے ہوئے (یعنی پھونک میں تھوک کے ذرے بھی تھے) ۔ (٣٠) سعید بن منصور نے سنن میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب زہر کے لئے شفا ہے۔ (٣١) ابو سعید و ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح مرفوعا روایت ہے۔ (٣٢) حضرت عبد المالک بن عمیر (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب ہر بیماری کی شفا ہے۔ (٣٣) حضرت سلیمان (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کچھ صحابہ بعض غزوات میں ایک ایسے آدمی پر گزرے جس کو سر درد کی تکلیف تھی کسی صحابی نے اس کے کان میں ام القرآن (یعنی سورة فاتحہ) پڑھی تو وہ اچھا ہوگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ام القرآن ہے اور یہ ہر بیماری کی شفا ہے۔ (٣٤) حضرت خارجہ بن الصلت التمیمی (رح) اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے چچا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے پھر آپ کے پاس سے ہو کر واپس لوٹے تو ایک قوم پر ان کا گزر ہوا جن میں ایک مجنون آدمی تھا جو لوہے سے بندھا ہوا تھا اس مجنون کے گھر والوں نے کہا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے کہ جس سے اس (مریض) کا علاج ہوجائے۔ کیونکہ تمہارے ساتھی (یعنی تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیر کو لائے ہیں۔ ان کے چچا فرماتے ہیں کہ میں نے (اس مریض) پر تین دن تک سورة فاتحہ پڑھی ہر دن دو مرتبہ صبح اور شام کو میں اپنے تھوک کو جمع کرکے اس پر تھوکتا تھا تو وہ اچھا ہوگیا (اور) انہوں نے مجھے (اس کے بدلے میں) سو بکریاں دیں۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ سارا واقعہ بتایا تو آپ نے فرمایا اس کو کھالے جو باطل جھاڑ پھونک کے ساتھ کھاتا ہے (اس کے لئے جائز نہیں) (٣٥) بزار نے اپنی سند میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تو اپنی کروٹ کو اپنے بستر پر رکھے (یعنی سونے لگے) اور تو سورة فاتحہ اور لفظ آیت ” قل ھو اللہ احد “ پڑھ لے تو تو موت کے علاوہ ہر چیز سے امن میں ہوجائے گا۔ (٣٦) امام طبرانی نے الاوسط میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص ام القرآن (یعنی سورة فاتحہ) اور لفظ آیت ” قل ھو اللہ احد “ پڑھ لے تو گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا۔ (٣٧) امام عبد ابن حمید نے اپنی سند میں اور الفریابی نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ فاتحہ الکتاب (ثواب کے اعتبار سے) تہائی قرآن (کے برابر) ہے۔ (٣٨) امام عبد ابن حمید نے اپنی مسند میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ فاتحۃ الکتاب دو تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (ثواب کے اعتبار سے) (٣٩) حاکم نے روایت نقل کی ہے اور اسے صحیح بھی کہا ہے اور ابوذر ہر وی نے فضائل میں، بیہقی نے الشعب میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں تھے ایک جگہ آپ اترے تو آپ کے صحابہ (رض) میں سے ایک آدمی آپ کے پہلو میں (آپ کے ساتھ) چلا آپ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا میں تجھ کو افضل القرآن کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ پھر آپ نیت اس پر لفظ آیت الحمدللہ رب العالمین (یعنی فاتحۃ الکتاب) پڑھی۔ (٤٠) ابن الضریس نے فضائل القرآن میں اور بیہقی نے شعب میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز عطا فرما کر اس کے ساتھ مجھ پر احسان فرمایا اور فرمایا کہ بلاشبہ میں نے آپ کو فاتحۃ الکتاب عطا فرمائی اور یہ عرش کے خزانوں میں سے ہے پھر میں نے اس کو اپنے اور آپ کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کیا ہے۔ (٤١) حضرت اسحاق بن راہویہ (رح) اپنی سند میں حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے فاتحۃ الکتاب کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ہم کو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا کہ بلاشبہ یہ (سورۃ) عرش کے نیچے خذانے میں سے اتاری گئی۔ (٤٢) حاکم نے روایت کیا ہے اور انس نے اسے صحیح بھی کہا ہے اور ابن مرویہ نے اپنی تفسیر میں، ابوذر الہروی نے فضائل میں بیہقی نے شعب میں حضرت معقل بن یسار (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مجھے سورة البقرۃ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے سے عطا کی گئی اور مفصل سورتیں زائد عطیہ ہیں۔ (٤٣) امام دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت کیا ہے کہ فاتحہ الکتاب اور آیۃ الکرسی جب کوئی بندہ ان دونوں کو کسی گھر میں پڑھے گا تو اس دن ان کو کسی انسان یا جن کی نظر بد نہیں لگے گی۔ (٤٤) امام ابو شیخ نے الثواب میں الطبرانی، ابن مرویہ، دیلمی ایضا المقدسی نے المختارۃ میں حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں عرش کے نیچے خزانے میں سے اتاری گئی ان کے علاوہ اور کوئی چیز اس (خزانے) میں سے نہیں اتاری گئی۔ (١) ام الکتاب یعنی سورة فاتحہ۔ (٢) آیۃ الکرسی۔ (٣) سورة البقرہ کی آخری آیتیں۔ (٤) سورة الکوثر۔ ابن جریر نے ابو امامہ (رض) سے موقوفا اسی طرح روایت کیا ہے۔ (٤٥) امام ابو نعیم اور دیلمی نے حضرت ابو الدرداء (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ فاتحہ الکتاب اتنی کفایت کرتی ہے جتنی کفایت قرآن کا کوئی جز نہیں کرتا۔ اور اگر فاتحۃ الکتاب کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں (پورے) قرآن کو رکھ دیا جائے تو البتہ فاتحۃ الکتاب قرآن سے سات گنا زیادہ ہوگا۔ (٤٦) امام ابو عبید نے فضائل میں حضرت حسن (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص فاتحہ الکتاب کو پڑھے تو گویا اس نے توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن مجید کو پڑھ لیا۔ (٤٧) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت حسن (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں نازل فرمائی پھرع ان کتابوں کے علوم کو ان میں سے چار کتابوں یعنی توراۃ، انجیل، زبور اور فرقان میں محفوظ کردیا۔ پھر قرآن مجید کے علوم کو مفصل سورتوں میں محفوظ کردیا پھر مفصل سورتوں کے علوم کو فاتحۃ الکتاب میں محفوظ کردیا تو جو شخص اس فاتحۃ الکتاب کی تفسیر کو جان لے تو گویا اس نے پوری نازل کی ہوئی کتابوں کی تفسیر کو جان لیا۔ (٤٨) امام و کیع نے اپنی تفسیر میں ابن الانباری نے المصاحف میں، ابو شیخ نے العظمۃ میں، ابو نعیم نے الحلیہ میں، حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابلیس چار مرتبہ اونچی آواز سے رویا۔ جب فاتحہ الکتاب نازل ہوئی، جب اس پر لعنت کی گئی۔ جب زمین کی طرف اتارا گیا، اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے۔ دنیوی مصیبت کی وجہ سے رونا شیطانی عمل ہے (٤٩) ابن الضریس نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب لفظ آیت الحمدللہ رب العالمین نازل ہوئی تو ابلیس سخت مشقت میں پڑگیا۔ بلند آواز سے شدید رویا اور ناک سے سخت خراٹے مارنے لگا۔ مجاہد نے فرمایا کہ جو شخص (مصیبت کے وقت) شدید روئے اور سخت خراٹے مارنے لگے تو وہ ملعون ہے۔ (٥٠) امام ابن الضریس نے حضرت عبد العزیز بن ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب فاتحہ الکتاب نازل ہوئی تو ابلیس اونچی آواز سے رویا جیسا کہ لعنت کے دن رویا تھا۔ (٥١) ابو عبیدہ نے حضرت مکحول (رح) سے روایت کیا ہے کہ ام القرآن (یعنی سورة الفاتحہ) قرأۃ ہے اور اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی چیز ہے اور دعا ہے۔ (٥٢) ابو شیخ نے الثواب میں حجرت عطا (رح) سے روایت کیا ہے جب تو کسی حاجت کا ارادہ کرے تو فاتحہ الکتاب کو آخر تک پڑھ انشاء اللہ تیری حاجت پوری ہوگی۔ (٥٣) ابن قانع نے معجم الصحابہ میں حضرت رجاء الغنوی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ شفا طلب کرو تم اس چیز کے ساتھ جس سے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی حمد بیان کی پہلے اس سے کہ اس کی مخلوق اس کی حمد بیان کرے اور اس چیز کے ساتھ شفا طلط کرو کہ جس چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی تعریف بیان کی ہے۔ ہم نے عرض کیا وہ کیا چیز ہے اے اللہ کے نبی ؟ فرمایا کہ وہ لفظ آیت الحمد للہ اور قل ھو اللہ احد ہے جس شخص کو قرآن شفا نہیں دیتا اس کو اللہ تعالیٰ بھی شفا نہیں دیتے۔ (٥٤) امام ابو عبیدہ نے حضرت ابو منہال سیار بن سلامہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی عمر بن الخطاب کے پاس پہنچے اور حضرت عمر (رض) رات میں تہجد پڑھ رہے تھے اور ہر رکعت میں صرف فاتحۃ الکتاب پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اور تکبیر کہتے اور تسبیح پڑھتے پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے جب صبح ہوئی تو اس آدمی نے حضرت عمر (رض) سے یہ ذکر کیا (کہ آپ صرف فاتحۃ الکتاب کیوں پڑھتے تھے ؟ ) تو حضرت عمر (رض) نے جواب دیا کہ تیری ماں ہلاک ہو ! کیا یہ فرشتوں کی نماز نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ کیا فرشتوں کو صرف فاتحہ کے پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے ؟ اور ابن الصلاح (رح) نے بیان کیا کہ بلاشبہ قرآن کا پڑھنا یہ خصوصیت ہے جو صرف بشر کو دی گئی ہے۔ سوائے فرشتوں کے اور بلاشبہ وہ فرشتے حریص ہوتے ہیں۔ اس قرآن کو انسان سے سننے کے لئے۔ (٥٥) امام ابن الضریس نے حضرت ابو قلابہ (رح) سے مرفوعا روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص حاضر ہوا (نماز میں) جب امام نے فاتحہ الکتاب شروع کی۔ وہ اس طرح سے ہے گویا کہ وہ فتح کے وقت حاضر ہوا اللہ کے راستے میں۔ اور جو شخص ایسے وقت میں حاضر ہوا کہ امام فاتحۃ الکتاب ختم کرچکا تھا۔ تو وہ اس طرح سے ہے گویا کہ وہ ایسے وقت میں غنیمتوں پر حاضر ہوا یہاں تک کہ ان کو تقسیم کردیا گیا۔ (٥٦) امام ابن عسا کرنے تاریخ دمشق میں حضرت شداد بن اوس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی لیٹنے کے لئے اپنے لیٹنے کی جگہ پر آئے تو اس کو ام القرآن (یعنی سورة الفاتحہ) اور ایک اور سورة پڑھ لینی چاہئے۔ کیونکہ (ان دونوں سورتوں کے پڑھنے کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ اس کے ساتھ مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کے ساتھ رہتا ہے جب تک یہ شخص سو کر جاگ نہ جائے۔ ابن عساکر کی روایت ضعیف ہیں۔ (٥٧) امام الشافعی (رح) نے الام میں، ابن ابی شیبہ نے المصنف میں، احمد نے اپنی مسند میں بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عبادہ بن الصامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کی نماز کامل نہیں جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی۔ (٥٨) امام دار قطنی اور حاکم نے حضرت عبادہ بن الصامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ام القرآن دوسری تمام آیات کا عرض ہے لیکن دوسری تمام آیات اس کا عوض نہیں۔ (٥٩) امام احمد اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ وہ نماز جس میں فاتحہ الکتاب نہ پڑھی جائے تو وہ دھوکہ ہے یعنی نامکمل ہے۔ (٦٠) امام مالک نے موطا میں اور سفیان بن عینیہ نے اپنی تفسیر میں، ابو عبیدہ نے فضائل میں اور ابن ابی شیبہ اور احمد نے اپنی مسند میں بخاری نے جزء القرأۃ میں مسلم نے اپنی صحیح میں، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن الانباری نے المصاحف میں، ابن حبان، دار قطنی اور بیہقی نے السنن میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن کو نہ پڑھا تو یہ نامکمل ہے۔ تو یہ نا مکمل ہے، تو یہ نامکمل ہے تین مرتبہ فرمایا یعنی ناقص ہے ابو السائب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوہریرہ (رض) میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں کیا اس وقت بھی پڑھنی ہے ؟ تو انہوں نے میرے بازو کو حرکت دی اور کہا کہ اے فارسی اس کو اپنے دل میں پڑھ بلاشبہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا ہے۔ اس کا آدھا میرے لئے اور آدھا میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پڑھو تم اس سورة کو بندہ جب کہتا ہے لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین (١) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔ اور بندہ جب کہتا ہے لفظ آیت الرحمن الرحیم (٢) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری تعریف کی۔ اور بندہ جب کہتا ہے لفظ آیت ملک یوم الدین (٣) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بندگی بیان کی۔ اور (جب) بندہ کہتا ہے لفظ آیت ایاک نعبد وایاک نستعین (٤) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان (آدھا آدھا) ہے۔ اس کا اول میرے لئے ہے اور اس کا آخر میرے بندے کے لئے ہے اور اس کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ اور جب بندہ کہتا ہے کہ لفظ آیت اھدنا الصراط المستقیم (٥) صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین (٧) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے۔ اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ سورۃ فاتحہ اللہ اور بندے کے درمیان منقسم ہے (٦١) امام دار قطنی اور بیہقی نے السنن میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اس نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے۔ جب بندہ کہتا ہے کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے مجھے یاد کیا ہے اور جب بندہ کہتا ہے لفظ آیت الحمد للہ رب العالمین (١) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب (بندہ) کہتا ہے کہ لفظ آیت الرحمن الرحیم (٢) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف کی۔ جب (بندہ) کہتا ہے لفظ آیت ملک یوم الدین (٣) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب (بندہ) کہتا ہے لفظ آیت ایاک نعبد وایاک نستعین (٤) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے اور سورة کا آخری حصہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ (٦٢) ابن ابی جریر اور ابن ابی حاتم نے اپنی اپنی تفسیر میں حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاتحۃ الکتاب پڑھی پھر فرمایا کہ تمہارے رب تعالیٰ فرماتے ہیں یہ ابن آدم پر سات آیتیں اتاری گئی تین میرے لئے ہیں اور تین تیرے لئے ہیں۔ اور ایک میرے اور تیرے درمیان (آدھی آدھی) ہے۔ پس جو میرے لئے ہے (وہ یہ ہے) لفظ آیت الحمدللہ رب العالمین (١) الرحمن الرحیم (٢) ملک یوم الدین (٣) اور وہ جو میرے اور تیرے درمیان ہے (وہ یہ ہے) لفظ آیت ایاک نعبد وایاک نستعین (٤) تیری طرف سے عبادت ہے اور میری طرف سے تیری مدد کرنا ہے اور وہ جو تیرے لئے وہ ہے (وہ یہ ہے) لفظ آیت اھدنا الصراط المستقیم (٥) صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین (٦) ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (١) امام ابو عبیدہ، ابن سعد نے الطبقات میں، ابن ابی شیبہ، احمد، ابو داؤد، ابن خزیمہ، ابن الانباری نے المصاحف میں، دار قطنی اور حاکم بیہقی، خطیب اور ابن عبد البران دونوں نے کتاب المسئلہ میں حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اس طرح) پڑھا کرتے تھے۔ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین (١) الرحمن الرحیم (٢) ملک یوم الدین (٣) ایاک نعبد وایاک نستعین (٤) اھدنا الصراط المستقیم (٥) صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین (٦) ۔ جدا جدا کرتے ہوئے اس کو ایک آیت کے شمار کرتے تھے۔ ان کو اعراب کی گنتی کی طرح اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بھی ایک آیت شمار کیا لوگوں پر شمار نہ کیا۔ (٢) امام ابن حاتم، طبرانی، دار قطنی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مجھ سے) فرمایا کہ میں مسجد سے نہیں نکلوں گا یہاں تک کہ تجھ کو ایک ایسی آیت یا سورة کے بارے میں خبر نہ دوں جو سلیمان (علیہ السلام) کے بعد میرے علاوہ کسی نبی پر نہیں اتری، راوی کہتے ہیں کہ آپ چل پڑے اور میں آپ کے ساتھ ہولیا یہاں تک کہ ایک پاؤں مسجد کی چوکھٹ کے باہر نکالا اور دوسرا پاؤں مسجد کے اندر باقی رہ گیا۔ میں نے دل میں سوچا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ سورت بتانا بھول گئے ہیں۔ تو آپ اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کون سی چیز کے ساتھ تو قرآن کو شروع کرتا ہے جب تو نماز کو شروع کرتا ہے ؟ میں نے عرض کیا لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم (کے ساتھ) تو آپ نے فرمایا یہی ہے، یہی ہے (یعنی یہی آیت ہے جس کے بارے میں میں، تجھے بتانا چاہتا تھا) پھر آپ مسجد سے باہر تشریف لے گئے۔ (٣) امام ابن الضریس نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ایک آیت ہے۔ (٤) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ شیطان نے لوگوں سے آیۃ کو چرا لیا۔ (یعنی شیطان لوگوں کو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے نہیں دیتا) ۔ (٥) ابو عبید، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ کی کتاب کی ایک آیت سے لوگ غافل ہوگئے۔ جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی ایک (نبی پر بھی) نازل نہیں ہوئی مگر یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) بن داؤد (علیہ السلام) پر اتری تھی وہ آیت لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ (٦) امام دار قطنی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب جبرئیل (علیہ السلام) میرے پاس وحی لے کر آئے تھے کہ سب سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں۔ (٧) امام داؤد، البزار، طبرانی، حاکم (انہوں نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) بیہقی نے المعرفہ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورت کے فضل کو یعنی ایک سورت کو دوسری سے جدا ہونے کو نہیں پہچانتے تھے اور دوسرے لفظوں میں سورت کے ختم ہوجانے کو بھی نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ آپ پر لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی۔ بزار اور طبرانی نے زیادہ کیا کہ جب لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو آپ پہچان لیتے کہ یہ سورة ختم ہوگئی ہے۔ اور دوسری سورة شروع ہوگئی ہے۔ (٩) امام حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح بھی کہا ہے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ مسلمان سورة کے ختم ہونے کو نہیں پہچانتے تھے، یہاں تک کہ لفط آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ پہچان لیتے تھے کہ یہ سورة ختم ہوگئی ہے۔ بسم اللہ ختم سورت کی پہچان ہے (١٠) امام ابو عبیدہ نے حضرت سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں سورة کے ختم ہونے کو نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل وئی۔ جب یہ آیۃ نازل ہوئی تو صحابہ (رض) نے جان لیا کہ یہ سورة ختم ہوگئی اور دوسری نازل ہوئی۔ (١١) امام طبرانی، حاکم، بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب جبریل (علیہ السلام) تشریف لاتے اور لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تو آُ سمجھ لیتے کہ یہ نئی سورة ہے۔ (١٢) امام بیہقی نے شعب الایمان میں الواحدی نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہم دو سورتوں کے درمیان فصل (یعنی جدا جدا ہونے) کو نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی۔ (١٣) امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ وہ نماز میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے جب سورة ختم کرتے تو اس کو پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ بسم اللہ قرآن میں پڑھنے کے لئے لکھی گئی ہے۔ (١٤) امام دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ رضٰ اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ کو جبریل (علیہ السلام) نے نماز سکھائی، کھڑے ہوئے اور ہمارے لئے تکبیر کہی پھر ہر رکعت میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔ (١٥) امام ثعلبی نے حضرت علی ابن زید بن جدعان سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ عبادلہ (یعنی عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمر، اور عبد اللہ بن الزبیر (رض) یہ تینوں حضرات) بلند آواز کے ساتھ اپنی قرأۃ کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع فرماتے تھے۔ (١٦) امام ثعلبی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد میں تھا اچانک ایک آدمی آیا اور نماز شروع کی اور اعوذ باللہ پڑھی اور لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین (١) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ان الفاظ کو) سنا اور فرمایا اے آدمی تو نے اپنی نماز کو کاٹ دیا، کیا تو نہیں جانتا بلاشبہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم سورة الحمد میں سے ہے۔ جس نے اس کو چھوڑ دیا تو گویا اس نے ایک آیت کو چھوڑ دیا اور جس نے ایک آیت کو چھوڑ دیا تو اس پر اس کی نماز فاسد ہوگئی۔ (١٧) حضرت ثعلبی (رح) علیہ، حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ نماز میں کسی سورة کو شروع فرماتے تھے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ جس نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا تو یقینی طور پر اس نے کمی کردی۔ اور فرماتے تھے کہ یہ سبع المثانی کو پورا کرنے والی ہے۔ (١٨) امام ثعلبی نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو چھوڑ دیا تحقیق اس نے کتاب اللہ میں سے ایک آیت کو چھوڑ دیا۔ (١٩) امام شافعی نے الام میں، دار قطنی، حاکم انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے اور بیہقی نے حضرت معاویہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ وہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ان کو نماز پڑھائی تو انہوں نے نماز میں نہ تو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پڑھا اور نہ جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہی جب انہوں نے سلام پھیرا تو مہاجرین اور انصار نے ان کو زور سے آواز دی، اے معاویہ تو نے اپنی نماز میں چوری کی، کہاں گئی بسم اللہ الرحمن الرحیم اور کہاں گئی تکبیر پھر جب اس کے بعد انہوں نے نماز پڑھائی تو اس میں انہوں نے ام القرآن یعنی سورة فاتحہ کے لئے بھی لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور اس سورة کے لئے بھی جو اس کے بعد ہوتی ہے اور تکبیر بھی کہی جب سجدہ کے لئے جھکے۔ (٢٠) بیہقی نے حضرت زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے اور بلاشبہ پہلا وہ شخص جس نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو آہستہ پڑھا۔ عمرو بن سعید العاص (رض) مدینہ منورہ میں تھے اور وہ شرمیلے آدمی تھے۔ (٢١) امام ابو داؤد، ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نماز کو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع فرماتے تھے۔ (٢٢) امام بزار، دار قطنی اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو الطفیل (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب اور عمار (رض) دونوں کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نمازوں میں فاتحۃ الکتاب اور لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔ (٢٣) امام طبرانی نے الاوسط میں دار قطنی اور بیہقی نے حضرت نافع سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ ابن عمر (رض) جب نماز شروع فرماتے تھے (دونوں کے شروع میں) لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے اور فرماتے تھے کہ انہوں نے ایسے ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ (٢٤) امام دار قطنی، حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔ (٢٥) امام طبرانی، دار قطنی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو الطفیل کے طریق سے اور دار قطنی اور حاکم نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھتے ہوئے سنا۔ (٢٦) امام دار قطنی، حاکم اور بیہقی نے حضرت نعیم المجمر سے روایت کیا ہے کہ میں ابوہریرہ (رض) کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا انہوں نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی پھر ام القرآن پڑھی یہاں تک کہ لفظ آیت ولا الضالین پر جب پہنچے اور کہا آمین تو سب لوگوں یعنی سب مقتدیوں نے بھی آمین کہی اور جب وہ سجدہ کرتے تھے تو اللہ اکبر کہتے تھے اور جب جلسہ سے کھڑے ہوتے تھے تو بھی اللہ اکبر کہتے تھے اور جب سلام پھیرا تو فرمایا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلاشبہ میں تم سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہ نماز پڑھتا ہوں۔ (٢٧) امام دار قطنی نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں سورتوں میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔ (٢٨) امام دار قطنی نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کیا ہے کہ (مجھ کو) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو کیسے پڑھتا ہے ؟ میں نے عرض کیا لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین آپ نے فرمایا کہ کہو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ (٢٩) امام دار قطنی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو کیسے قرأت کرتا ہے ؟ میں نے عرض کیا میں لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین پڑھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی کہو۔ (٣٠) امام دار قطنی نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر و عمر (رض) کے پیچھے نمازیں پڑھیں یہ سب حضرات لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ (٣١) امام دار قطنی نے حضرت نعمان بن بشیر سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جبرئیل (علیہ السلام) کعبہ کے پاس میرے امام بنے اور لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھی۔ (٣٢) امام دار قطنی نے حضرت حکم بن عمیر (رض) جو بدری صحابی تھے سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے رات کی نماز میں، صبح کی نماز میں اور جمعہ کی نماز میں بلند آواز سے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی (٣٣) امام دار قطنی نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلند آواز سے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔ سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں ہیں (٣٤) امام ابو عبید نے محمد بن کعب القرظی (رح) سے روایت کیا ہے کہ فاتحۃ الکتاب لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ سات آیتیں ہیں۔ (٣٥) امام بن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں حاکم نے مستدرک میں اور انہوں نے اسے صحیح بھی کہا ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابوذر الہروی نے فضائل میں خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ عثمان بن عفان (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس کے درمیان اور اللہ کے اسم اکبر کے درمیان آنکھ کی سیاہی اور سفید جیسا قرب ہے۔ (٣٦) امام ابن جریر ابن عدی نے الکامل میں ابن مرویہ، ابو نعیم نے الحلیہ میں ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اور ثعلبی نے انتہائی ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ عیسیٰ بن مریم کی والدہ نے ان کو ایک کتاب دی تاکہ اس کو پڑھیں معلم نے ان سے کہا لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھئے عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ بسم اللہ کا کیا معنی ہے ؟ معلم نے کہا میں نہیں جانتا اس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا الباء سے مراد ہے بہاء اللہ والسین سے مراد ہے اس کی ثنا اور میم سے مراد ہے اس کی مملکت اور اللہ سے مراد (جھوٹے) معبودوں کا سچا معبود اور الرحمن سے مراد ہے دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والا اور الرحیم سے مراد ہے آخرت میں رحم کرنے والا۔ ضحاک سے اسی طرح روایت ہے : (٣٧) ابن جریج اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سب سے پہلے جبرئیل (علیہ السلام) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بسم اللہ پڑھیئے اللہ کے ذکر کے ساتھ پڑھیئے اور اللہ تمام مخلوق کی عبادت کا لائق اور عبادت کا مستحق ہے اور الرحمن بروزن الفعلان جو رحمت سے مشتق ہے اور الرحیم سے مراد ہے اس کے ساتھ انتہائی شفقت و رحمت کا مظاہرہ کرنے والا جو اس سے رحم کو پسند کرتا ہے اور اس سے بہت دور ہے جو یہ پسند کرتا ہے کہ اس پر عذاب کو دگنا کیا جائے۔ (٣٨) امام ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے۔ (٣٩) امام ابن ابی شیبہ اور بخاری نے اپنی تاریخ میں، ابن الضریس نے فضائل میں، ابن ابی حاتم نے حضرت جابر بن یزید (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ کا بڑا نام وہ اللہ ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ سارے قرآن میں ہر نام سے پہلے اسی کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے۔ (٤٠) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی الدنیا نے الدعاء میں حضرت شبعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ کا بڑا نام یا اللہ ہے۔ (٤١) ابن جریر (رح) نے حضرت حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ الرحمن اسم ممنوع ہے۔ (٤٢) ابن ابی حاتم نے حضرت حسن (رح) سے روایت کیا ہے الرحیم یہ ایسا (صفاتی) نام ہے کہ لوگ اپنے لئے نہیں رکھ سکتے۔ (٤٣) ابن ابی حاتم نے حضرت ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ الرحمن ساری مخلوق کے لئے ہے اور الرحیم ایمان والوں کے لئے خاص ہے۔ (٤٤) بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ الرحمن سے مراد ہے رفیق (یعنی دوست) اور الرحیم سے مراد ہے مہربانی کرنے والا اپنی مخلوق پر رزق کے ذریعہ سے اور یہ دونوں نام الرحمن الرحیم نرمی اور شفقت پر دلالت کرتے ہیں۔ اور ان دونوں میں سے ایک زیادہ نرمی کرنے والا ہے دوسرے سے۔ (٤٥) امام ابن جریر نے حضرت عطا الخراسانی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے اسم رحمن پر عیب لگایا جائے گا تو الرحمن الرحیم ہوگیا۔ (٤٦) امام بزار، حاکم اور بیہقی نے دلائل میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ میرے باپ نے مجھ سے کہا کہ کیا میں تجھ کو ایسی دعا نہ بتاؤں جو مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی ہے اور کہا کہ یہ دعا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں کو بتائی تھی اگر تیرے اوپر احد پہاڑ کے برابر بھی قرضہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعا کی برکت سے اتار دے گا۔ میں نے عرض کیا ایسی دعا ضرور بتائیے فرمایا تو اس طرح کہہ۔ اللہم فارج الہم کاشف الغم۔ اے اللہ ! بےچینی کو دور کرنے والے اور غم کو زائل کرنے والے۔ اور بزار کے لفظ یہ ہیں : وکاشف الکرب۔۔ بھا عمن سواک۔ ترجمہ : رنج کو دور کرنے والا مجبوروں کی پکار کا جواب دینے والا، دنیا اور آخرت میں مہربانی کرنے والا اور دنیا و آخرت دونوں میں رحم کرنے والا تو مجھ پر رحمت فرما ایسی رحمت جو تیرے سوا سب سے مجھے بےپروا کر دے۔ (٤٧) امام ابن ابی سیبہ نے حضرت عبد الرحمن بن سابط (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے اور ان کلمات کو سکھایا کرتے تھے وہ کلمات یہ ہیں : اللہم فارج الہم۔۔ بھا عمن سواک۔ ترجمہ : اے اللہ ! بےچینی کو دور کرنے والے اور غم کو زائل کرنے والے، رنج کو دور کرنے والے، مجبوروں کی پکار کا جواب دینے والے، دنیا اور آخرت میں مہربانی کرنے والے اور دنیاو آخرت میں رحم کرنے والے تو مجھ پر رحمت فرما ایسی رحمت جو مجھ کو تیرے سوا ہر رحمت سے بےپروا کر دے۔ (٤٨) امام ابن ابی شیبہ نے عبد الرحمن بن سابط (رض) علیہ سے روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے اور ان کلمات کو سکھایا کرتے تھے : اللہم فارج الہم۔۔ رحمۃ من سواک۔ ترجمہ : اے اللہ ! بےچینی کو دور کرنے والے اور غم کو زائل کرنے والے، رنج کو دور کرنے والے، مجبوروں کی پکار کا جواب دینے والے۔ دنیا اور آخرت میں مہربانی کرنے والے۔ اور دنیا و آخرت دونوں میں رحم کرنے والے آج کے دن مجھ پر رحمت فرما ایسی رحمت جو مجھ کو تیرے سوا ہر رحمت سے بےپروا کر دے۔ سورة فاتحہ کی خصوصیت (٤٩) بیہقی نے شعب الایمان میں ابن سلیمان عن الضحاک سے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایک ایسی سورة نازل فرمائی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی یا رسول پر نہیں اتری۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اس سورة کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم فرما دیا ہے وہ سورة فاتحۃ الکتاب ہے جو میں نے اپنے لئے اور اس کے لئے آدھا آدھا کردیا ہے اور ایک آیت ان کے اور میرے درمیان مشترک ہے پھر جب بندہ کہتا ہے کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میرے دو رقت آمیز ناموں کے ساتھ مجھ سے دعا کی ہے ان دونوں ناموں میں سے ایک دوسرے سے زیادہ رقت پر دلالت کرتا ہے تو رحیم، رحمن سے زیادہ نرمی پر دلالت کرتا ہے اور دونوں نرمی پر دلالت کرنے والے ہیں پھر جب میرا بندہ کہتا ہے ” الحمد “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میرا شکر ادا کیا اور میری حمد بیان کی، پھر جب وہ کہتا ہے ” رب العلمین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے گواہی دی کہ بلاشبہ میں رب العالمین ہوں۔ رب ہوں انسانوں کا، جنات کا، فرشتوں کا اور شیاطین کا اور رب ہوں (ساری) مخلوق کا اور رب ہوں ہر چیز کا پھر جب وہ کہتا ہے کہ ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب وہ کہتا ہے ” مالک یوم الدین “ یعنی یوم الدین (سے مراد ہے) یوم الحساب (حساب کے دن کا مالک) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے گواہی دی کہ بلاشبہ میرے علاوہ کوئی اس دن کا مالک نہیں ہے۔ اور جب وہ کہتا ہے ” ملک یوم الدین “ تو تحقیق اس نے میری تعریف بیان کی۔ ” ایاک نعبد “ یعنی اللہ ہی کی میں عبادت کرتا ہوں اور اللہ ہی کو واحد مانتا ہوں ” وایاک نستعین “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے خاص کر میری ہی وہ عبادت کرتا ہے تو یہ حصہ میرے لئے ہے اور خاص کر مجھ ہی سے مدد مانگتا ہے تو یہ حصہ اس کے لئے ہے۔ اور میرے بندے کے لئے ہے وہی جو اس نے (مجد سے) سوال کیا باقی سورة ” اھدنا “ ہم کو سیدھی راہ پر چلا ” الصراط المستقیم “ (یعنی دین السام کی راہ ہر) اس لئے کہ اسلام کے علاوہ جس میں توحید نہ ہو وہ مستقیم نہیں ہے۔ لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “ یعنی نبیوں اور ایمان والوں کا راستہ جن پر اللہ تعالیٰ نے اسلام اور نبوت کے ساتھ انعام فرمایا۔ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ ہم کو ہدایت دے ان لوگوں کے دین کے علاوہ جن پر تیرا غصہ ہوا اور وہ یہود ہیں ولا الضالین اور وہ انصاری ہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے بعد ان کو گمراہ کردیا اور ان کے گناہوں کے سبب اللہ تعالیٰ ان پر غصہ ہوا لفظ آیت ” وجعل منھم القردۃ والخنازیر وعبد الطاغوت اولئک شر مکانا “۔ (یعنی اور ان میں سے بعضوں کو بندر بنا دیا اور بعضوں کو سور اور جنہوں نے بندگی کی شیطان کی وہی لوگ بدتر ہیں درجہ میں) دنیا اور آخرت میں یعنی بدتر درجہ ہے آگ سے لفظ آیت واضل عن سواء السبیل اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے ایمان والوں کے مقابلے میں یعنی بہت بہکے ہوئے ہیں ہدایت کے راستے سے مسلمانوں کے مقابلہ میں فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا جب امام لفظ آیت ” ولا الضالین “ کہے تو تم آمین کہو اللہ تعالیٰ تم سے محبت فرمائیں گے۔ فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یامحمدیہ (سورۃ) تیرے لئے بھی نجات کا باعث ہے اور تیری امت کے لئے نجات کا باعث ہے آگ سے اور اس شخص کے لئے بھی نجات کا باعث ہے آگ سے جو تیری تابعداری کرتے ہوئے تیرے دین پر چلے۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا رقیقان کہنا تصحیف ہے اصل میں رفیقان ہے اور الرفیق، اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے۔ (٥٠) امام ابن مردویہ اور ثعلبی نے حضرت جابر عن عبد اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو بادل مشرق کی طرف بھاگ گئے اور ہوا ٹھہر گئی اور سمندر جوش میں آگیا اور چوپائے ہمہ تن گوش ہو کر سننے لگے شیاطین پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت اور جلال کی قسم کھائی کہ جس چیز پر بسم اللہ پڑھی جائے گی تو میں اس میں برکت ڈالوں گا۔ (٥١) امام وکیع اور ثعلبی نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ جو شخص یہ ارادہ کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ان انیس فرشتوں سے بجات دے (جو دوزخیوں کو دوزخ کی طرف دھکیلیں گے) تو اس کو چاہئے کہ بسم اللہ پڑھے تاکہ اللہ تعالیٰ ہر حرف کے بدلے میں جنت کر دے۔ (٥٢) دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ بلاشبہ استاد جب بچے کو کہتا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ تو استاد کے لئے بچے کے لئے اور اس کے ماں باپ کے لئے دوزخ سے چھٹکارا لکھ دیا جاتا ہے۔ (٥٣) ابن السنی نے عمل الیوم واللیلہ میں اور دیلمی نے حضرت علی (رض) سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ جب تو ایسی مصیبت میں پڑجائے کہ جس سے خلاصی مشکل ہو تو لفظ آیت ” بسم اللہ الرحمن الرحیم لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلمی العظیم “ پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ ان مصیبتوں کی قسموں میں سے جس کو چاہے دور فرما دیں گے۔ (٥٤) امام الحافظ نے عبد القادر الرہاوی سے الاربعین میں حسن سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہر وہ کام جو اہمیت والا ہو بسم اللہ سے نہ شروع کیا جائے تو وہ بےبرکت ہوتا ہے۔ (٥٥) امام عبد الرزاق نے المصنف میں اور امام ابو نعیم نے الحلیہ میں حضرت عطا (رح) سے روایت کیا ہے کہ رات کو گدھا جب رینگنے لگے تو تم کہو لفظ آیت ” بسم اللہ الرحمن الرحیم اعوذ باللہ من الشین الرجیم “۔ (٥٦) امام ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت صفوان بن سلیم (رض) سے روایت کیا ہے کہ جن انسانوں کے سامان اور ان کے کپڑوں سے نفع حاصل کرتے ہیں بس جو کوئی تم میں سے (پہننے کے لئے) کپڑا اٹھائے یا (اتار کر) رکھے تو اس کو چاہئے کہ بسم اللہ پڑھے بلاشبہ اللہ کا نام مہر لگانے والا ہے یعنی جنات کو روکنے والا ہے۔ (٥٧) امام ابو نعیم اور دیلمی نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو پہاڑوں نے آواز بلند کی یہاں تک کہ مکہ والوں نے اس کی آواز کو سنا اور کہنے لگے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑوں پر بھی جادو کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دھواں بھیجا یہاں تک کہ اس نے اہل مکہ پر سایہ کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص یقین کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے گا کہ پہاڑوں نے بھی اس کے ساتھ تسبیح بیان کی مگر اس کو یہ آواز سنائی نہیں دے گی۔ (٥٨) دیلمی نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے گا تو اس کے لئے ہر حرف کے بدلے میں چار ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس سے چار ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی اور اس کے چار ہزار درجات بلند کر دئیے جائیں گے۔ (٥٩) امام ابن ابی شیبہ، بخاری، دار قطنی، حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرأۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ (قرأۃ) مد کے ساتھ ہوئی تھی۔ پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا (جس میں) بسم اللہ پر مد کی اور الرحمن پر مد کی اور الرحیم پر مد کی۔ (٦٠) امام الحافظ ابوبکر البغدادی نے الجامع میں ابو جعفر محمد بن علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہر کتاب کی کنجی ہے۔ (٦١) الخطیب نے الجامع میں حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس کتاب کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ ہو وہ ٹھیک نہیں ہوتی اگرچہ شعر ہوں۔ (٦٢) امام الخطیب نے حضرت زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ سنت قائم ہوچکی کہ شعروں میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نہ رکھا جائے۔ (٦٣) ابن ابی شیبہ، ابوبکر ابن ابی داؤد اور الخطیب نے الجامع میں حضرت شبعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ شعر کے آگے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کے لکھنے کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ (٦٤) الخطیب نے حضرت شبعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ سب اہل علم جمع ہوگئے ہیں اس بات پر کہ شعر سے پہلے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نہ لکھا جائے۔ (٦٥) ابو عبید نے اور ابن ابی شیبہ نے المصنف میں حضرت مجاہد اور شبعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ دونوں اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ جنبی آدمی لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو لکھے۔ (٦٦) امام ابو نعیم نے تاریخ اصفہان میں اور ابن ابی اشتہ نے المصاحف میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس شخص نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو عمدہ طریقے پر لکھا اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیں گے۔ (٦٧) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے خوبصورت اور ترتیب کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پڑھا اس کی مغفرت کردی گئی۔ (٦٨) امام السلفی نے اپنے جزو میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مت کھینچو باء کو میم کی طرف یہاں تک کہ سین ختم ہوجائے۔ (٦٩) خطیب نے الجامع میں حضرت زہری (رح) سے روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو کھینچنے سے منع فرمایا ہے۔ (٧٠) الخطیب اور ابن اشتہ نے المصاحف میں حضرت محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ باء کو میم کی طرف کھینچنا ناپسند فرماتے تھے یہاں تک کہ سین لکھی جائے۔ (٧١) دیلمی نے مسند الفردوس میں اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تو بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھے تو اس میں سین کو اچھی طرح واضح کر۔ (٧٢) الخطیب نے الجامع میں اور دیلمی نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھے تو اس کو چاہئے کہ الرحمن کو لمبا کرے۔ (٧٣) امام دیلمی نے حضرت معاویہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اے معاویہ دواۃ کو نیچے رکھ دے قلم کو جھکا دے اور باء کو سیدھا لکھ اور جدا کر سین کو اور گہرا کر میم کو اور خوبصورت بنا (لفظ) اللہ کو اور الرحمن کو لمبا کر۔ اور عمدہ بنا الرحیم کو اور اپنے قلم کو دائیں کان پر رکھ تو یہ تیرے لئے یاد دلانے والا ہے۔ (٧٤) الخطیب نے حضرت مطر الوراق (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کاتب تھے تو آپ نے ان کو حکم فرمایا کہ باء اور سین کے درمیان حروف کو جمع کرو اور سین کو میم کی طرف لمبا کرو۔ پھر حروف اللہ، الرحمن الرحیم کو جمع کرو۔ اور اپنے لکھنے اور قرأت میں اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے کسی اسم کو لمبا نہ کرو۔ (٧٥) امام ابو عبید نے حضرت مسلم بن یسار (رض) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح ” بسم “ لکھنا ناپسند فرماتے تھے جب لکھنا شروع کرے اور سین کو ساقط کر دے۔ (٧٦) امام ابو عبید نے حضرت ابن عون (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ابن سیرین کے لئے (بسم) لکھا تو انہوں نے کہا ٹھہر جا تو ” سین “ لکھ اور فرمایا کہ ڈرو تم اس بات سے کہ تم میں سے کوئی گناہ کرے اور اس کو خبر بھی نہ ہو۔ (٧٧) امام ابو عبید نے حضرت عمران بن عون (رح) سے روایت کیا ہے کہ عمر بن عبد العزیز (رح) نے ایک کاتب کو مارا جس نے میم کو سین سے پہلے لکھ دیا اس سے پوچھا گیا کہ تجھے امیر المؤمنین نے کیوں مارا ؟ تو اس نے کہا کہ سین نہ لکھنے کی وجہ سے مارا ہے۔ (٧٨) امام ابن سعد نے طبقات میں حضرت جویریہ بنت اسماء (رض) سے روایت کیا ہے کہ عمر بن عبد العزیز (رح) نے کاتب کو ” بسم ’“ لکھنے کی وجہ سے معزول کردیا جس میں اس سے سین نہیں بنایا تھا۔ (٧٩) ابن سعید نے حضرت محمد بن سیرین سے روایت کیا ہے کہ اس کو ناپسند کرتے تھے کہ باء کو لکھا جائے پھر اس کو میم کی طرف لمبا کیا جائے حتی کہ پہلے سین لکھی جائے اور اس میں سخت بات فرماتے تھے۔ بسم اللہ لکھنے کا طریقہ (٨٠) الخطیب نے حضرت معاذ بن معاذ (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے سوار ایک آدمی کے پاس لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو لکھا تو میں نے باء کا لمبا کیا اور سین کو نہ لکھا تو اس نے میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور کہا کہ محمد اور حسن (رح) اس کو ناپسند کرتے تھے۔ (٨١) خطیب نے حضرت عبد اللہ بن صالح سے روایت کیا ہے کہ میں نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم اور باء کو اتنا بلند کردیا کہ وہ طویل ہوگئی تو اس کو لیث (رح) نے منکر جانا اور ناپسند کیا اور فرمایا کہ معنی بدل گیا یعنی یہ لام ہوگا۔ (٨٢) امام ابوداؤد نے مراسیل میں حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کتاب کے قریب سے گزرے جو زمین پر پڑی ہوئی تھیتو آپ نے اس نوجوان سے فرمایا کہ جو آپ کے ساتھ تھا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ تو اس نے کہا لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہے آپ نے فرمایا کہ لعنت ہو جس نے ایسا کیا بسم اللہ کو اس کی جگہ میں رکھو یعنی اونچی جگہ میں (٨٣) خطیب نے تالی التلخیص میں حضرت انس (رض) سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ جو شخص ایسے کاغذ کا اٹھائے جو زمین میں پڑا ہوا ہو اور اس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہو اس کی تعظیم کرتے ہوئے ایسا نہ ہو کہ وہ پاؤں کے نیچے روندا جائے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ صدیقین میں لکھا جائے گا اور اس کے والدین سے عذاب کی تخفیف کردی جائے گی اگرچہ وہ کافر ہوں۔ (٨٤) امام ابن ابی داؤد نے البعث میں ام خالد بن خالد بن سعید بن العاص (رض) سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ میں پہلی عورت ہوں جس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو لکھا۔ (٨٥) امام ثعلبی نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تو فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم تو قریش نے کہنے لگے اللہ تعالیٰ تیرا منہ چھوٹا کر دے۔ (٨٦) امام ابو داؤد نے اپنی مراسیل میں حضرت سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے اور مکہ والے کیونکہ مسیلمۃ الرحمن کا پکارا کرتے تھے تیو کہنے لگے کہ بلاشبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یمامہ کے معبود کو پکارتے ہیں تو اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آہستہ پڑھنے کا حکم فرمایا گیا اور پھر آپ نے اس کو بلند آواز سے نہ پڑھا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ (٨٧) طبرانی نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے تو مشرکین اس کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یمامہ کے معبود کو یاد کرتے ہیں کیونکہ مسیملہ الرحمن کے نام سے منسوب کیا جاتا تھا۔ تو جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلند آواز سے نہ پڑھنے کا حکم فرمایا گیا۔ (٨٨) طبرانی نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر و عمر (رض) یہ تینوں حضرات بسم اللہ الرحمن الرحیم کو آہستہ پڑھا کرتے تھے۔ (٨٩) امام ابن ابی شیبہ، ترمذی انہوں نے اس کو حسن بھی کہا ہے نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن مغفل (رض) سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے میرے باپ نے سنا میں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پڑھا اونچی آواز سے تو میرے والد نے فرمایا اے میرے بیٹے ! یہ کیا بدعت ہے ؟ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر و عمر اور عثمان (رض) کے پیچھے نمازیں پڑھیں اور ان میں سے کسی کو بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھتے نہیں سنا۔ (٩٠) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بلند آواز سے پڑھنا یہ دیہاتیوں کی قرأۃ ہے۔ (٩١) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابراہیم (رح) سے روایت کیا ہے کہ امام کا بسم اللہ الرحمن الرحیم کا بلند آواز سے پڑھنا بدعت ہے۔ (٩٢) امام ابن الضریس نے حضرت یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت حسن (رح) فرماتے تھے کہ قرآن مجید کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو لکھو اور ہر دو سورتوں کے درمیان بھی لکھو۔
Top